جمعرات، 31 دسمبر، 2020

تاریخ کی ابتدا کب اور کس طرح ہوئی؟

1 تبصرے


 تاریخ کی ابتدا کب اور کس طرح ہوئی؟

علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں کہ جب زمین پر انسان کی آبادی وسیع ہونے لگی تو تاریخ کی ضرورت محسوس ہوئی، اس وقت ہبوط آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی جانے لگی، پھر طوفان نوح علیہ السلام سے اس کی ابتدا ہوئی، پھر نار خلیل سے، پھر یوسف علیہ السلام کے مصر میں وزیر بننے سے، پھر موسی علیہ السلام کے خروج مصر سے، پھر حضرت داؤد سے، ان کے فوراً بعد سلیمان علیہ السلام سے پھر حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے۔ اس کے بعد ہر قوم اپنے اپنے علاقہ میں کسی اہم واقعہ کو سن قرار دیتی تھی، مثلاً قوم احمر نے واقعہ تبایعہ کو، قوم غسان نے سد سکندری کو، اہل صنعاء نے حبشہ کے یمن پر چڑھ آنے کو سن قرار دیا، علامہ عینی مزید لکھتے ہیں کہ جس طرح ہر قوم نے اپنی تاریخ کا مدار قومی واقعات وخصائص پر رکھا، اسی طرح اہل عرب نے بھی تاریخ کے لیے عظیم واقعات کو بنیاد بنایا، چناں چہ سب سے پہلے اہل عرب نے حرب بسوس (یہ وہ مشہور جنگ ہے جو بکر بن وائل اور نبی ذہل کے درمیان ایک اونٹنی کی وجہ سے چالیس سال تک جاری رہی) سے تاریخ کی ابتدا کی۔ اس کے بعد جنگ داحس (جو محض گھڑ دوڑ میں ایک گھوڑے کے آگے نکل جانے پر بنی عبس اور بنی ذبیان کے درمیان نصف صدی تک جاری رہی اور ان دونوں جنگوں کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوالعقد الفرید ج3 ص 74 وابن اثیر 384 پھرجنگ غبراء سے، پھر جنگ ذی قار سے پھر جنگ فجار سے تاریخ کی ابتدا کی۔

اس کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم کے اسلاف میں سے ایک بزرگ کعب کے کسی واقعہ سے سالوں اورتاریخ کا حساب لگاتے رہے، پھر اصحاب الفیل کے واقعہ سے، یہاں تک کہ عام الفیل کی اصطلاح ان کے یہاں رائج ہوئی ۔ 

جمعرات، 5 نومبر، 2020

وراثت کی تقسیم کا قانونی طریقہ

0 تبصرے

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی. 

