بدھ، 4 دسمبر، 2019

ٹوٹے دل کی صدا۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے

ٹوٹے دل کی صدا۔۔۔۔۔۔

اے اللہ ! میں بے بس ہوں 
لاچار ہوں کوئی تدبیر کام نہیں آتی 
یہ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا 
ایسے دشمنوں کے 
جو مجھ پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں 
اگر تم مجھ سے ناراض نہیں 
تو مجھے کوئی پروا نہیں 
میں تجھے مناتا رہوں گا 
یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے

ایک ایک لفظ درد میں دبا ہوا

ایک ایک جملہ کرب و الم کی تصویر

 دس سال سے 
ہاں مسلسل سال سے 
وہ غم پی رہا تھا 
وہ درد سہہ رہا تھا 
اس مدت کا ایک ایک لمحہ اس کی دل شکستگی کا گواہ ہے 
اس دہ سالہ دور کا ایک ایک منٹ اس کے آنسوؤں کا شاہد ہے 
اس کا دل۔۔۔۔ 
نازک سا دل
 آہ !  کتنی مرتبہ توڑا گیا تھا 
اس دس سالوں میں کتنی مرتبہ وہ راتوں کو رویا تھا کتنی مرتبہ اس کی آنکھوں سے اشک باری ہوئی تھی کتنی مرتبہ اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا مگر آج ۔۔۔۔۔۔۔

آج تو نہ جانے کیا ہوا تھا 

آج تو وہ خود ہی ٹوٹ گیا تھا 

دس سال سے جو دردو کرب اس کے سینے میں دفن تھا 
آج یکلخت وہ زبان پر آگیا 
جسے سارے دنیا کی قوت برداشت دی گئی تھی 
جسے سارے جہاں کے تحمل سے نوازا گیا تھا 
وہ آج شکوہ کناں ہیں ذرا سوچو تو اس کا دل کس طرح پاش پاس کیا گیا ہوگا 
ہزار غم اس نے سہےتھے ہزاروں ذلتیں اس نے برداشت کی تھیں لاکھوں گالیوں نے ان کے سینے میں چھید کئے تھے مگر آج کیا ہوا تھا 
اس قدر بے خود وہ ہوگیا تھا
دعا تو وہ روز مانگتا تھا 
مگر آج کی دعا تو عرش کو ہلا گئی تھی 
آج تو فرشتوں کے دل بھی سینے سے باہر آ گئے تھے آج تو آسمان پر نوحہ ہو رہا تھا فرشتےرو رہے تھے آسمان والے گڑگڑا رہے تھے 
سیارگان فلک تڑپ رہے تھے 
چاند ستارے سبھی ماتم کناں تھے 
آج تو ذات باری کو بھی جلال آ گیا تھا 
عرش کپکپا رہا تھا 
اللہ تعالی غضبناک تھا 
آہ !... کتنی آرزوؤں کے ساتھ وہ گیا تھا 
دل میں میں کتنے ارمان سما ئے وہ یہاں پہنچا تھا مگر سب نے ٹھکرایاتھا 
سب نے دل توڑا تھا 
سب نے پتھر برسائے تھے 
سب نے خون بہایا تھا تھا 
سب نے غم دیا تھا 
ستر اسی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا تھا اس نے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے 
زبان پیاس سے سوکھ گئی تھی 
حلق میں کانٹے پر گئے تھے 
مگر کسی نے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ دیا 
کسی نے دل رکھنے کے خاطر کھانے کو بھی نہ پوچھا کیا کوئی بھی نہ تھا 
جو عزت سے گھر بٹھا تا 
اس کی بات سنتا 
وہ تو بڑے مہمان نواز تھے 
ان کی سخاوت بے مثال تھی 
مگر آج کیا ہوا تھا ان کی سخاوت اور فیاضی کو 
آج ان کے پاس ایک پردیسی کے لئے ایک گلاس پانی بھی نہ تھا 
اور پردیسی بھی کون 
آہ ! ۔اللہ بھی زمانے کے کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے 
وہ وہ تھا جس کے لیے کائنات سجائی گئی تھی 
یہ پانی یہ پھل یا پیڑ پودے سب اسی کے لئے تھے سب اسی کے تھے 
مگر آج اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا 
تھک ہار کر جب کہ سارا بدن چور چور اور قدم لہولہان تھے 
گرتے پڑتے ایک باغ میں جا پہنچا 
ذرا کچھ دم ملا تو چوٹ کھائے ہوئے دل کے زخم الفاظ بن کر زبان سے ر س پڑے 
اور شکستہ دل لڑکھڑاتی زبان اور اشکو کے سیل رواں کے ساتھ اس نے یہ درد بھری دعا مانگی 
اے اللہ میں بے بس لاچار ہوں 
یہ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا ہے 
ایسے دشمنوں کے جو مجھ پر ظلم ستم ڈھاتے ہیں اگر تم مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں 
یہ دعا کیا تھی ؟
زخم جگر اور سوز دل تھا 
جو دعا بن کر لبوں تک آ گیا تھا 
یہ دل کی وہ ٹھیس تھی 
جس نے الفاظ کا جامہ پہن لیا تھا 
مگر الفاظ کب جذبات کی ترجمانی کرسکتے ہیں 
درد کیسے الفاظ میں ڈھل سکتا ہے 
یہ تو انسان کی مجبوری ہے کہ اس کے پاس اظہار جذبات  کے لیے کھوکھلے الفاظ کے سواکوئی سہارا نہیں 
درد تو درد ہے 
نہ سنایا جا سکتا ہے 
نہ دکھایا جا سکتا ہے 
اسے تو بس محسوس کیا جاسکتا ہے 
مگر حیف صد حیف دوسروں کا درد محسوس کرنے والے ہیں ہی کتنے؟ 
ایک وہ تھا جو سب کا درد اپنے سینے میں لئے تھا 
اور خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر 
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے 
کی تصویرمگر اس بے حس دنیاں نےاس کا غم بھی نہ سمجھا 
الٹا اسے غم پہ غم درد پہ درد اور زخم پہ زخم دیا 
اور آج تو ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا 
سنگدلی اور قساوت قلبی کی حد ہو گئی 
آج اسے جو درد دیا گیا اسے بس اس کے دل نے ہی محسوس کیا ہوگا 
کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر ؟
آج جو اس نے دعا مانگی تو اس کی آواز ساتوں آسمان تک گونج اٹھی 
فرشتے حاضر ہوئے اور اس بستی کو الٹنےکی درخواست کی 
مگر ہائےرے قلب رحیم ودل شفیق ! 
وہ اس موقع پر بھی گویا ہوا تو زبان سے محبت کے پھول ہی جہڑے: 
اللہ یہ نادان ہے اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ہو سکتا ہے ان کی آئندہ نسل ایمان لائیں 
آج اس کا دل جس بری طرح پاش پاش کیا گیا تھا اسے جوڑنے کی اب ایک ہی سبیل تھی اس زمین کی چھاتی پر زخم کا کوئی مرہم نہ تھا 
اب تو بس وہی اسے تسکین دے سکتا تھا 
جس نے اسے پیدا کیا تھا 
اور یہی ہوا بھی اللہ تعالی نے اسے تسلی دینے کے لیے ساتوں آسمان سے اوپر اپنے پاس بلا لیا 
جس طرح ظلم کی انتہا بندوں نے کی تھی 
اسی طرح مالک کی طرف سے محبت کی انتہا تھی جس بری طرح زخم لگائے گئے تھے 
اسی درجے کے ٹانکے لگائے گئے 
آج اس کے محبوب نے اسے اپنے پاس بلایا 
سارے درد پھیکے پڑ گئے 
سارے غم ہلکے ہو گئے 
سارے زخم مندمل ہو گئے 
اس نے بھی سب دردکہہ سنایا 
اور محبوب نے بھی ہر دردکا درماں اور ہر زخم کا مرہم پیش کردیا 

