جمعرات، 24 اکتوبر، 2019

سورہ سباکا مختصر تعارف

1 تبصرے
سورہ سباکا مختصر تعارف

نام: سورۂ سبا ( ایک قوم )
ترتیب کتابت:34
پارہ :22
ترتیب نزول:58
مکی/ مدنی:مکی 
رکوع: 6
عددآیات:54
کلمات :833
حروف:3596
وجہ تسمیہ : آیت ۱۵ میں قوم سبا کا ذکر ہوا ہے اور اس مناسبت سے اس سورہ کا نام سبا ہے۔

تعارف : یہ سورہ مکی ہے۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کائنات میں اللہ ہی کی ذات ہے جو خوبیوں اور کمالات سے متصف ہے اس لیے شکر اور تعریف کا مستحق وہی ہے اور اللہ کے شکر کی واحد صورت یہ ہے کہ توحید اور آخرت پر ایمان لایا جائے

زمانۂ نزول

زمانہ نزول کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں البتہ انداز بیاں سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو وہ مکہ کا دور متوسط ہے یا دور اول۔ اور اگر دور متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئي تھی اور ابھی صرف تضحیک و استہزاء، افواہی جنگ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی

مضامین

عقائد توحید، نبوت اور معاد سے بحث کرتے ہوئے ان کے منکرین اور ان کے بارے میں شبہات اور اعتراضات کرنے والوں کی سزا سے متعلق گفتگو اس کے بعد ان شبہات کو دور کرنے کیلئے حکمت، موعظہ اور مجادلہ کا راستہ اختیار کرنا اور منکرین کی وہ خامت وعاقبت کے بیان پر سورت کا اختتام اس سورت میں سب سے زیادہ معاد پر تاکید ہوتی ہے اسی لئے سورت کی ابتداء اور انتہاء دونوں میں اس مسئلے سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔

اس سورت میں ان کے علاوہ بعض فرعی موضوعات پر بھی بحث ہوئی ہے جو درج ذیل ہیں:

خدا کی صفات اور کائنات میں میں خدا کی نشانیاں؛
قیامت کے دن مستضعفین اور مستکبرین کا مناظرہ؛
حضرت داؤد جیسے گذشتہ انبیاء کے بعض معجزات؛
حضرت سلیمان کی داستان کے ضمن میں شاکرین اور کافرین کا انجام؛
قوم سبأ کی داستان اور ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کے باغات میں آنے والا سیلاب(سیل عرم) جس نے سب کچھ ان سے چھین لیا
خدا کے بعض نعمتوں کا بیان
غور و فکر، ایمان اور عمل صالح کی دعوت
معاد کے بارے میں مشرکین کے تصورات اور ان کے جوابات

منکروں کی تصورات۔۔۔۔

 پہلا تصور؛ آیہ ۱- ۶
قیامت ہونا محال ہے
دوسرا تصور؛ آیہ ۷ - ۲۱
مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں پیغمبر کی باتیں صحیح نہ ہونا
تیسرا تصور؛ آیہ ۲۲ - ۲۸
اللہ کے شریک، کافروں پر عذاب ہونے سے مانع ہونگے
چوتھا تصور؛ آیہ ۲۹ - ۳۰
وقت معین ہونے کی وجہ سے قیامت برپا نہ ہونا
پانچواں تصور؛ آیہ ۳۱ - ۳۳
معاد کے بارے میں قرآنی باتیں صحیح نہ ہونا
چھٹا تصور؛ آیہ ۳۴ - ۳۹
مالداروں پر عذاب نہ ہونا
ساتواں تصور؛ آیہ ۴۰ - ۴۲
فرشتوں کے ذریعے مشرکوں کی شفاعت
آٹھواں تصور؛ آیہ ۴۳ - ۵۴
معاد کے بارے میں پیغمبر کی باتیں جعلی ہیں

