A Brief Introduction Of Jamia Arabia
Jamia Arabia is a famous & sacred institute of Masuni District Banda Southeast uttar Pradesh. It is situated in the most populated locality nearby Kalinjar fort. This entire locality is suffered with backward of education, religious misery, social contorting & insurgency. Foresight the issue, some sincere and sacred anxious scholars of locality had founded the Madrasa. Its founder was the esteemed & famous Alim Arifbillah hazrat Maulana Siddeeque Sahib Mazahiri (R.A.). In spite of economical distraction, human success, orgasm of the situations, this institute had done the progress in the field of education & doctrine that will be seen pictures and observe in inscription.
Jamia had established under which objectives they are achieved by the grace of Allah. The achievements are able to jealous. At present there are resident about 564 poor and insolvent students, whose expenses of boarding, treatment, meal and others stationery expenses are travelled by Jamia. More than 500 resident children get basic spiritual education. In poor Muslim populated localities Jamia had consequent branches whose expenses also travelled by Jamia. An institute namely “Jamia Fatimatuz-Zahra lil Banat” was founded for the best future of the girls of nation. The girls are given training of sewing, knitting such domestic skills under management of private technical centre. With grace of Allah now there is arrangement of computer education for the Students of Jamia and they are benefitted with it.
The curriculum and education system of Jamia is standard in which with theology there is taught epochal literature like English, Hindi, science, geography and Math. So that the students may be the model and interfluence of “ jaded saleh aur qadeem nafe”. Hundreds of memorizers and alims are giving their spiritual & cognitive services in different countries after getting benefit from this. There is a big campaign to connect people with renaissance of spiritual wisdom and theology. It is the bearer of extraordinary progress with external constructional progress within some countable years. If there is relish of action, the luck is formed.
جامعہ عربیہ تجوید القرآن مسونی کے بارے
میں....
مدرسہ عربیہ تجویدالقرآن مسونی کالنجرضلع باندہ جنوبی اترپردیس ایک
مثالی دینی تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے جو اطراف پنا ایم پی ضلع باندہ کے مابین
پہاڑی علاقہ کالنجر قلعہ کے دامن میں واقع ہے تعلیمی پسماندگی دینی بدحالی اور
معاشرتی فساد و بگاڑ سے دوچار اخلاقیات سے عاری تہذیب و ثقافت سے ناآشنا شریعت سے
نابلد جہالت کی گھٹا توپ تاریکیاں ان سب کے پیش نظر علاقہ کے کچھ فکر مند علمائے
کرام اور مخیراحباب عظام اس کی بنیاد سن ١٤٠٤ھ مطابق 1984ء میں رکھی جن میں روح
رواں مشہور و معروف عالم دین عارف باللہ قاری صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کے
ایما پر بدست حضرت مولانا صدیق صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عمل میں آئی اقتصادی
پریشانی افراد کی کمیابی اور حالات کی ناخوشگواری کے باوجود اس ادارے نے تعلیم و
تربیت کے میدان میں جو گراں قدر دینی خدمات انجام دی ہیں وہ قابل بیاں ہے جامعہ کا
قیام جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا بحمداللہ ان میں قابل رشک اور قابل صد شکر حد تک
کامیابی حاصل کی اس وقت تقریبا 50 مدرسین اسٹاف 580 غریب و نادار طلبہ دارالاقامہ
میں مقیم جن کے قیام و طعام علاج و معالجہ اور دیگر تعلیمی سہولیات ادارہ فراہم
کرتا ہے علاقہ کے غریب مسلم آبادیوں میں مدرسہ کے دس سے زائد ذیلی شاخیں بھی قائم
ہیں جن کے اخراجات جامعہ ہی برداشت کرتا ہے ساتھ ہی قوم کی بچیوں کے بہتر مستقبل
کیلئے فاطمۃ الزہراء للبنات کے نام سے ایک ادارہ قائم جو مدرسہ کے زیر انتظام
بچیوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ سیلائی بنائی اور دیگر گھریلو صنعت کی تربیت
دی جاتی ہے اور انشاءاللہ بچوں کے لئے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا بھی افتتاح ہو جائے گا
جن سے مقیم طلبہ مستفید ہوں گے جامعہ کا نصاب تعلیم اعلی اور معیاری ہے جن میں
دینی علوم کے ساتھ عصری علوم مثلا انگریزی ہندی سائنس جغرافیہ ریاضی جیسے اہم
مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں تاکہ طلبہ قدیم صالح اور جدید نافع کا جامع نمونہ
اورحسین سنگم بن سکے اب تک سیکڑوں علماء وحفاظ اس سے فیض پا کر ملک کے مختلف خطوں
میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ہفتہ وار دعوتی محنتوں اور بیسیوں دینی وعلمی
پروگراموں کے ذریعہ دینی شعور کی بیداری اور عوام الناس کو دین اور علم کے ساتھ
جوڑنے رکھنے کی فکر جاری ہے گویا کہ گنتی کے چند سالوں میں غریبوں اور اصحاب خیر
کی گاڑھی حلال کمائی سے تعمیر کردہ یہ تعلیمی و تربیتی قلعہ اپنے ظاہری تعمیر
وترقی کے ساتھ معنوی لحاظ سے بھی غیرمعمولی ترقیوں کا حامل ہے
[جو ہو ذوق عمل پیدا تو بن جاتی ہے تقدیریں]
[جو ہو ذوق عمل پیدا تو بن جاتی ہے تقدیریں]

0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