محترم قارئین!

 یہ واقعہ حضرت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف کا واقعہ ہے جو اپنے سنگدلی و سختی حیوانیت و درندگی اور دوسری طرف لاچاری وہ بے بسی کی بے نظیر مثال ہے
 اسی طرح اس میں معراج کی طرف بھی اشارہ ہے جو زخم کے بعد مرہم اور شکستگی کے بعد دل بستگی کا سامان تھا 
یہ واقعہ جب یاد آتا ہے تو خون کے آنسو کے ساتھ لاتا ہے 
کوئی اسے پڑھے اور اور اس کی آنکھیں خشک رہیں یہ اس کے بے حس ہونے کی دلیل ہے 
یہ واقعہ ہمارے لئے عبرت کی داستان اور نصیحت کا فرمان ہے۔

 یہ دین بری قربانیوں سے آگے بڑھا ہے 
اور اب بھی قربانیوں سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے 
اس کے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو ہیں اس کے پسینے کے مبارک قطرے ہیں 
ان کے صحابہ کی قربانیاں ہیں 
اس لیے خدارا اسے بر باد نہ ہونے دیں 
اسے ضائع نہ ہونے دیں 
یہ قربانی مانگتا ہے 
اور اس کے بعد ہی فتح وکامرانی ملتی ہے 
ہم اتنی بڑی قربانی دینے کے شاید اہل نہیں تھے اس لیے اللہ تعالی نے بڑی بڑی قربانیاں پہلے ہی لے لیں 
اب ہم سے جتنا ہو سکے ہم بھی اس کی ترقی میں حصہ لیں 
یہی ہماری سعادت ہے 
اس دین کو آج بھی 
بلال رضی اللہ عنہ 
صہیب رضی اللہ عنہ 
عمار رضی اللہ عنہ 
خباب رضی اللہ عنہ 
اور یا سر رضی اللہ عنہ 
کی ضرورت ہے اور بڑے خوش نصیب ہیں وہ جو اس سعادت کے لیے قبول کر لیے جائیں 
ہماری کم فہمی یہ ہے کہ ہم 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ 
حضرت خالد رضی اللہ عنہ 
حضرت سعد رضی اللہ عنہ 
اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہیں 
مگر بلال و خباب رضی اللہ عنہم کو نہیں دیکھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطرہائے اشک وخون کو بھول جاتے ہیں اور پھر تمنا کرتے ہیں عہدے مدینہ کی !
ایں خواب است و جنوں است و محال است

پیام سیرت۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

رسولِ رحمت ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو درخشندہ

1 تبصرے
رسولِ رحمت ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو درخشندہ

آج پورے عالم اسلام میں رسول ِ رحمت، پیغمبر انسانیت، رُوحِ ایماں، جانِ ایماں، شانِ کائنات، مقصودِ کائنات، فخرِ موجودات، سراپا نور کے پیکر میں ڈھلے ’’نُورعلی نُور‘‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی منائی جا رہی ہے‘ آج عجب سماں ہے، چڑیاں چہچہا رہی ہیں، بہاریں مسکرا رہی ہیں، کلیاں کھِل رہی ہیں، شگوفے پھوٹ رہے ہیں، کوئل کُوکُو کر رہی ہے، آبشاروں کے ترنم سے ’’خوشیاں منائو کملی والا آگیا‘‘ کے نغمے بہار بن کر کائنات میں جلوے بکھیر رہے ہیں، ہر طرف نور کی شعاعیں انوار و تجلیات کا منظر پیش کر رہی ہیں، کائنات کا ذرہ ذرہ‘ صحرا صحرا، قطرہ قطرہ، قُلزم قُلزم رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں جھوم جھوم رہا ہے، چرند پرند، حجر و شجر، پھول و کلیاں، چاند و چاندنی، سورج و کرنیں، ستارے و سیارے، دریا و صحرا، کھیت و کھلیان، زمین و زماں، مکین و مکاں، الفاظ و حروف سمیت اس کائنات میں سوائے ابلیس کے آج سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں، خوشیاں کیوں نہ منائیں؟

12ربیع الاول کو اس کریم ہستی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کائنات کو شرف بخشا جس کے پاکیزہ و مُصفیٰ توسل سے ذلت و رسوائی کی اتھاہ گہرائی میں گری اور فرسودہ رسم و رواج کے شکنجوں میں جکڑی عورت کو شرف و عزت اور آزادی نصیب ہوئی، 12ربیع الاول بیٹی کو باپ کی شفقت کا سایہ، بہن کو بھائی کی چھتر چھائوں، بیوی کو شوہر کی طرف سے حفاظت کی چادر، ماں کو ’’اَلَجنۃُ تحتَ اَقدامِ الاُمھَات‘‘ کا مژدہ جاں فزا، اُستاذ کو ’’اِنَما بُعثِتُ مُعَلمَاََ‘‘ کی خوشخبری اور غلام کو آزادی کا پروانہ نصیب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے قبل عورت کو پائوں کی جوتی اور نفرت و گھن کی علامت تصور کیا جاتا تھا مگر جونہی 12ربیع الاول کی پاکیزہ، شفاف شبنمی، اُجلی، نکھری، لطیف و نظیف اور محبت و شفقت کے پیکر میں ڈھلی صُبح صادق طلوع ہوئی تو اسکے ساتھ ہی ہر طرف ظلم و تشدد، جہالت و گمراہی، کثافت و غلاظت، نفرت و تعصب کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا۔