جواب وہ خلاصہ آیات

آیہ ۱ - ۲ : قدرت خدا برای برپایی قیامت
آیہ ۳ : قیامت پر اللہ کا علم
آیہ ۴ - ۶: قیامت میں مؤمنوں کواجراورکافروں کو سزا
آیہ ۷- ۹ : قدرت خدا بر ہلاکت کافران
آیہ ۱۰ - ۲۱ : شاکروں کو اجر اور کافروں کے سزا دینے کے لیے قیامت کی ضرورت
آیہ ۲۲ - ۲۳ : اللہ کے جعلی شریک کا دنیا کی مدیریت میں کوئی کردار نہیں
آیہ ۲۴ : تمام انسانوں کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے
آیہ ۲۵ - ۲۶ : قیامت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا صلہ ملنا
آیہ ۲۷ - ۲۸ : اللہ کے جعلی شریکوں کا عبادت کے لائق نہ ہونا
آیہ ۳۰ : قیامت اپنے وقت پر برپا ہوگی
آیہ ۳۱ - ۳۳ : قرآن سے انکار اور باطل رہبروں کی پیروی پر قیامت میں کافروں کی ندامت
آیہ ۳۴ - ۳۸ : ہر مال اللہ کے درگاہ سے تقرب کی نشانی نہیں
آیہ ۳۹ : انفاق کے ذریعے اللہ کے نزدیک ہوجاؤ
آیہ ۴۰ -۴۲ : قیامت میں فرشتوں کا مشرکوں سے برائت
آیہ ۴۳ : پیغمبر پر مشرکوں کی تہمتیں
آیہ ۴۴ - ۴۵ : کافروں کے پاس پیغمبر کی مخالفت پر کوئی دلیل نہیں
آیہ ۴۶ : پیغمبر کی ذمہ داری صرف ڈرانا ہے
آیہ ۴۷ : پیغمبر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ہے
آیہ ۴۸ - ۴۹ : پیغمبر کی ہر بات حق ہے
آیہ ۵۰ : پیغمبر وحی الہی کا تابع ہے
آیہ ۵۱ - ۵۴ : پیغمبر پر ایمان لے آؤ تاکہ عذاب سے نجات ملے

ماخوذ۔۔۔۔

(١) کمالین
(٢) صفوۃالتفاسیر
(٣) تفسیر ابن عباس
(٤) تفسیرِ مظہری
(٥) توضیح القرآن
(٦) ہدایت القرآن
(٧) تفہیم القرآن

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 22 اکتوبر، 2019

نماز پڑھنے کا طریقہ

0 تبصرے

نماز پڑھنے کا طریقہ

تکبیر تحریمہ نمازی کو چاہئے کہ پاک صاف ہو کر تمام ترتقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے اچھی طرح وضو کرکے مصلی پر کھڑا ہو اور پھر نماز کی نیت مثلا ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہو تو یوں کہے : ’’چار رکعت نماز فرض ظہر یا سنت، بندگی اللہ تعالی کی، منہ طرف قبلہ شریف‘‘ (اگر جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہو رہا ہو تو پھر یوں کہے پیچھے اس امام کے) اللہ اکبر۔ یوں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لوؤں سے لگائے اور پھر ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھے کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہو اور اس طرح پکڑے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کے ساتھ بائیں ہاتھ کی کلائی کے اردگرد حلقہ بنائے۔ دیگر ارکان نماز کو حسب ذیل طریقے سے ادا کرے۔

 2۔ ثناء

 سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ.

پاک ہے تو اے اللہ اور تو ہی حمد کے لائق ہے۔ تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

جماعت کی صورت میں اس کے بعد مقتدی خاموش کھڑا ہو جائے۔ جبکہ اکیلے نماز پڑھنے کی صورت میں نمازی اور جماعت کرواتے ہوئے امام ثناء کے بعد پہلے تعوذ و تسمیہ اور پھر فاتحہ پڑھے۔

 3۔ تعوذ :
 اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے‘‘
4۔ تسمیہ :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
’’اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم  والا ۔‘‘
5۔ فاتحہ :
 الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO آمِيْن

 سب خوبیاں اللّٰہ کو جو مالک سارے جہان والوں کابہت مہربان رحمت والا روزِ جزاء کا مالک ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا

فاتحہ کے بعد امام اور مقتدی دونوں آہستہ آہستہ آواز سے ’’آمین‘‘ کہیں جس کا معنی ہے ’’الٰہی قبول فرما۔‘‘