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے 

جمعرات، 3 ستمبر، 2020

ووٹ کی شرعی حیثیت و اہمیت

1 تبصرے

ووٹ کی شرعی حیثیت و اہمیت

ووٹ یوں تو جدید مغربی فکر کی اختراع ہے مگر اپنی معنویت میں یہ کسی بھی طرح اسلام سے نہیں ٹکراتا۔ یہ ایک جامع اصطلاح ہے، ووٹ ایک رائے ہے، سفارش ہے، گواہی ہے، وکالت ہے، ہر ایک معنی میں یہ مکمل اسلامی ہے، کسی مغالطے یا کج فہمی کی وجہ سے اسے غیر اسلامی سمجھ لیا گیا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے ووٹ کی تین شرعی حیثیتیں ہیں:۔
-1 ووٹ ایک امانت ہے۔
-2 ووٹ ایک شہادت ہے۔
-3 ووٹ ایک سفارش ہے (شفاعت)
ووٹ اپنی ہر حیثیت میں اہم ہے، قرآن و حدیث میں ووٹ کی ہر حیثیت پر واضح نص موجود ہیں۔ امانت، شہادت اور سفارش کے موضوع پر قرآن میں ایک سے زاید بار ہدایات و احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۂ مومنون میں اہل ایمان کی صفات کے زمرے میں امانتوں اور عہد کی پاسداری کی تاکید آئی ہے، شہادت کے معاملے کو قرآن میں بار بار مختلف پہلوؤں سے اُجاگر کیا گیا ہے، جس سے اس کی اہمیت بلکہ فرضیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ امانت اور شہادت کے معاملے کو قرآن میں کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ کسی چیز کا قرآن میں تاکیداً موجود ہونے کا مطلب اس کے پرائم اصول ہونے کا اعلان ہے، لہٰذا اسلامی معاشرہ امانت، شہادت اور سفارش (شفاعت) کے سیدھے، سچے اور کھرے اصولوں پر استوار ہوتا ہے۔ آپ قرآن کا بغور مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت آپ پر عیاں ہوگی کہ ووٹ بھی دوسری عبادات یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح عبادت ہے اور صریح عبادت ہے۔ ووٹ بھی نماز، روزہ کی طرح فرض ہے، جس طرح اذان کی آواز سننے پر سارے کام کاج موخر کرکے مسجد کا رُخ کرنے کا حکم ہے اور رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے سارے معمولات رمضان اور روزے کے مطابق کرنے کا حکم ہے بالکل اسی طرح ووٹ کے اعلان کے بعد ووٹ کے لیے نکلنا بھی لازمی ہے۔ آپ کو امانت اہل امانت کے سپرد کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، آپ سے شہادت طلب کی جارہی ہے۔ لہٰذا شہادت (گواہی) چھپانا، نہ دینا یا غلط گواہی دینا یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ حق و باطل، غلط صحیح، سچ اور جھوٹ خلط ملط نہیں کیے جاسکتے۔ صاف، سیدھی اور سچی گواہی مطلوب ہے۔
ایک اور پہلو سے ووٹ کی اہمیت پر قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیجیے، اسلام میں عبادات کے ضمن میں شرائط، چھوٹ اور رعایت کا ایک نظام موجود ہے، نماز کھڑے ہو کر پڑھنا محال ہو تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر محال ہو تو لیٹ کر اور اشارے سے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ وضو کے لیے پانی میسر نہ ہو تو تیمم کیا جاسکتا ہے، سفر میں نماز مختصر ہوجاتی ہے، روزہ سفر یا بیماری کی علت کی وجہ سے چھوڑا جاسکتا ہے، جان کا خطرہ ہو تو توڑا بھی جاسکتا ہے۔ مگر شہادت حق ایسا فریضہ ہے جس کے لیے کوئی رعایت نہیں، اسے ہر حال میں حتیٰ کہ جان کا بھی خطرہ ہو تو اسے ادا کرنا ضروری ہے، ہلکے ہو یا بوجھل نکلو اللہ کی راہ میں۔ ووٹ ڈالنے کا طریقہ بنیادی طور پر مغرب سے آیا ہے اور مغرب میں اسے آزادی اظہار رائے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں آزادی اظہار رائے پر بہت بات کی جاتی ہے، اناپ شناپ، الل ٹپ ہر گفتگو کو اظہار رائے کی آزادی کے اندر بریکٹ کردیا جاتا ہے۔ اس معاملے کا بھی اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔
انسان اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہے، اس کے معانی کئی ہیں؟ اس کا مطلب ہے انسان اپنی رائے داخلی طریقے سے بنانے، سوچنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے آزاد ہے، اگر کسی کی رائے دھونس، دھاندلی، دباؤ، لالچ یا خوف کے خارجی ہتھکنڈوں سے بدلی جائے یا غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط تعبیر کرکے پروپیگنڈے کی دھول اڑا کر رائے کو متاثر کیا جائے تو یہ نہ صرف ناجائز ہوگا بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آزادانہ رائے کے اظہار کو مصنوعی طریقوں سے روکا جارہا ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی ہے، اسلام فرد کی رائے کا، اس کی آزادی کا احترام کرتا ہے، رائے کے اظہار کے فطری ذرائع کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اس پر کسی خارجی عوامل کے ناجائز استعمال کو ناپسند کرتا ہے، آزاد رائے اپنا نتیجہ خود پیدا کرنے کے لیے بھی آزاد ہے، غلط نتیجہ خود بخود رائے بدلنے یا رائے سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، رائے کو خود کار طریقے سے بدلنے کا بھی آزادانہ ماحول درکار ہے، یہ عین فطری عمل ہے، چناں چہ غلط رائے غلط نتیجہ پیدا کرنے کے بعد صحیح رائے کی طرف انسانی میلان آپ سے آپ بڑھے گا۔ انسانی ضمیر اسی طرح صحیح چیز کو اختیار اور غلط کو ترک کرتا چلا جاتا ہے، بس اس ضمیر پر کوئی قدغن غیر فطری طریقے سے نہ لگائی جائے یہ ضمیر بھی اللہ کی تخلیق ہے اور یہ انسانوں کے بھلے کے لیے کار فرما ہے۔ لہٰذا اگر آپ انسان کو صحیح طور پر آزادی اظہار رائے اور آزادی ضمیر کا موقع دیں گے تو وہ کبھی کبھار غلطی کرکے بہرحال صحیح نتیجے پر ازخود جلد پہنچ جائے گا، کیوں کہ اللہ نے اسی طرح اسے تخلیق کیا ہے۔ فالھمٰا فجورھا و تقوھا۔ انسانی ضمیر کسی بھی دور میں غلط پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ رہا ہے۔ انسانی رائے یا گواہی کو بگاڑنے، متاثر کرنے، دھوکا دینے، ڈرانے یا خریدنے سے بچانا عین اسلامی ہے اور ایسا کرنا یا ایسا ہونے دینا غیر اسلامی ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں سچی رائے، سچی گواہی، سچی سفارش آزادانہ ماحول میں سچائی سے سامنے آتی ہے۔ سچائی کے اظہار سے اسلامی معاشرہ نہیں ڈرتا بلکہ وہ تو اسے سامنے لانے کے لیے سارے فطری راستے شرح وبسط کے ساتھ کھولے رکھنے پر اصرار کرتا ہے اور تمام غیر فطری ہتھکنڈوں، پروپیگنڈوں اور راستوں کو ناجائز، حرام قرار دے کر بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ہے مغرب کے تصور اظہار رائے کی آزادی کے مقابلے میں اسلام کا تصور آزادی اظہار۔
اس ضمن میں یاد رہے کہ جدید دنیا میں پروپیگنڈے کو سائنس کا درجہ حاصل ہے۔ پروپیگنڈہ کیا ہے؟ یہ انسانی رائے کو متاثر کرنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ سارا مغرب اس کے ذرائع ابلاغ کے ادارے صبح شام اُسی آزدای کے ساتھ کررہے ہیں جس کا مطالبہ وہ فرد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ فرد کی رائے کو قتل کرنے کا جدید ترین ہتھیار ہے جس نے وہ دھول اُڑائی ہے کہ سچ جھوٹ کے ہاتھوں سرعام شکست سے دوچار ہے بقول پروین شاکر ؂
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا

بہرحال اے ملک کے نوجوانوں اٹھو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرو اور ووٹ ضرور ڈالوں۔۔۔۔۔۔۔

اللهم لا تسلط علينا من لايرحمنا

بدھ، 24 جون، 2020

لَا اِلٰه اِلّااللّهُ

0 تبصرے
لَا الٰه الّا اللّٰه...

ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ، 9 ﺳﯿﺎﺭﮮ ، 27 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ میٹرﺍﺋﭧ ‏ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮ ﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔

ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟

ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔ " ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:5 ‏)

ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ 
" ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " 
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ‏( Barrier ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:20 ‏)

ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " 
ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:40)

ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ:
 " ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:38)

ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ‏(ﭼﮭﺖ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ:
" ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ:47 ‏)

ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ 

ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ " ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ " ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ اس  ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ 
" ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ؟
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ:3 ‏)

ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟

ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ 
ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺍﮰ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ لئے ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟ 
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؟ 
ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ سیکھے؟

ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎتیں۔ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں۔ ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﮕﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کے لئے ﺍپنے ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍے ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﺍﮈﺍﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺴﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭە ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯿﮟ۔ ﺍﻧﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ ؟
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟

ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔

ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮنٹیاں

‏( Ant ‏) ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ موسم سردا ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ تنظیم ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ہیں ﺟﮩﺎﮞ مینیجمینٹ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔

ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

 ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟ 
سوشل مینیجمینٹ  ﮐﮯ ﯾﮧ اصوﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ سکھائے؟

ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ؟
ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ -67 1/2 ﮈﮔﺮﯼ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔

ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟًﺎ ﺟﻨﻮﺑًﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ؟
ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ‏( Nitrous Oxide ‏) ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ کے لئے  ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ ‏( Submarine ‏) ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ

 ﺯﻣﯿﻦ ،ﺳﻮﺭﺝ، ﮨﻮﺍﻭٴﮞ، پہاﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ رکھا ہے تاﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ۔ 

ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮجاتا ہے۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨوتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ جاتا ہے۔ 

ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟

ﮨﻤﺎﺭﮮ Pancreas ‏( ﻟﺒﻠﺒﮯ ‏) ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ منظم باقاعدہ حرکت سے ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ 75ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔ 

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ ‏( Kidneys ‏) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ہیں ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ کے لئے ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ اور ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ 

ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ ‏( Chemical Complex ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ،ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭیٹس ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﮱ ﺗﮭﮯ؟

ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﭩﻮﺭ، ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ سینٹر، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ کے ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔

ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ ‏( Cell ‏) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ پروگرامنگ لکھی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ چلتی ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ پروگرامنگ ہے؟

ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟

ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ ‏( Cell ‏) ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ ؟
ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟

ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟

. . . . لا الٰہ الا اللہ . . . . .