12ربیع الاول کی وہ سہانی صُبح کی بابرکت اور بارحمت گھڑی جس صُبح چمکا طیبہ کا چاند، اُن دل افروز ساعتوں پہ لا کھوں، کروڑوں، اربوں نہیں بلکہ کھربوں درودو سلام کے نذرانے اور عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرنے کو دل کرتا ہے کیونکہ رسول ِ رحمت نبی کریم، رئوف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ پاکیزہ اور کائنات میں سب سے زیادہ قیمتی ترین محل جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اُس کو سجدہ کرنے کیلئے اُس دن محرابِ کعبہ کو بھی جھکنا پڑا اور قیصرو کسریٰ کے محلات پہ جگمگاتے کنگرے، طیبہ طاہرہ مکرمہ محترمہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے محل سے نکلنے والی نورانی شعاعوں کے سامنے تاب نہ لاتے ہوئے گر پڑے تھے اور ہزاروں سال سے روشن بُت کدہ آناََ فاناََ بُجھ گیا تھا۔

رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آمد سے لسانی، علاقائی، نسلی اور قومی چوہدراہٹ کے بُت پاش پاش کر دیئے گئے، افتادہ و پسماندہ طبقات کو جتنا تحفظ و احترام رسولِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا دنیا کے کسی بھی آئین و قانون میں اسکی نظیر نہیں ملتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو روشن، تابندہ، رخشندہ، درخشندہ اور چمکدار نظر آتا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر بحیثیت باپ کے پیمانے پر دیکھا جائے تو بیٹی کیساتھ شفقت و محبت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ جب بھی خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنکے استقبال کیلئے سروقد کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور عصمت و طہارت کی حامل پیشانی مبارک پر بوسہ دیکر خاتون ِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹھنے کیلئے وہ مبارک چادر ِ تطہیر بچھا دیتے تھے جس کو ربِ ذوالجلال نے ’’یَا اَیُھَا المُزمِل‘‘ کے آفاقی خطاب سے نوازا ہے۔

بحیثیت شوہر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو بیوی کیساتھ محبت کا ایسا پاکیزہ انداز پڑھنے کو ملتا ہے کہ جب کائنات کے مومنین کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس برتن سے منہ لگا کر پانی نوش فرماتیں تھیں‘ اُسی برتن میں اُسی جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنا منہ مبارک لگا کر پانی نوش فرماتے تھے بیوی کیساتھ محبت و شفقت کا ایسا مثالی و عملی نمونہ پیش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کائنات پر بسنے والی جمیع انسانیت کو اپنی اپنی بیویوں سے محبت و شفقت کا طریقہ بتا دیا، بحیثیت بھائی اگر کائنات کے سوہنڑے تے من موہنڑے لجپال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مُصفیٰ تے مُزکیٰ صفحات کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رضاعی بہن جنابِ حضرت شیمارضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پیار و محبت کا ایسا انوکھا انداز پڑھنے کو ملتا ہے جس کو پڑھ کر انسانیت کا سر فخر سے بلند نظر آتا ہے‘ رضاعی بہن سے پیار و احترام کا ایسا پاکیزہ رشتہ انسانیت کو آج تک دیکھنے اور سُننے کو نہیں ملا، بحیثیت آقا اگر دیکھنا ہو تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اُن دس سالوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفیق و کریم بارگاہ ِ عظمت میں بسر ہوئے اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ:

’’ میں نے 10سال اپنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں گزارے مگر میرے لجپال کریم و شفیق آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے جِھڑکا تک نہیں اور یہ تک نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا ہے اور یہ کیوں نہیں کیا‘‘ ۔

یہ تو رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے صرف چند نمونے ہیں‘ اگر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قلم لکھنا چاہے تو بالآخر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ قلم عاجزی کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے‘ کائنات میں جگہ جگہ جو حُسن و جمال کے جلوے نظر آرہے ہیں‘ یہ سب میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین پاک کے مبارک تلوئوں کو چھونے والے ذرّوں کی خیرات کا صدقہ ہے کیونکہ قلندر لاہوری ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ …؎

ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی

کشتی و دریا و طوفانم توئی

جس کی اذیت کو رب تعالیٰ اپنی اذیت قرار دے فرمایا ’’بے شک جو اذیت دیتے ہیں اللہ اور اُسکے رسول کو اُن پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے اُن کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (سورۃ الا حزاب، آیت 57)

جس کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے آداب خود ربِ ذوالجلال کی طرف سے عطاہوئے ہوں کہ:

’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کیا کرو‘ اس شہنشاہ کونین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اور نہ انکے حضور چلا کر نہ کہو، جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو‘‘ (سورۃ الحجرات، آیت 2)

ادب گاہے زیست آسمان از عرش نازک تر

نفس گُم کردہ می آید جنیدؒ و با یزید ؒ اینجا

جس کے بارے میں بریلی کے کچے کوٹھے میں ٹوٹی چٹائی پر بیٹھے پکے عقیدے کی حامل شخصیت امام احمد رضا خاں بریلوی ؒ نے کیا خوب فرمایا کہ …؎

اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ

اِن سا نہیں اِنسان وہ اِنسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ

وہ شہر مقدس جس کی پابوسی کا شرف عرش بریں بھی حاصل کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہو، یقیناً اس شہر کو یہ اعزاز و اکرام قیامت تک ملتا رہے گا کیونکہ اس کی آغوش میں تاقیامت رسولِ رحمت ﷺ آرام فرما ہیں، یہ شہر کبھی ’’یثرب‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن رسولِ رحمت، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جلوئوں کی وجہ سے ’’مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ بنا دیا یہی تو وہ مبارک اور مقدس شہر ہے جہاں تعظیم کی خاطر آنکھیں بے اختیار جھُک اور گردنیں بے ساختہ خَم ہوجاتی ہیں‘

بستر لگا ہو جن کا تیری گلی میں آقا ﷺ

تخت سکندری پہ وہ تھو کتے بھی نہیں

ہاں جونہی پر خطا نگا ہیں عالم کائنات کے محور و مرکز ’’گنبدِ خضرائ‘‘ کی سنہری سنہری جالیوں پر پڑتی ہیں تو روح کے دریچوں میں ایک سرشاری سی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ پرشکوہ عمارات میں بچھے اٹلی، سوئٹرزلینڈ، ملائیشیا کے کارپٹس کی قیمت اس بوسیدہ چٹائی کے تنکے کے برابر بھی نہیں ہے‘ جہاں پر میرے اور آپ سب کے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما رہے ہونگے‘ لہٰذا آج کے مقدس اور بابرکت دن کی مناسبت سے یہ ضروری ہے کہ بحیثیت اُمتی ہماری ہر ہر ادا میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس نظر آنا چاہیے تب جشن ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا مقصد پورا ہوتا ہے

کی محمد سےوفا تو نےتوہم تیرے ہیں

یہ دو جہاں کیا لوح و قلم تیرے ہیں


ہوں لاکھوں سلام اس آقاپردل لاکھوں جسنےجوردیے
 دنیا کو دیا پیغام سکوں انسانوں کے رخ موڑ دیے
اس محسن اعظم نے الیاس کیا کیا نہ دیا ہے عالم کو دستور دیا منشور دیا گی راہی دیں گئی مور دیے