6۔ سورۃ کا ملانا

 کم از کم تین آیات یا تین کے برابر ایک آیت کا تلاوت کرنا واجب ہے۔ سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید کی کوئی سورت جو آپ کو اچھی طرح یاد ہے تلاوت کریں۔ جیسے سورہ

وَالْعَصْرِ ( 1 ) 
عصر کی قسم
إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ( 2 ) 
کہ انسان نقصان میں ہے
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ 
وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( 3 ) 
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور 
آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
یا سورہ اخلاص وغیرہ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ( 1 )
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

اللَّهُ الصَّمَدُ ( 2 )
معبود برحق جو بےنیاز ہے
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ( 3 )
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ( 4 )
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

7۔ رکوع :
 تلاوت کے بعد رکوع کرے جس میں تسبیح ’’سبحان ربی العظیم ‘‘ (پاک ہے وہ رب بڑی عظمت والا) تین مرتبہ پڑھے۔
8۔ قومہ :
 رکوع کے بعد کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں۔
رکوع میں تسبیح پڑھنے کے بعد سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه (اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی) کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کے بعد اللّٰهُ اَکْبَرُ کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے۔
 9۔ سجدہ :
سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ زمین پر رکھے پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر رکھے اور خوب جمائے۔ چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھے اس طرح کہ مرد دونوں بازؤوں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے اور اس کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کے رخ زمین پر لگی ہوئی ہوں اور کہنیاں زمین پر لگی ہوئی نہ ہوں اور کم ازکم تین بار یہ تسبیح پڑھے۔
سُبْحَانَ رَبِّيَ الاَعْلٰی
(پاک ہے میرا پروردگار بہت بلند)
10۔ جلسہ :
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے سے اس طرح اٹھے کہ پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ زمین پر سے اٹھائے اور دایاں قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر اس پر بیٹھے یوں کہ دائیں پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف ہوں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر گھٹنوں کے قریب اس طرح رکھے کہ ان کی انگلیوں کا رخ بھی قبلہ کی طرف ہو اور دونوں سجدوں کے درمیان قدرے وقفہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کہے اور دوسرے سجدہ میں چلا جائے۔ (دوسرے سجدے سے اُٹھ کر اُسی طرح دوسری رکعت ادا کرے، دُوسری رکعت مکمل کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔)
 11۔ قعدہ :
اگر تین یا چار رکعت والی نماز ہو تو دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اطمینان سے بیٹھ کر تشہد پڑھے۔
12۔ تشہد :
اَلتَّحِيَّاتُ ﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَO
اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُه.
’’تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کیلئے ہیں۔ سلام ہو تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر گواہی دیتا ہوں میں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے عبد خاص اور رسول ہیں۔‘‘
 آخری رکعت میں تشہد کے بعد درود ابراہیمی بھی پڑھا جائے گا۔
درود شریف
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
 ’’اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمتیں نازل کر جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر رحمتیں نازل کیں۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔
اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر برکتیں نازل کیں بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
دعائے ماثورہ
 درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّك أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ"
(یا اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اور گناہوں کو توں ہی بخشنے والا ہے، توں میرے گناہوں کو اپنی طرف سے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے والا، اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ 
یا یہ پڑھیں
رَبِّ اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ.
’’اے اللہ! مجھے نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو۔ اے ہمارے رب! ہماری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب! مجھ کو بخش دے اور میرے والدین اور تمام اہل ایمان کو بخش دے اس روز جب عملوں کا حساب ہونے لگے۔‘‘
 13۔ سلام
 نماز سے نکلنے کے لئے دعائے ماثورہ کے بعد پہلے دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ پھر بائیں جانب چہرہ کرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے
اس طرح نماز مکمل ہو جائے گی۔
 صلوۃ الوتر
 نماز عشاء کے فرضوں کے بعد سنن و نوافل ادا کرنے کے بعد تین رکعت وتر واجب ادا کرے۔
نماز وتر کی نیت بھی عام نمازوں کی طرح کی جاتی ہے اور جس طرح دیگر نمازیں ادا کی جاتی ہیں اسی طرح سے وتر بھی ادا کرے گا لیکن وتروں اور دیگر نمازوں میں فرق یہ ہے کہ وتروں کی نماز میں پہلی دو رکعت حسب قاعدہ ادا کرنے کے بعد تشہد پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے اور قیام میں فاتحہ و سورۃ پڑھنے کے بعد رکوع جانے سے پہلے تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے اور پھر دعائے قنوت پڑھے۔
 دعائے قنوت
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُومِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَيْکَ وَنُثْنِی عَلَيْکَ الْخَيْرَ وَنَشْکُرُکَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ يَّفْجُرُک اَللّٰهُمَّ اِياکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَيْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ.
’’اے اللہ! ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور تیرے نافرمان سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں
۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لئے نماز پڑھتے ہیں اور تجھے سجدے کرتے ہیں اور تیری طرف کوشش کرتے ہیں اور ہم حاضری دیتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔‘‘
دعائے قنوت پڑھنے کے بعد رکوع کرے اور پھر حسب سابق التحیات اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔ جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو اسے چاہئے کہ وہ دعا کو یاد کرے اور جب تک دعا یاد نہ ہو اس کی جگہ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. پڑھ لیا کرے یا پھر تین مرتبہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا ’’اے اللہ مجھے بخش دے پڑھ لیا کرے۔
قُنُوتِ نَازِلہ
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، الّٰهُمَّ اَعِزّ الِاسْلَامَ والمُسْلِمِيْنَ واَذِّل الشِرْكَ والمُشْرِكِيْنَ واَهْلِكِ الكَفَرَةَ والمُبْتَدِعَ واليَهُودَ والنَّصَارٰى والمُنَافِقِينَ والمُشْرِكِيْنَ،وَقَاتِل اَعْداَءك اَعدَاءَ الدِّين،  الَّذِیْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ،ویُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ.
اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ،وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَمَزِّق جَمْعَھُمْ وفُلَّ حَدّهم وَنَكِّسْ اَعْلَامَهُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ،وَالجُبُنَ،الّٰهُمّ خُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ وصَلَّى الله تَعَالىٰ عَلَى النَبِيّ الكَرِيْم