اتوار، 24 مئی، 2020

دعا آزاد نظم کی صورت

0 تبصرے


دعا آزاد نظم کی صورت

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اے میرے معبود !
اے میرے مالک !
اے وہ جس کی توصیف سے وصف کرنے والوں کے توصیفی الفاظ قاصر ہیں
اے وہ جو امیدواروں کی امیدوں کا مرکز ہے
اے وہ جس کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتا
اے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی منزل منتہا ہے
اے وہ جو پرہیزگاروں کے بیم و ہراس کی حدٍ آخر ہے
اے میرے معبود
یہ اس شخص کا موقف ہے جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے
جسے خطاؤں کی باگوں نے کھینچ لیا ہے اور جس پر شیطان غالب آ گیا ہے
جو تیرے حکم سے لاپرواہ ہو رہا ہے
ادائے فرض میں کوتاہی کر رہا ہے
فریب خوردگی کی وجہ سے تیرے منہیات کا مرتکب ہو رہا ہےایسے 
جیسےخود کو تیرے قبضہ قدرت میں وہ سمجھتا ہی نہیں
مسلسل ہوئے جوفضل و احسان وہ مانتا ہی نہیں
مگراب اس پر تیرا ایک اور فضل ہوا
اس گنہگار کی چشم بصیرت وا ہوئی
کوری و بے بصری کے بادل چھٹ گئے
تو اس نےاپنے نفس پر کئے ہوئے اپنے ہی ظلموں کا جائزہ لیا
اپنے پروردگار کی موارد پر اپنی مخالفتوں کا ادراک کیا
اپنے بڑے گناہوں کو واقعی بڑا اور اپنی مخالفتوں کو حقیقتا عظیم پایا
اے میرے معبود!
وہ شرمسار اس حالت میں بھی تجھ سےامیدوار ہے
تیری جانب متوجہ ہے کہ تجھ پر اسے اعتبار ہے
یقین و اطمینان کے ساتھ تیری طرف راغب ہے
اپنی خواہش و آرزو لئے تیری اقدس میں قصد ہے
دل میں تیرا بیشک خوف پر خلوص بے انتہاہے
وہ شرمسار تیری بارگاہ میں اس حالت میں ہے
جیسے
تیرے سوا اسے کسی سے غرض نہ تھی اور نہ ہے
تیرے سوا اسے کسی کا خوف نہ تھا اور نہ ہے
وہ عاجزانہ تیرے اقدس مبارک میں حاضر ہے
فروتنی سے اپنی آنکھیں زمین میں گاڑ لیں ہیں
تذلّل و انکسار سے تیری عظمت کے آگے سر جھکا لیا ہے
اے میرے معبود !
جنہیں تو سب سے بہتر جانتا ہے وہ سارے اپنے راز
ہاۓ درون پردہ عجزونیاز مندی سے تیرے آگے کھول دیۓ ہیں
اے میرے معبود!
جن کا تو اس سے زیادہ حساب رکھتا ہے وہ سارے اپنے گناہ عاجزی سے ایک ایک کرکے بڑی تفصیل سےشمار کئے ہیں
پران بڑے گناہوں سے جو تیرے علم میں ہیں
وہ بڑے مہلک اور ان بد اعمالیوں سے ہیں
جو تیرے فیصلہ کے مطابق رسوا کن ہیں
ایک گنہگار تیری بارگاہ اقدس میں دادو فریاد کرتا ہے
ہائے ۔۔صد حیف ۔۔ وہ گناہ کہ جن کی لذت جاتی رہی ہےاور ان کا وبال ہمیشہ کے لۓ باقی رہ گیا ہے
اے میرے معبود !
اگر تو اس پرعذاب کرے تو وہ تیرے عدل کا منکر نہیں ہوگا
اور اگر تو اس سے درگزر کرے ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ ترس کھائے
تو وہ تیرے عفو کو کوئی عیب اور بڑی بات نہیں سمجھے گااس لۓ کہ تو وہ پروردگار کریم ہے
جس کے نزدیک بڑے سے بڑے گناہ کو بھی بخش دینا کوئی بڑی بات نہیں
اے میرے معبود !
میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں
تیرے حکم دعا کی اطاعت کرتے ہوئے اور تیرے وعدہ کا ایفا چاہتے ہوئے کہ ” مجھ سے دعا مانگو تو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ” حاضر ہوں
اے میرے خدا!
محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت نازل فرما
ان کے صدقے اپنی مغفرت میرے شامل حال کر دے
جس طرح میں اقرار گناہ میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں
گناہوں سے مغلوب اس بندے کو سہارا دے کر اوپر اٹھادے
جس طرح میں نے اپنے نفس کو تیرے آگے خاک مذلّت پر ڈال دیا ہے