ماخوذ۔۔۔۔

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔

جمعہ، 1 نومبر، 2019

نسب نامہ حضرت سرکار عالم ﷺ

0 تبصرے
نسب نامہ حضرت سرکار عالم ﷺ:

حضور نبی کریم ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے۔
۱۔ حضرت محمد ﷺ ۲۔ بن عبد اللہ ۳۔ بن عبد المطلب ۴۔ بن ھاشم ۵۔ بن عبد المناف ۶۔ بن قصی ۷۔ بن کلاب ۸۔ بن مرہ ۹۔ بن کعب ۱۰۔ بن لوی ۱۱۔ بن غالب ۱۲۔ بن فہر۱۳۔ بن مالک۱۴ بن نصر ۱۵۔ بن کنانہ ۱۶۔ بن خزیمہ ۱۷ بن مدریکہ ۱۸۔ بن الیاس ۱۹۔ اب مضر ۲۰۔ بن نزار ۲۱۔ بن معد ۲۲۔ بن عدنان۔
( بخاری ۔ ج۱۔ باب مبعث النبی ﷺ)
اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضور کا شجرہ شریف یہ ہے۔
۱۔ حضرت محمد ﷺ ۲۔ بن آمنہ ۳۔ بنت وہب ۴۔ بن عبدالمناف ۵۔ بن زہرہ ۶۔ بن کلاب ۷۔ بن مرہ
حضور ﷺ کے والدین کا نسب نامہ "کلاب بن مرہ" پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں "عدنان" تک آپکا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے۔ اس کے بعد ناموں میں بہت اختلاف ہے اور حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تو "عدنان" ہی تک ذکر فرماتے تھے۔
(کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری، ج ۱، ص ۵۴۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شجرہءِ نسب کی فضیلت:
حضرت مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے : 
جاء العباس الي رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فکانہ سمع شيئاً، فقام النّبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم علي المنبر، فقال : من انا؟ فقالوا : انت رسول اﷲ، عليک السّلام. قال : انا محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطّلب، ان اﷲ خلق الخلق فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم فرقتين، فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم قبائل، فجعلني في خيرھم قبيلۃ، ثم جعلھم بيوتاً، فجعلني في خيرھم بيتاً وخيرھم نسباً. 
’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، (اس وقت ان کی کیفیت ایسی تھی) گویا انہوں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کفار سے) کچھ (نازیبا الفاظ) سن رکھے تھے، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ اَفروز ہوئے اور فرمایا : میں کون ہوں؟ سب نے عرض کیا : آپ پر سلام ہو، آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں عبد اللہ کا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس مخلوق میں سے بہترین گروہ (انسان) کے اندر مجھے پیدا فرمایا اور پھر اس کو دو گروہوں (عرب و عجم) میں تقسیم کیا اور ان میں سے بہترین گروہ (عرب) میں مجھے پیدا کیا۔ پھر اﷲتعالیٰ نے اس حصے کے قبائل بنائے اور ان میں سے بہترین قبیلہ (قریش) کے اندر مجھے پیدا کیا اور پھر اس بہترین قبیلہ کے گھر بنائے تو مجھے بہترین گھر اور نسب (بنو ہاشم) میں پیدا کیا۔‘‘ 
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، 5 : 543، رقم : 3532)
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں : 
قلت : يارسول اﷲ! ان قريشاً جلسوا فتذاکروا احسابھم بينهم، فجعلوا مثلک کمثل نخلۃ في کبوۃ من الارض، فقال النّبيّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : ان اﷲ خلق الخلق فجعلني من خيرھم من خير فرقھم وخير الفريقين، ثم تخيّر القبائل فجعلني من خير قبيلۃ، ثم تخيّر البيوت فجعلني من خير بيوتھم، فانا خيرھم نفساً وخيرھم بيتا. 
’’میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! قریش نے ایک مجلس میں اپنے حسب و نسب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی مثال کھجور کے اُس درخت سے دی جو کسی ٹیلہ پر ہو۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان کی بہترین جماعت میں رکھا اور ان کے بہترین گروہ میں رکھا اور دونوں گروہوں میں سے بہترین گروہ میں بنایا، پھر قبائل کو منتخب فرمایا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اُس نے گھرانے منتخب فرمائے تو مجھے اُن میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، پس میں اُن میں سے بہترین فرد اور بہترین خاندان والا ہوں۔‘‘ 
( ترمذي، الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 584، رقم : 3607)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : 
ان اﷲ اصطفي من ولد ابراھيم اسماعيل، واصطفي من ولد اسماعيل بني کنانۃ، واصطفي من بني کنانۃ قريشاً، واصطفي من قريش بني ھاشم، واصطفاني من بني ھاشم. 
’’بے شک ربِ کائنات نے اِبراہیم (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے اِسماعیل (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا، اور اِسماعیل (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے بنی کنانہ کو، اور اَولادِ کنانہ میں سے قریش کو، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ اِنتخاب سے نوازا اور پسند فرمایا۔‘‘
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 583، رقم : 3605)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا شجرہ مبارک:
محمدصلى اللہ عليہ وسلم تسلیما کثیرا
بن عبد اللہ (عام الفیل سے 25 سال پہلے پیداہوئے)
