بدھ، 31 جنوری، 2024

برادران اسلام سے تعاون کی اپیل

0 تبصرے
برادران اسلام سے تعاون کی اپیل


نام :- مدرسہ عربیہ تجوید القران۔
پتہ:-مسونی کالنجر باندھ یو پی۔
بانی:-مولانا صدیق صاحب رحمت اللہ علیہ۔
ناظم:-مولانا سید عبدالتواب صاحب۔
اساتذہ: +40
ملازمین:-+7
مقامی طلبہ:  200+
بیرونی طلبہ650+ :
الحاق:-+11
مدرسہ سے منسلک:- فاطمۃ الزہرا للبنات۔
طلباء کے کثیر تعداد کی وجہ سے فرسٹ فلور کی تعمیراتی کام جاری ہے۔
لمبائی: :- 250 فٹ۔
چورائی:- 40 فٹ۔
بیم:- 1450 فٹ۔

کل :11900 اسکوائر فٹ کی چھت ڈھلائی ہونی ہے۔

جس میں کل لاگت +2950000 ہے۔

ذرائع آمدنی:-آپ سبھی احباب و اصحاب خیر۔

ہمدردان قوم و ملت۔
مدارس اسلامیہ حفاظت دین ،فروغ دین اور اشاعت اسلام کا ذریعہ ہیں، تقریبا ڈیڑھ سو سالوں سے تو خود ہندوستان بلکہ بر صغیر میں ان مدارس کے جو خدمات اور کردار ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے ۔ موجودہ ہندوستان میں اسلامی تہذیب کے جو بھی جلوے ہمیں نظر آتے ہیں، وہ انہی مدارس کی دین ہیں اور انہیں دینی اداروں کا فیض ہے ۔ انہیں دینی اداروں نے اسلام کی فکری سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایسے افراد اور ایسی ٹیم تیار کی ہے، جو اپنے زمانہ کے چیلنجوں کا ڈٹ کر، آنکھ سے آنکھ ملا کر اور سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہر طرح کی قربانی دے کر امت کے  ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا حوصلہ رکھتی ہے ،آپ ماضی قریب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے اور تاریخ کے ان اوراق کا مطالعہ کرلیجئے آپ کو معلوم ہوگا کہ جب بھی اسلام کے خلاف کوئی آندھی اٹھی تو ان مدارس اور دینی جامعات کے فارغین اور فضلاء نے ہی اس باد سموم اور باد سرسر کا مقابلہ کیا اور امت محمدیہ کو راہ حق کی رہنمائی کی ۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا

ہاں :- یہ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے،جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں اور عالم اسلامی کا یہ بجلی گھر ہے ، جہاں سے اسلامی آبادی میں، بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے اور جہاں قلب و نگاہ اور ذھن و دماغ ڈھلتے ہیں انہیں میں سے
تصویر میں مذکور یہ مدرسہ بہت ہی خوبصورت دینی ادارہ ہے میں نے یہاں کے جیسا دینی ماحول کہیں پہ نہیں دیکھا عشاء کے بعد سنتوں کا اجرا فجر کے بعد یاسین مع تسبیحات مغرب کی اذان سے پہلے امت کے لیے رو رو کر دعائیں مانگنا اصلاح امت کے لیے ہفتہ واری گشت اساتذہ وطلبہ کے درمیان پدری رشتہ ناظم واساتذہ کے مابین برادرانہ شفقت۔
صبح میں بچوں کے ساتھ مدرسہ سے متصل پارک میں ورزش کرنا۔
عصر کے بعد اساتذہ کا بچوں کے ساتھ مدرسہ کے میدان میں کھیلنا۔
یقینا ایسے مدارس امت کا ایک عظیم سرمایہ ہے
اور اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا امت کی ذمہ داری ہے اور اخرت کے لیے صدقہ جاریہ بھی۔
وَأَنفِقُواْ مِن مَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ۔