اے میرے معبود !
اپنے دامن رحمت سے میری پردہ پوشی فرما دے
جس طرح مجھ سے انتقام لینے میں توں نے صبر و حلم سے کام لیا ہے
اے اللہ !
اپنی اسی بردباری کے صدقے
اپنی اطاعت میں میری نیت کو استوار کر دے
اور عبادت میں میری بصیرت کو قوی کر دے
جو اعمال میرے گناہوں کے میل کو دھو ڈالیں
مجھے ان اعمال کے بجا لانے کی توفیق عطا کر دے
اے میرے معبود !
مجھے دنیا سے جب اٹھائے اپنے نبی محمد (ص) کے آئین پر اٹھانا
میں اپنے چھوٹے بڑے گناہوں پوشیدہ و آشکارا معصیتوں
گزشتہ و موجودہ لغزشوں سے توبہ کرتا ہوں
اس شخص کی طرح توبہ کرتا ہوں
جو دل میں معصیت کا نہ خیال کرے اور نہ گناہ کی طرف پلٹنے کا تصوّر کرے
اے میرے خدا!
توں نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ تو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے
گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
سو آج میری میری توبہ قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے
اور میرے گناہوں کو معاف کر دے جیسا کہ تو نے ذمہ لیا ہے
حسب قرارداد اپنی محبت کو میرے لۓ ضروری قرار دے
اے میرے پروردگار !
میں تجھ سے یہ اقرار کرتا ہوں تیری ناپسندیدہ باتوں کی طرف رخ نہیں کروں گا
میں تجھ سے قول و قرار کرتا ہوں قابل مذمت چیزوں کی طرف رجوع نہ کروں گا
میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ تیری تمام نافرمانیوں کو یکسر چھوڑ دوں گا
میرے خدا!
تو میرے عمل و کردار سے خوب آگاہ ہے
جو بھی تو میری بابت جانتا ہے بس مجھے بخش دے
اپنی قدرت کاملہ سے پسندیدہ چیزوں کی طرف مجھے موڑ دے
اے اللہ !
میرے ذمہ کتنے ایسے حقوق ہیں جو مجھے یاد ہیں
اور کتنے ایسے ہیں جن پر نسیان کا پردہ پڑا ہوا ہے
لیکن
وہ سب کے سب تیری آنکھوں کے سامنے ہیں
ایسی آنکھیں جو خواب آلودہ نہیں ہوتیں
تیرے علم میں ہیں ایسا علم جس میں فروگذاشت نہیں ہوتی
اے میرے معبود !
جن لوگوں کا مجھ پر کوئی حق ہے
اس کا اس کا بوجھ مجھ سے برطرف اور اس کا بار ہلکا کر دے
اور مجھے پھر ویسے گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھنا
اے اللہ !
میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتا سو تمام عمر تیری ہی نگرانی مانگتا ہوں
میں گناہوں سے باز نہیں آ سکتا سو تیری ہی قوت و توانائی مانگتا ہوں
میرے معبود !
مجھے بے نیاز کرنے والی قوت سے تقویت دے
گناہوں سے روکنے والی نگرانی کا میرا ذمہ لے
اے اللہ !
میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس جیسی نہ ہوں
جو توبہ شکنی کرنےوالے اور گناہ ومعصیت کی طرف دوبارہ پلٹنے والے ہوں
اے اللہ
میری توبہ کو ایسی توبہ قرار دے کہ اس کے بعد پھر توبہ کی احتیاج نہ رہے
جس سے گزشتہ گناہ محو ہو جائیں اور زندگی کے باقی دنوں میں سلامتی کا سامان ہو جائے
اے اللہ !
میں اپنی جہالتوں سے عذر خواہ اور اپنی بد اعمالیوں سے بخشش کی طلب گار ہوں
اپنے لطف و احسان سے مجھے پناہ گاہ رحمت میں جگہ دے
اوراپنے تفضل سے اپنی عافیت کے پردہ میں چھپا لے
اے اللہ !
میں توبہ کرتا ہوں ہر اس خلاف ورزی کی
جودل میں گزرنے والے خیالات میں تھی
آنکھ کے اشاروں اور زبان کی گفتگو میں تھی
جو تیرے ارادہ و رضا کے سرا سر خلاف تھی
تیری محبت و رحمت کی حدود سے باہر تھی
اے میرے معبود !
میں تیری بارگاہ میں ایسی توبہ کی امیدوار ہوں
جس سے میرا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر تیری عقوبتوں سے بچا رہے
ان تکلیف دہ عذابوں سے جن سے سرکش خائف رہتے ہیں محفوظ رہے