بن عبد المطلب (ان کانام شیبۃ الحمد تھا،وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوئے تو ان کے سر میں سفیدی تھی آپ کے چچا مطلب جب آپ کو مکہ میں لیکرآئے تو قریش کے لوگوں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟آپ کے چچا نے جواب دیا"عبدی" یہیں سے آپ کو عبدالمطلب کہاجانے لگا۔جب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر مبارک آٹھ سال تھی تو ان کا وصال ہوا، ان کی اولاد میں(1) عباس بن عبدالمطلب ۔(2)حارث بن عبدالمطلب ۔(3)ابوطالب بن عبدالمطلب۔ (4)ابو لھب بن عبدالمطلب
بن ھاشم (ان کا نام عمرو العلا ہے ،ان کی ماں کانام عاتکہ بنت مرۃ بن ھلال بن فَالج بن ذکوان ہے)
بن عبد مناف (ان کام مغیرہ ہے،ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انھیں "قمرالبطحا بھی کہاجاتاہے،ان کی والدہ کانام حبّی بنت حُلَیل بن حُبشِیَّہ بن سلول بن کعب بن خزاعہ ہے،ان کی اولاد میں (1)مطلب بن عبد مناف،یہ امام شافعی اسی سلسلے سے ہیں۔(2)نوفل بن عبد مناف۔(3)عبد شمس بن عبد مناف،ان سے بنو امیہ ہیں)
بن قصي (ان کا نام زی ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت ھلال ہے،ان کی اولاد میں(1) عبدالعزی بن قصی،یہ حضرت خدیجہ کے ددھیال ہیں۔(2)عبدالدار بن قصی)
بن كلاب (ان کا نام حکیم ہے،ان کی والدہ کانام ھند بنت سُرَیر بن ثعلبہ ہے اور ان کے دوبیٹے ہیں قصی اور زہرہ)
بن مُرہ (ان کی کنیت ابو یقظہ ہے اور ان کی ماں کا نام مَخشِیّہ بنت شَیبان بن مُحارب بن فِھرہے)
بن كعب (ان کی والدہ کانام ماوِیۃ بنت کعب بن القَین القضاعیہ ہے ان کے تین بیٹے ہیں،مُرّہ،ھُصَیص اور عَدِّی)
بن لؤي (ان کی کنیت ابو کعب ہے،ان کے سات بیٹے ہیں،کعب،عامر،سامہ،خزیمہ،سعد،حارث اور عوف۔ ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت یخلد ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام سلمی بنت الحارث ہے)
بن غالب (ان کی والدہ کانام لیلی بنت الحارث بن تمیم بن ھُذَیل بن مُدرکہ ہے،لوئی اور تَیم ان کے بیٹے ہیں)
بن فِھر (ان کی والدہ کانام جَندلہ بنت عامر بن الحارث ہے)
بن مالك (ان کی کنیت ابوالحارث ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ ہے)
بن النضر (ان کانام قیس یے، ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت عدوان بن قیس بن عمرو ہے)
بن كنانۃ (ان کی والدہ کانام عوانہ بنت سعد بن قیس بن عَیلان بن مُضر ہے اور ان کے بیٹوں کے نام مِلکان،النضر، عمر اور عامر ہیں)
بن خزيمۃ (ان کی کنیت ابو اسد ہے،ان کی والدہ کانام سلمی بنت اسلم بن الحاف بن قُضاعہ ہے)
بن مدركۃ (ان کانام عمرو اور کنیت ابو ھذیل ہے،یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی کنیت ابو خزیمہ ہے)
بن الياس (ان کی والدہ کانام رباب بنت حَیدہ بن معد بن عدنان ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام حَنفَاء بنت اِیاد ہے)
بن مضر (ان کانام عمرو اور کنیت ابوالیاس ہے، اور ان کی والدہ کانام سودہ بنت عک بن عدنان ہے)
بن نزار (ان کی کنیت ابواِیاد ہے،یاابو ربیعہ ہے، اور ان کی والدہ کانام مُعانہ بنت جَوشم ہے)
بن معد (ان کی کنیت ابو قضاعہ ہے،یاکہاجاتا ہے کہ ابو نزار ہے،ان کی والدہ کانام مَھدَد بنت اللَّھم بن حجب بن جدیس ہے)
بن عدنان (ان کی کنیت ابو معدّہے اور ان کی والدہ کانام بلھاء بنت یعرب بن قحطان ہے)
بن اُد (ان کی والدہ کانام النعجاء بنت عمرو بن تُبَّع ہے،ابن ہشام نے کہاکہ اُد ہی اُدد ہے،ابن ہشام کے مطابق شجرہ اس طرح ہے،یعنی اُد بن مقوم بن ناحور بن تَيرح بن يعرُب بن يشجب بن نابت بن اسماعيل ہے)
بن اُدَد ( ان کی والدہ کانام حَیَّہ القحطانیہ ہے)
بن الیسع 
بن الھمَیسع (ان کی والدہ کانام حارثہ بنت مرداس بن زُرعہ ذی رُعَین الحمیری ہے)
بن سلامان 
بن نبت (ان کی والدہ کانام ہامہ بنت زید بن کَھلَان بن سباء بن یَشجُب بن یَعرُب بن قحطان ہے
بن حَمل
بن قیذار ( ان کی والدہ کانام ہالہ بنت الحارث بنت مِضاض الجُرھمی ہے)
بن اسماعيل علیہ السلام (آپ ذبیح اللہ ہیں ،آپ کی والدہ کانام حضرت ھاجرہ ہے)
بن ابراھيم خليل اللہ عليھم الصلاۃ والسلام ( آپ ابو الانبیاء ہیں، آپ کی والدہ کانام نونار ہے، یہ بھی کہاجاتاہے کہ آپ کی وادہ کانام لیوثی ہے)
بن تارَح (آپ کی والدہ کانام سلمی ہے)
بن ناحُور
بن ساروغ (ان کانام شاروخ بھی بتایا گیا ہے)
بن اَرغُو
بن قانِغ(ان کانام فالغ بھی بتایاگیاہے،قیس اور یمن کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ھود علیہ السلام ہیں)
بن عابر (ان کانام عَیبَر بھی بتایاگیا ہے،یہ پورے یمن کے جد امجد ہیں،ان کی طرف منسوب والے قبائل میں الازد،خَثعم، بَجِیلہ،ہمدان، اَلھان، اشعر، طَیّی، مَذحِج، خولان، مَعَافر،عَامِلہ،جُذام، لحم، کِندہ اور حِمیَر شامل ہیں)
بن شالخ (امام سہیلی نے کہاکہ اس کا معنی رسول یا وکیل ہوتا ہے)
بن اَرفَخشذبن سام
بن نوح علیہ السلام (امام نووی نے کہا کہ یہ عجمی نام ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ عربی ہے اور نَاحَ یَنوحُ نَوحاٍ ونیاحۃ سے ماخوذ ہے)
بن لمک (ان کانام لامک بھی بتایاگیا ہے، اس کا معنی ہے متواضع)
بن مُتُّوشلخ 
بن اَخنُوخ (ان کانام خنوخ بھی بتایاگیا ہے)
بن یارد (ان کانام یارد بھی بتایا گیا ہے)
بن مَھلَاییل
بن قَینَان (ان کانام قینن بھی بتایا گیا ہے)
بن اَنُوش ( ان کو یانش بھی کہاگہاہے)
بن شیث علیہ السلام
بن آدم صفی اللہ (ابوالبشر اور زمین میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں)