جمعہ، 26 جنوری، 2024

درخت اس کے پھل سے پہچانا جاتا ہے

0 تبصرے

درخت اس کے پھل سے پہچانا جاتا ہے
آپ کہتے ہیں، کہ آپ کے رسولؐ کی سیرت سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ، ستھری اور روشن، بے لوث وبے داغ ہوئی ہے۔ اور راستی وراستبازی، امانت ودیانت، عِلم وعفو، صبروتحمل، فیاضی وہمدردی، نرمی ولینت، شفقت ورحمت، زہد وتقویٰ، پارسائی وپاکبازی، نیکی ونیک نفسی، ایثار وبے نفسی، ہرصنف اخلاق، ہرشعبۂ روحانیت کے جوہر، کمال اور انتہائے کمال پر رسول اسلام ﷺ کی مبارک زندگی میں مل جاتے ہیں۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے اور اپنی جگہ پر حرف بہ حرف صحیح ہے۔ لیکن سوال یہ ہے ، کہ منکر سے اس کا اقرار کیونکر کرائیے گا؟ جس نے اب تک آپ کے رسولؐ کو نہ جاناہے ، نہ پہچاناہے، اور اسی لئے نہ مانا ہے، وہ آخر کیونکر جاننے ، پہچاننے، اور ماننے لگے؟
کیا آپ عیسائیوں سے یہ توقع رکھتے ہیں، کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فضائلِ اخلاق کی تلاش میں کلام مجید کی تلاوت شروع کردیں گے؟ کیا آپ ہندوؤں سے یہ اُمید رکھتے ہیں، کہ وہ دیوبند کے شیخ الحدیث کی خدمت میں آکر بخاری ومسلم، ترمذی وابو داؤد کا درس لینے لگیں گے؟ کیاآپ کا یہودیوں سے متعلق یہ خیال ہے، کہ وہ ان جواہر پاروں کی جستجو میں مسندِ احمدؔ وطبقات ابن سعدؔ، تاریخ طبریؔ، وسیرت ابن ہشامؔ کی ورق گردانی کریں گے؟ کیا آپ کو سِکھ، جین، اور بودھ مذہب کے پیروؤں سے یہ امید ہے ، کہ وہ سیرت نبویؐ کے واقعات سے باخبر ہونے کی چاٹ میں آپ کے ہاں کی میلاد کی محفلوں میں شریک ہواکریں گے، یا آپ کی مسجدوں میں منبروں کے قریب بیٹھ بیٹھ کر آپ کے واعظوں کی تقریریں سُنا کریں گے؟ کیا آپ کو کسی غیر مسلم سے اس ذوق وشوق، اس طلب وتفتیش، اِس تلاش وتحقیق کی توقع ہے؟
یقین رکھئے، اور بلا شائبہ وشک یقین رکھئے، کہ کوئی غیر مذہب والا آپ کے ہاں کی کتابوں کی اُلٹ پلٹ اس غرض سے نہیں کرے گا۔ وہ آپ کی لکھی ہوئی کتابوں کو نہیں، خودآپ کو پڑھے گا۔ وہ مطالعہ کتابوں کا نہیں، زندہ کتابوں کا کرے گا۔ درخت کے بیج کواُس کے پھل سے پہچانا جاتاہے، تخم کی تحقیق کے لئے کوئی ماہرِ فن باغبانی کے پاس نہیں جاتا۔ رسولؐ کی سیرت کا اندازہ امت کی حالت سے کاجاتاہے، اور کیا جائے گا۔ اب ارشاد ہو، اور ارشاد کسی دوسرے سے نہیں، خود اپنے ہی دل سے ارشادہو، کہ آپ کی زندگی، آپ کا طرز عمل، آپ کا کردار، آپ کی عادتیں اور خصلتیں، آپ کے مشغلے اور دلچسپیاں ، آپ کا مذاق طبیعت ، آپ کی سیرت، منکروں کے دل میں آپ کے رسولِ پاکؐ کی بابت کیا رائے قائم کرائے گی؟ دوسرے اگر اپنی بے بصری کے باعث اُس نور مجسمؐ سے انکار کررہے ہیں، تو کہیں خدانخواستہ خودآپ تواُن کے جرم میں اعانت کے مجرم نہیں بن رہے ہیں؟
مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