قنوت نازلہ ثانی
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَالْحِکْمَۃَ،وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِکَ، وَأَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوْا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ؛ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَۃَ وَالْمُشْرِکِیْنََ وَمَنْ حَذَا حَذْوَھُمْ مِنَ الْأَحْزَابِ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ مِنَ الطُّلَّابِ وَالْعُلَمَآء وَالْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔  

ترجمہ: یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائیں، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے۔ اے ہمارے رب! آپ بابرکت ہیںاور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں۔ اے اللہ! ہمارے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرما دے، اور اُن کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرمادے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے، اور اُن کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے، اور ان کو اپنے رسول ا کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے اُنہیں کہ شکر کریں تیری اس نعمت کا جو تو نے اُنہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرے اس عہد کو جو تو نے ان سے لیا ہے،اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما، اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیںاور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں،اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علمائ، طلبہ اور عامۃ المسلمین کو۔ اے اللہ ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کر دے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے،اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے ، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے، جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔

نمازکی اکیاون سنتیں مدلل

قیام کی 11 سنتیں
1) تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سر کو پست نہ کرنا(طحاوی علی المراقی ج1ص302)
2) دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھنا(طحاوی علی المراقی ج1ص357,شامی باب صفة الصلاة ص205ج2)
تنبیہ:-  بعض فقہاءنےچار انگل کے فاصلہ کومستحب لکھاہے لیکن فقہ میں مستحب کااطلاق سنت پراور سنت کااطلاق مستحب پرہوتاہےـ
{کذافی الشامی تجویز اطلاق اسم المستحب علی السنة وعکسه(ج3ص48)
3) مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہونا.
فائدہ :- مقتدی کی تکبیرتحریمہ اگر امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے ختم ہوگئ تو اقتداء صحیح نہ ہوگی ـ(طحطاوی علی المراقی ج1ص350)
4) تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا(ابوداؤد باب رفع الیدین ج1ص105)
5)ہتھیلیوں کوقبلہ کی طرف رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص1ج350,شامی باب صفة الصلاة ص202,203ج1)
6) انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھنا یعنی زیادہ نہ کھلی رکھنا اور نہ زیادہ بند(مراقی مع الطحطاوی ص349ج1,شامی باب صفةالصلاة ص171ج2)
7) داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص351ـ352ج1)
8) چھنگلیا اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر گٹے کو پکڑنا(طحطاوی فصل فی بیان سننھاص352ج1)
9)درمیانی تین انگلیوں کوکلائ پررکھنا(طحطاوی ص352ج1)
10) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا(شامی باب صفة الصلاة ص187ج2)
11) ثناء پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص351ج1)