https://drive.google.com/file/d/1kkhD1mBxB5JWWcWWSS0Gfr8Wril4qP2q/view?usp=drivesdk

ماخوذ۔۔۔۔

جمعرات، 24 اکتوبر، 2019

سورہ سباکا مختصر تعارف

1 تبصرے
سورہ سباکا مختصر تعارف

نام: سورۂ سبا ( ایک قوم )
ترتیب کتابت:34
پارہ :22
ترتیب نزول:58
مکی/ مدنی:مکی 
رکوع: 6
عددآیات:54
کلمات :833
حروف:3596
وجہ تسمیہ : آیت ۱۵ میں قوم سبا کا ذکر ہوا ہے اور اس مناسبت سے اس سورہ کا نام سبا ہے۔

تعارف : یہ سورہ مکی ہے۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کائنات میں اللہ ہی کی ذات ہے جو خوبیوں اور کمالات سے متصف ہے اس لیے شکر اور تعریف کا مستحق وہی ہے اور اللہ کے شکر کی واحد صورت یہ ہے کہ توحید اور آخرت پر ایمان لایا جائے

زمانۂ نزول

زمانہ نزول کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں البتہ انداز بیاں سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو وہ مکہ کا دور متوسط ہے یا دور اول۔ اور اگر دور متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئي تھی اور ابھی صرف تضحیک و استہزاء، افواہی جنگ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی

مضامین

عقائد توحید، نبوت اور معاد سے بحث کرتے ہوئے ان کے منکرین اور ان کے بارے میں شبہات اور اعتراضات کرنے والوں کی سزا سے متعلق گفتگو اس کے بعد ان شبہات کو دور کرنے کیلئے حکمت، موعظہ اور مجادلہ کا راستہ اختیار کرنا اور منکرین کی وہ خامت وعاقبت کے بیان پر سورت کا اختتام اس سورت میں سب سے زیادہ معاد پر تاکید ہوتی ہے اسی لئے سورت کی ابتداء اور انتہاء دونوں میں اس مسئلے سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔

اس سورت میں ان کے علاوہ بعض فرعی موضوعات پر بھی بحث ہوئی ہے جو درج ذیل ہیں:

خدا کی صفات اور کائنات میں میں خدا کی نشانیاں؛
قیامت کے دن مستضعفین اور مستکبرین کا مناظرہ؛
حضرت داؤد جیسے گذشتہ انبیاء کے بعض معجزات؛
حضرت سلیمان کی داستان کے ضمن میں شاکرین اور کافرین کا انجام؛
قوم سبأ کی داستان اور ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کے باغات میں آنے والا سیلاب(سیل عرم) جس نے سب کچھ ان سے چھین لیا
خدا کے بعض نعمتوں کا بیان
غور و فکر، ایمان اور عمل صالح کی دعوت
معاد کے بارے میں مشرکین کے تصورات اور ان کے جوابات

منکروں کی تصورات۔۔۔۔

 پہلا تصور؛ آیہ ۱- ۶
قیامت ہونا محال ہے
دوسرا تصور؛ آیہ ۷ - ۲۱
مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں پیغمبر کی باتیں صحیح نہ ہونا
تیسرا تصور؛ آیہ ۲۲ - ۲۸
اللہ کے شریک، کافروں پر عذاب ہونے سے مانع ہونگے
چوتھا تصور؛ آیہ ۲۹ - ۳۰
وقت معین ہونے کی وجہ سے قیامت برپا نہ ہونا
پانچواں تصور؛ آیہ ۳۱ - ۳۳
معاد کے بارے میں قرآنی باتیں صحیح نہ ہونا
چھٹا تصور؛ آیہ ۳۴ - ۳۹
مالداروں پر عذاب نہ ہونا
ساتواں تصور؛ آیہ ۴۰ - ۴۲
فرشتوں کے ذریعے مشرکوں کی شفاعت
آٹھواں تصور؛ آیہ ۴۳ - ۵۴
معاد کے بارے میں پیغمبر کی باتیں جعلی ہیں

جواب وہ خلاصہ آیات

آیہ ۱ - ۲ : قدرت خدا برای برپایی قیامت
آیہ ۳ : قیامت پر اللہ کا علم
آیہ ۴ - ۶: قیامت میں مؤمنوں کواجراورکافروں کو سزا
آیہ ۷- ۹ : قدرت خدا بر ہلاکت کافران
آیہ ۱۰ - ۲۱ : شاکروں کو اجر اور کافروں کے سزا دینے کے لیے قیامت کی ضرورت
آیہ ۲۲ - ۲۳ : اللہ کے جعلی شریک کا دنیا کی مدیریت میں کوئی کردار نہیں
آیہ ۲۴ : تمام انسانوں کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے
آیہ ۲۵ - ۲۶ : قیامت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا صلہ ملنا
آیہ ۲۷ - ۲۸ : اللہ کے جعلی شریکوں کا عبادت کے لائق نہ ہونا
آیہ ۳۰ : قیامت اپنے وقت پر برپا ہوگی
آیہ ۳۱ - ۳۳ : قرآن سے انکار اور باطل رہبروں کی پیروی پر قیامت میں کافروں کی ندامت
آیہ ۳۴ - ۳۸ : ہر مال اللہ کے درگاہ سے تقرب کی نشانی نہیں
آیہ ۳۹ : انفاق کے ذریعے اللہ کے نزدیک ہوجاؤ
آیہ ۴۰ -۴۲ : قیامت میں فرشتوں کا مشرکوں سے برائت
آیہ ۴۳ : پیغمبر پر مشرکوں کی تہمتیں
آیہ ۴۴ - ۴۵ : کافروں کے پاس پیغمبر کی مخالفت پر کوئی دلیل نہیں
آیہ ۴۶ : پیغمبر کی ذمہ داری صرف ڈرانا ہے
آیہ ۴۷ : پیغمبر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ہے
آیہ ۴۸ - ۴۹ : پیغمبر کی ہر بات حق ہے
آیہ ۵۰ : پیغمبر وحی الہی کا تابع ہے
آیہ ۵۱ - ۵۴ : پیغمبر پر ایمان لے آؤ تاکہ عذاب سے نجات ملے

ماخوذ۔۔۔۔

(١) کمالین
(٢) صفوۃالتفاسیر
(٣) تفسیر ابن عباس
(٤) تفسیرِ مظہری
(٥) توضیح القرآن
(٦) ہدایت القرآن
(٧) تفہیم القرآن

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 22 اکتوبر، 2019

نماز پڑھنے کا طریقہ

0 تبصرے

نماز پڑھنے کا طریقہ

تکبیر تحریمہ نمازی کو چاہئے کہ پاک صاف ہو کر تمام ترتقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے اچھی طرح وضو کرکے مصلی پر کھڑا ہو اور پھر نماز کی نیت مثلا ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہو تو یوں کہے : ’’چار رکعت نماز فرض ظہر یا سنت، بندگی اللہ تعالی کی، منہ طرف قبلہ شریف‘‘ (اگر جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہو رہا ہو تو پھر یوں کہے پیچھے اس امام کے) اللہ اکبر۔ یوں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لوؤں سے لگائے اور پھر ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھے کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہو اور اس طرح پکڑے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کے ساتھ بائیں ہاتھ کی کلائی کے اردگرد حلقہ بنائے۔ دیگر ارکان نماز کو حسب ذیل طریقے سے ادا کرے۔

 2۔ ثناء

 سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ.