اے معبود !
میں عالم تنہائی میں تیرے سامنے ہوں
خوف سے میرے دل کی دھڑکن تیز تر ہے
ہیبت سے میرے اعضاء میں تھرتھری ہے
اے پروردگار!
میری حالت پر رحم فرما
مجھے گناہوں نے تیری بارگاہ میں رسوائی کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے
اب اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا نہیں ہے
اور اگر کوئی وسیلہ لاؤں تو شفاعت کے لائق بھی نہیں ہوں
اے میرے اللہ !
محمد اور ان کی آل پر بے شمار رحمت نازل فرما
بس ان کے صدقے اپنے کرم و بخشش کو میری خطاؤں کا شفیع قرار دے
اپنے فضل سے میرے گناہوں کو بخش دے
جس سزا کی میں سزاوار ہوں وہ سزا نہ دے
اپنا دامن کرم مجھ پر پھیلا دے
اپنے پردہ عفوورحمت میں مجھے ڈھانپ لے
اور مجھ سے اس ذی اقتدار کا سا برتاؤ کر
جس کے آگے کوئی ذلیل گڑگڑائے تو وہ اس پر ترس کھائے
اس دولت مند کا ساجس سےکوئی محتاج لپٹے تو وہ سہارادے کر کھڑا کر دے
اے میرے معبود !
مجھے تیرے عذاب سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے
اب تیری قوت و توانائی ہی پناہ دے تو دے
تیرے یہاں کوئی میری سفارش کرنے والانہیں
اب تیرا فضل ہی سفارش کرے تو کرے
میں کیا کروں میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہے
اب تیرا عفو و درگذر ہی مجھے مطمئن کرے تو کرے
میرے معبود !
جو کچھ میں تجھ سے کہہ رہا ہوں
اس لۓ نہیں کہ میں اپنی بداعمالیوں سے ناواقف ہوں
اس لۓ نہیں کہ میں اپنی بدکاریوں کو فراموش کر چکا ہوں
بلکہ اس لۓ پکار رہا ہوں ۔۔کہ ۔۔۔۔
تیرا آسمان اور جو اس میں رہتے سہتے ہیں
تیری زمین اور جو اس پر رہتے بستے ہیں
وہ سب میری توبہ کو سن لیں
وہ سب میری ندامت کو دیکھ لیں
شاید کہ کسی کو میری حالت زار پر رحم آجائے
شاید کہ کسی کا دل میری پریشان حالی پر پسیج جائے
شاید کہ کوئی میرے حق میں دعا کردے
تیری بارگاہ اقدس میں شنوائی ہو جائے
یا ایسی سفارش مجھے میسر ہوجائے
جو درخواست سے زیادہ موثر ہو جائے
اور
تیری رحمت مجھ گنہگارپر مہربان ہو جائے
تیرے غضب سے نجات کی سبیل ہو جائے
تیری خوشنودی کا پروانہ کفیل ہو جائے
اے اللہ !
اگر تیری بارگاہ میں ندامت و پشیمانی ہی توبہ ہے
تو میں پشیمان ہونے والوں میں سب سے زیادہ ہوں
اگر ترک معصیت ہی توبہ و انابت ہے
تو میں توبہ کرنے والوں میں اوّل درجہ پر ہوں
اگر طلب مغفرت گناہوں کو زائل کرنے کا سبب ہے
تو مغفرت کے طلبگاروں میں سے ایک میں بھی ہوں
اے میرے خدا !
تو نے ہی توبہ کا حکم دیا ہے اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے
مجھے دعا پر آمادہ کیا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے
اے رحمان و رحیم
رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر
اور ان کے صدقے میری توبہ کو قبول فرما
مجھے
اپنی رحمت سے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا
تو ہم گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا ہے
رجوع ہونے والے خطاکاروں پر رحم کرنے والا ہے
اے اللہ !
محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت نازل فرما
جن کے وسیلہ سے تو نے ہماری ہدایت فرمائی ہے
جن کے ذریعہ ہمیں گمراہی کے بھنور سے نکالا ہے
اے میرے معبود!
محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت فرما
ایسی رحمت
جو قیامت کے روز اور تجھ سے احتیاج کے دن ہماری سفارش کرے
اس لئے کہ
تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ امر تیرے لۓ سہل و آسان ہے