            قراءت کی سات سنتیں

1) تعوذ یعنی اعوذ باللّٰه پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص353ج1)
2) تسمیہ یعنی ہررکعت کے شروع میں بسم اللّٰه پڑھنا(ایضا)
3) چُپکے سے آمین کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ج1)
4) فجر اور ظہر میں طوالِ مفصل یعنی سورہ حجرات سے بروج تک ،عصر وعشاء اوساط مفصل یعنی سورہ بروج سے لم یکن تک اور مغرب میں قصار مفصل یعنی سورہ لم یکن سے سورہ ناس تک کی سورتیں پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ج1ص357,358)
5) فجر کی پہلی رکعت کو طویل کرنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
6) ثناء, تعوذ, تسمیہ اورآمین کوآہستہ کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ـ356 ج1)
7) فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص368ج1)

            رکوع کی آٹھ سنتیں

1) رکوع کی تکبیر کہنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
2) رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا(طحطاوی علی المراقی ص361ج1)
3)گھٹنوں کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص362ج1)
4) پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا(شامی 197ج2)
5) پیٹھ کو بچھا دینا(شامی ص196ج2)
6) سر اور سُرین کو برابر رکھنا(شامی ص196ـ197ج2)
7) رکوع میں کم از کم تین بار سبحان ربی العظیم کہنا(طحطاوی ص144)
8) رکوع سے اٹھنے میں امام کو (سمیع اللّٰه لمن حمدہ) بآوازبلندکہنااور مقتدی کو (ربنا لک الحمد) اور منفرد کو دونوں کہنا(آہستہ سے)اوررکوع کےبعداطمینان سےسیدھاکھڑاہونا(شامی ص201ج2)

        سجدہ کی بارہ سنتیں

1) سجدہ کی تکبیر کہنا(شامی ص202ج2)
2) سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
3) پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
4) پھر ناک رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی363ج1)
5) پھر پیشانی رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی ص363ج1)
6) دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کرنا(طحطاوی علی المراقی )
7) سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
8) پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
9) کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
10) سجدہ میں کم از کم تین بار سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنا(ہدایہ جلدنمبر1صفحہ109 )
11) سجدہ سے اٹھنے کی تکبیر کہنا( شامی ص210,211ج2 )
12) سجدہ سے اٹھنے سے پہلے ، پیشانی ، پھر ناک ، پھر ہاتھوں کو، پھر گھٹنوں کو اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا(طحطاوی علی المراقی ص366ج1)

      قعدہ کی 13 سنتیں

1) دائیں پیر کو کھڑارکھنااور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھنا اور پیر کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
2)دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
3) تشہد میں (ان لا الٰه) پر شہادت کی انگلی کو اٹھانا اور *الا اللّٰه* پر جھکا دینا.(طحطاوی علی المراقی ص367 ج1 )
4) قعدہ آخیرہ میں درود شریف پڑھنا. (طحطاوی علی المراقی ص369 ج1 )
5) درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن اور حدیث کے مشابہ ہوں پرھنا.(طحطاوی علی المراقی ص371 ج1 )
6) دونوں طرف سلام پڑھنا (طحطاوی علی المراقی ص 373ج1 )
7) سلام کی داہنی طرف سے ابتداء کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص373 ج1 )
8) امام کو مقتدیوں ، فر شتوں اور صالح جنات کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص 373-374ج 1)
9) مقتدی کو امام وفر شتوں اور صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
10) منفرد کو صرف فر شتوں کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1 )
11) مقتدی کو امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
12) دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1 )
مسبوق کو امام کے فارغ ہو نے کا انتظار کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1)
از:پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنتیں
مصنف:عارف بالله حضرت مولاناشاہ حکیم محمداختر صاحب نورالله مرقدہ