پاک ہے تو اے اللہ اور تو ہی حمد کے لائق ہے۔ تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

جماعت کی صورت میں اس کے بعد مقتدی خاموش کھڑا ہو جائے۔ جبکہ اکیلے نماز پڑھنے کی صورت میں نمازی اور جماعت کرواتے ہوئے امام ثناء کے بعد پہلے تعوذ و تسمیہ اور پھر فاتحہ پڑھے۔

 3۔ تعوذ :
 اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے‘‘
4۔ تسمیہ :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
’’اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم  والا ۔‘‘
5۔ فاتحہ :
 الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO آمِيْن

 سب خوبیاں اللّٰہ کو جو مالک سارے جہان والوں کابہت مہربان رحمت والا روزِ جزاء کا مالک ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا

فاتحہ کے بعد امام اور مقتدی دونوں آہستہ آہستہ آواز سے ’’آمین‘‘ کہیں جس کا معنی ہے ’’الٰہی قبول فرما۔‘‘

6۔ سورۃ کا ملانا

 کم از کم تین آیات یا تین کے برابر ایک آیت کا تلاوت کرنا واجب ہے۔ سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید کی کوئی سورت جو آپ کو اچھی طرح یاد ہے تلاوت کریں۔ جیسے سورہ

وَالْعَصْرِ ( 1 ) 
عصر کی قسم
إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ( 2 ) 
کہ انسان نقصان میں ہے
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ 
وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( 3 ) 
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور 
آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
یا سورہ اخلاص وغیرہ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ( 1 )
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

اللَّهُ الصَّمَدُ ( 2 )
معبود برحق جو بےنیاز ہے
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ( 3 )
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ( 4 )
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

7۔ رکوع :
 تلاوت کے بعد رکوع کرے جس میں تسبیح ’’سبحان ربی العظیم ‘‘ (پاک ہے وہ رب بڑی عظمت والا) تین مرتبہ پڑھے۔
8۔ قومہ :
 رکوع کے بعد کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں۔
رکوع میں تسبیح پڑھنے کے بعد سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه (اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی) کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کے بعد اللّٰهُ اَکْبَرُ کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے۔
 9۔ سجدہ :
سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ زمین پر رکھے پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر رکھے اور خوب جمائے۔ چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھے اس طرح کہ مرد دونوں بازؤوں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے اور اس کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کے رخ زمین پر لگی ہوئی ہوں اور کہنیاں زمین پر لگی ہوئی نہ ہوں اور کم ازکم تین بار یہ تسبیح پڑھے۔
سُبْحَانَ رَبِّيَ الاَعْلٰی
(پاک ہے میرا پروردگار بہت بلند)
10۔ جلسہ :
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے سے اس طرح اٹھے کہ پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ زمین پر سے اٹھائے اور دایاں قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر اس پر بیٹھے یوں کہ دائیں پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف ہوں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر گھٹنوں کے قریب اس طرح رکھے کہ ان کی انگلیوں کا رخ بھی قبلہ کی طرف ہو اور دونوں سجدوں کے درمیان قدرے وقفہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کہے اور دوسرے سجدہ میں چلا جائے۔ (دوسرے سجدے سے اُٹھ کر اُسی طرح دوسری رکعت ادا کرے، دُوسری رکعت مکمل کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔)
 11۔ قعدہ :
اگر تین یا چار رکعت والی نماز ہو تو دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اطمینان سے بیٹھ کر تشہد پڑھے۔
12۔ تشہد :
اَلتَّحِيَّاتُ ﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَO
اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُه.
’’تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کیلئے ہیں۔ سلام ہو تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر گواہی دیتا ہوں میں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے عبد خاص اور رسول ہیں۔‘‘
 آخری رکعت میں تشہد کے بعد درود ابراہیمی بھی پڑھا جائے گا۔
درود شریف
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
 ’’اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمتیں نازل کر جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر رحمتیں نازل کیں۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔
اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر برکتیں نازل کیں بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
دعائے ماثورہ
 درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّك أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ"
(یا اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اور گناہوں کو توں ہی بخشنے والا ہے، توں میرے گناہوں کو اپنی طرف سے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے والا، اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ 
یا یہ پڑھیں
رَبِّ اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ.
’’اے اللہ! مجھے نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو۔ اے ہمارے رب! ہماری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب! مجھ کو بخش دے اور میرے والدین اور تمام اہل ایمان کو بخش دے اس روز جب عملوں کا حساب ہونے لگے۔‘‘
 13۔ سلام
 نماز سے نکلنے کے لئے دعائے ماثورہ کے بعد پہلے دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ پھر بائیں جانب چہرہ کرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے
اس طرح نماز مکمل ہو جائے گی۔
 صلوۃ الوتر
 نماز عشاء کے فرضوں کے بعد سنن و نوافل ادا کرنے کے بعد تین رکعت وتر واجب ادا کرے۔
نماز وتر کی نیت بھی عام نمازوں کی طرح کی جاتی ہے اور جس طرح دیگر نمازیں ادا کی جاتی ہیں اسی طرح سے وتر بھی ادا کرے گا لیکن وتروں اور دیگر نمازوں میں فرق یہ ہے کہ وتروں کی نماز میں پہلی دو رکعت حسب قاعدہ ادا کرنے کے بعد تشہد پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے اور قیام میں فاتحہ و سورۃ پڑھنے کے بعد رکوع جانے سے پہلے تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے اور پھر دعائے قنوت پڑھے۔
 دعائے قنوت
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُومِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَيْکَ وَنُثْنِی عَلَيْکَ الْخَيْرَ وَنَشْکُرُکَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ يَّفْجُرُک اَللّٰهُمَّ اِياکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَيْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ.
’’اے اللہ! ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور تیرے نافرمان سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں
۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لئے نماز پڑھتے ہیں اور تجھے سجدے کرتے ہیں اور تیری طرف کوشش کرتے ہیں اور ہم حاضری دیتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔‘‘
دعائے قنوت پڑھنے کے بعد رکوع کرے اور پھر حسب سابق التحیات اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔ جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو اسے چاہئے کہ وہ دعا کو یاد کرے اور جب تک دعا یاد نہ ہو اس کی جگہ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. پڑھ لیا کرے یا پھر تین مرتبہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا ’’اے اللہ مجھے بخش دے پڑھ لیا کرے۔
قُنُوتِ نَازِلہ
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، الّٰهُمَّ اَعِزّ الِاسْلَامَ والمُسْلِمِيْنَ واَذِّل الشِرْكَ والمُشْرِكِيْنَ واَهْلِكِ الكَفَرَةَ والمُبْتَدِعَ واليَهُودَ والنَّصَارٰى والمُنَافِقِينَ والمُشْرِكِيْنَ،وَقَاتِل اَعْداَءك اَعدَاءَ الدِّين،  الَّذِیْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ،ویُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ.
اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ،وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَمَزِّق جَمْعَھُمْ وفُلَّ حَدّهم وَنَكِّسْ اَعْلَامَهُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ،وَالجُبُنَ،الّٰهُمّ خُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ وصَلَّى الله تَعَالىٰ عَلَى النَبِيّ الكَرِيْم