 

بدھ، 22 دسمبر، 2021

عشقِ الٰہی، عشقِ حقیقی

0 تبصرے




 

عشقِ الٰہی، عشقِ حقیقی
انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیا سے محبت ہوتی ہے مثلاًاللہ تعالیٰ سے محبت،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ،ماں ، باپ ،بیوی ، بچے،بہن،بھائی، رشتہ دار ،دوست ، گھر،زمین،جائیداد ، شہر، قبیلہ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت ۔جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اوروہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں ۔عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے ا ور تمام محبتوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے ’’اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں ، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ عزیز نہیں ہوجاتا۔‘‘(بخاری ومسلم) اللہ نے اللہ پاک سے شدید محبت کو مومنین کی صفت قرار دیا ہے اورعشق کا خمیر انسان کی روح میں شامل ہے۔
کائنات کی ابتدا عشق ہے اور انسان کی تخلیق عشق کے لیے ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ مبارک سے جب ارواح کو پیدا کیا گیا تو عشقِ الٰہی کا جوہرِ خاص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے ارواحِ انسانی کے حصہ میں آیا۔ لقائے حق کے لیے طالب کے دل میں جذبۂ عشق کا پیدا ہونا لازم ہے۔ دراصل روح اور اﷲ کا رشتہ ہی عشق کا ہے۔ بغیر عشق نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی لقائے الٰہی پاسکتی ہے۔ عشق ایک بیج کی صورت میں انسان کے اندر موجود ہے مگر سویا ہوا ہے۔ جیسے جیسے ذکر وتصور اسم اللہ ذات مشقِ مرقومِ وجودیہ اور مرشد کی توجّہ سے یہ روح کے اندر بیدار ہونا شروع ہوتا ہے ویسے ویسے روح کی اﷲ کے لیے تڑپ اور کشش میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
عشق والوں سے معاملہ بھی جدا ہوتا ہے۔ علمائے محض سے اور طرح بات ہوتی ہے اور عشاق سے دوسرے انداز سے بات ہوتی ہے۔
اللہ کا سب سے بڑا عاشق وہ ہے جسے دنیا میں (اس کی حیات کے دوران) کوئی بطور عاشقِ الٰہی نہ پہچانے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ’’میرے بعض ولی ایسے ہیں جنہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔‘‘ البتہ اللہ جسے چاہتا ہے خود ظاہر کر دیتا ہے لوگوں کی بھلائی کے ارادہ سے۔
اللہ کا عاشق جتنی بھی تکلیف میں ہو‘ لوگوں پر ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس کا چہرہ ہمیشہ ہشاش بشاش رہتا ہے خواہ وہ باطنی یا جسمانی طور پر کتنی ہی اذیت سے کیوں نہ گزر رہا ہو۔ وہ اپنی تکلیف اللہ سے بھی نہیں کہتا بلکہ اس کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔
جب عشقِ الٰہی کی تڑپ اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے اور وہ زوال سکون کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ یعنی جب عشق اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو لقا و وصالِ الٰہی حاصل ہوجاتا ہے اور لقا و وصالِ الٰہی میں ہی عاشق کا سکون ہے۔ لیکن کچھ عاشق ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی منزل پر سکون نہیں آتا وہ ھَلْ مِنْ مَّزِیْد’’کیا مزید کچھ ہے‘‘کی طلب میں سکون سے پھر تڑپ کی طرف سفر کرتے ہیں‘ پھر وصال کا ایک اور درجہ طے کر کے سکون حاصل کرتے ہیں۔ پھر تڑپتے ہیں‘ پھر وصال اور سکون حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ عاشق سے معشوق بن جاتے ہیں۔