بدھ، 16 اکتوبر، 2019

سورہ سجدہ کا مختصر تعارف

0 تبصرے

سورہ سجدہ کا مختصر تعارف

ترتیب سورہ : 32
نام : سورۂ سجدہ  ( جھکنا، سجدہ کرنا)
ترتیب نزول : 75
سورت : مکی
رکوع : 3
عدد آیات : 30
کلمات : 330
حروف : 1518
وجہ تسمیہ : آیت ۱۵ میں اہل ایمان کا یہ وصف بیان ہوا ہے جب انہیں اللہ کی آیتوں کے ذریعے تذکیر کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں اگر پڑتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام السجدہ ہے۔

تعارف : یہ سورہ مکی ہے۔اس میں توحید اور آخرت کا مضمون ایسے اسلوب میں بیان ہوا ہے جو شبہات کو دور کر کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے۔ سورہ لقمان میں عقل و دانش سے اپیل تھی تو اس سورہ میں وجدان و قلب سے اپیل ہے

ربط: سورۃ سابقہ میں توحید و معاد کے مضامین تھے اس سورت کے شروع میں اثبات حقیقت قرآن سے اثبات رسالت ہے جس کا تناسب توحید ومعاد سے ظاہر ہے پھر (اللہ الذی خلق) سے توحیدہے اور (قالو اذاضللنا) سے معاد کا ذکرہے اور پہلا مضمون دوسرے پر بھی من وجہ مشتمل ہے پھر (ولقد اتینا موسی) سے تائید مسئلہ رسالت کی اورتسلیہ صاحب رسالت کا معاملہ مکذبین میں ہے اوراولم یھدسے آخر تک مکذبین کی توبیخ اور ان کے بعض اقوال کا جواب۔

فضیلت

حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم سجدہ ) اوردو سری رکعت میں (ھل اتی علی الانسان) سورۃ دھر پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری و مسلم کتاب الجمعہ باب ما یقرأ فی صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ) اسی طرح یہ بھی صحیح سند سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل سورہ الم سجدہ اور سورہ ملک پڑھاکرتےتھے ترمذی نمبر892 /مسند احمد جلد 3 صفحہ340

منکروں کو انتباہ

پہلا گفتار؛ آیہ ۴-۱۴
قیامت کا ثبوت اور کافروں پر عذاب حتمی ہونا

دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۲۲
مؤمنوں اور فاسقوں کا انجام قرآنی آیات کی روشنی میں

تیسرا گفتار؛ آیہ ۲۳-۳۰
قیامت میں کافروں کو سزا کے بارے میں قرآنی تعلیمات کی حقانیت

 آیہ ١_٣ : کفر کے انجام کے بارے میں قرآنی انتباہ
 آیہ ۴: دنیا کی خلقت اور تدبیر اللہ کے ہاتھ
 آیہ ۵-۶: دنیا کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے
 آیہ ۷-۹: اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنا انسان کی ذمہ داری ہے
 آیہ ۱۰-۱۱: معاد کے بارے میں کافروں کے شبہے کا جواب
 آیہ ۱۲-۱۴: اللہ دوزخ کو مجرموں سے بھر دے گا
 آیہ ۱۵-۱۷: اہلِ ایمان کی خصوصیات
 آیہ ۱۸-۱۹: بہشت میں مؤمنوں کا اجر
 آیہ ۲۰-۲۲: جہنم میں کافروں کی سزا
 آیہ ۲۳-۲۵: معاد کے بارے میں قرآنی معارف کی تورات میں تأیید
 آیہ ۲۶-۲۷: قیامت برپا کرنے اور کافروں کو سزا دینے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں
 آیہ ۲۸-۳۰: قیامت کے دن کافروں پر عذاب کا حتمی‌ ہونا