قنوت نازلہ ثانی
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَالْحِکْمَۃَ،وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِکَ، وَأَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوْا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ؛ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَۃَ وَالْمُشْرِکِیْنََ وَمَنْ حَذَا حَذْوَھُمْ مِنَ الْأَحْزَابِ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ مِنَ الطُّلَّابِ وَالْعُلَمَآء وَالْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔  

ترجمہ: یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائیں، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے۔ اے ہمارے رب! آپ بابرکت ہیںاور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں۔ اے اللہ! ہمارے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرما دے، اور اُن کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرمادے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے، اور اُن کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے، اور ان کو اپنے رسول ا کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے اُنہیں کہ شکر کریں تیری اس نعمت کا جو تو نے اُنہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرے اس عہد کو جو تو نے ان سے لیا ہے،اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما، اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیںاور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں،اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علمائ، طلبہ اور عامۃ المسلمین کو۔ اے اللہ ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کر دے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے،اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے ، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے، جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔

نمازکی اکیاون سنتیں مدلل

قیام کی 11 سنتیں
1) تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سر کو پست نہ کرنا(طحاوی علی المراقی ج1ص302)
2) دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھنا(طحاوی علی المراقی ج1ص357,شامی باب صفة الصلاة ص205ج2)
تنبیہ:-  بعض فقہاءنےچار انگل کے فاصلہ کومستحب لکھاہے لیکن فقہ میں مستحب کااطلاق سنت پراور سنت کااطلاق مستحب پرہوتاہےـ
{کذافی الشامی تجویز اطلاق اسم المستحب علی السنة وعکسه(ج3ص48)
3) مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہونا.
فائدہ :- مقتدی کی تکبیرتحریمہ اگر امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے ختم ہوگئ تو اقتداء صحیح نہ ہوگی ـ(طحطاوی علی المراقی ج1ص350)
4) تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا(ابوداؤد باب رفع الیدین ج1ص105)
5)ہتھیلیوں کوقبلہ کی طرف رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص1ج350,شامی باب صفة الصلاة ص202,203ج1)
6) انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھنا یعنی زیادہ نہ کھلی رکھنا اور نہ زیادہ بند(مراقی مع الطحطاوی ص349ج1,شامی باب صفةالصلاة ص171ج2)
7) داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص351ـ352ج1)
8) چھنگلیا اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر گٹے کو پکڑنا(طحطاوی فصل فی بیان سننھاص352ج1)
9)درمیانی تین انگلیوں کوکلائ پررکھنا(طحطاوی ص352ج1)
10) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا(شامی باب صفة الصلاة ص187ج2)
11) ثناء پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص351ج1)

            قراءت کی سات سنتیں

1) تعوذ یعنی اعوذ باللّٰه پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص353ج1)
2) تسمیہ یعنی ہررکعت کے شروع میں بسم اللّٰه پڑھنا(ایضا)
3) چُپکے سے آمین کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ج1)
4) فجر اور ظہر میں طوالِ مفصل یعنی سورہ حجرات سے بروج تک ،عصر وعشاء اوساط مفصل یعنی سورہ بروج سے لم یکن تک اور مغرب میں قصار مفصل یعنی سورہ لم یکن سے سورہ ناس تک کی سورتیں پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ج1ص357,358)
5) فجر کی پہلی رکعت کو طویل کرنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
6) ثناء, تعوذ, تسمیہ اورآمین کوآہستہ کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ـ356 ج1)
7) فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص368ج1)

            رکوع کی آٹھ سنتیں

1) رکوع کی تکبیر کہنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
2) رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا(طحطاوی علی المراقی ص361ج1)
3)گھٹنوں کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص362ج1)
4) پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا(شامی 197ج2)
5) پیٹھ کو بچھا دینا(شامی ص196ج2)
6) سر اور سُرین کو برابر رکھنا(شامی ص196ـ197ج2)
7) رکوع میں کم از کم تین بار سبحان ربی العظیم کہنا(طحطاوی ص144)
8) رکوع سے اٹھنے میں امام کو (سمیع اللّٰه لمن حمدہ) بآوازبلندکہنااور مقتدی کو (ربنا لک الحمد) اور منفرد کو دونوں کہنا(آہستہ سے)اوررکوع کےبعداطمینان سےسیدھاکھڑاہونا(شامی ص201ج2)

        سجدہ کی بارہ سنتیں

1) سجدہ کی تکبیر کہنا(شامی ص202ج2)
2) سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
3) پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
4) پھر ناک رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی363ج1)
5) پھر پیشانی رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی ص363ج1)
6) دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کرنا(طحطاوی علی المراقی )
7) سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
8) پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
9) کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
10) سجدہ میں کم از کم تین بار سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنا(ہدایہ جلدنمبر1صفحہ109 )
11) سجدہ سے اٹھنے کی تکبیر کہنا( شامی ص210,211ج2 )
12) سجدہ سے اٹھنے سے پہلے ، پیشانی ، پھر ناک ، پھر ہاتھوں کو، پھر گھٹنوں کو اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا(طحطاوی علی المراقی ص366ج1)

      قعدہ کی 13 سنتیں

1) دائیں پیر کو کھڑارکھنااور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھنا اور پیر کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
2)دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
3) تشہد میں (ان لا الٰه) پر شہادت کی انگلی کو اٹھانا اور *الا اللّٰه* پر جھکا دینا.(طحطاوی علی المراقی ص367 ج1 )
4) قعدہ آخیرہ میں درود شریف پڑھنا. (طحطاوی علی المراقی ص369 ج1 )
5) درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن اور حدیث کے مشابہ ہوں پرھنا.(طحطاوی علی المراقی ص371 ج1 )
6) دونوں طرف سلام پڑھنا (طحطاوی علی المراقی ص 373ج1 )
7) سلام کی داہنی طرف سے ابتداء کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص373 ج1 )
8) امام کو مقتدیوں ، فر شتوں اور صالح جنات کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص 373-374ج 1)
9) مقتدی کو امام وفر شتوں اور صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
10) منفرد کو صرف فر شتوں کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1 )
11) مقتدی کو امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
12) دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1 )
مسبوق کو امام کے فارغ ہو نے کا انتظار کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1)
از:پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنتیں
مصنف:عارف بالله حضرت مولاناشاہ حکیم محمداختر صاحب نورالله مرقدہ