مفاہیم حکیم الامت

حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
 سورہ سجدہ کا اصلی ہدف مبدأ و معاد پر استدلال اور ان سے مربوط شبہات کا ازالہ قرار دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن، نبوت، آیات الہی پر ایمان لانے والے مؤمنین اور خدا کی عبودیت سے خارج ہونے والے فاسقین کا فرق نیز مومین کو ان کی تصور سےماوراء ثواب اور فاسقین کودنیااور آخرت میں عذاب کی بشارت ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں گفتگو ہوتی ہے۔
تفسیر نمونہ میں سورہ سجدہ کا مقصد مبدا و معاد پرایمان کی تقویت اور تقوا اور پرہیزگاری کی طرف حرکت میں نشاط پیدا کرنا اور سرکشی اور طغیان سے دوری اختیار کرتے ہوئے انسان کی حقیقی مقام و مرتبے کی طرف دھیان دینا قرار دیتے ہیں اور اس کے مباحث کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

قرآن کی عظمت اور خدا کی طرف سے اس کا نازل ہونا؛

زمین و آسمان میں خدا کی نشانیاں اور اس کائنات کی تدبیر؛

انسان کی خلقت میں مادی اور معنوی پہلو اور اسے بے انتہاء علم و دانش کے اوزار (حواس خمسہ) سے نوازنا؛

موت اور اس کے بعد کا عالم؛

مومنین کو جنہ الماوی اور فاسقین کو جہنم کے عذاب کی بشارت؛

بنی‌اسرائیل اور گذشتہ امتوں کی مختصر تاریخ؛

توحید اور لجوج دشمنوں کی تہدید۔

خلاصہ 

سورہ سجدہ مکی ہے، 30 آیات اور 3 رکوع ہیں، ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 75 ہے۔اکیسویں پارہ کے چودھویں رکوع سے شروع ہو کر سولہویں رکوع تک ہے آیت 15 میں سجدہ کے مضمون کی مناسبت سے ہی نام قرار دیاگیا۔یہ قیام مکہ کے متوسط دور میں نازل ہوئی جب ابھی ظلم و جبر میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔سورت کا موضوع، توحید، آخرت اور رسالت کے متعلق شبہات کو رفع کرنا اور تینوں حقیقتوں کی دعوت دینا ہے۔

منکرین سبق حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دی گئیں اور وہ ان لوگوں کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں۔اللہ ہی بارش کرتا ہے۔کھیتی کو سیراب کر کے تیار کرتا ہے ،تو اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیں کہ اس دن نہ تو تمہارا عقیدہ کام دیگا اور نہ تمہیں کوئی مہلت ملے گی۔آپ ایسے لوگوں سے منہ پھیرلیں۔انہیں پتہ چل جائیگا کہ عذاب کب آتا ہے

ماخوذ
تفسیر ابن عباس
بیان القرآن
ہدایت القرآن
صفوۃ التفاسیر
کمالین

امتیاز ندوی۔۔۔

جمعرات، 10 اکتوبر، 2019

سورہ لقمان کا مختصر تعارف

1 تبصرے
سورہ لقمان کا مختصر تعارف

نام : سورہ لقمان ( ایک صالح بزرگ کا نام)
پارہ نمبر : 21
سورہ نمر 31
عدد آیات : 34
رکوع : 4 
کلمات : 748
حروف : 2110

وجہ تسمیہ :

ترتیبی اعتبار سے قرآن پاک کی اکتیسویں(31) سورت ہے، جب کہ اس کا نزولی نمبر57 ہے، یہ مکی سورت ہے۔۔۔۔۔
”لقمان“ ایک بزرگ حکیم کا نام ہے۔ آیت 12 میں حضرت حکیم لقمان کو حکمت عطاء کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ سورہ مبارکہ میں اُن نصیحتوں کا ذکر ہے جو لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو کیں تھیں،  اسی مناسبت سے یہ سورہ لقمان کہلاتی ہے۔
سورہ لقمان میں بتایا گیا ہے کہ اللہ بھی حکیم ہے اور اس کی کتاب قرآن بھی حکیم ہے۔ حضرت لقمان کو بھی حکمت عطاء کی گئی تھی کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں آزمائشیں اور آخرت میں جزاء وسزا کا نظام بھی حکمت پر مَبنی ہے۔

حکیم لقمان کا ذکر
آیات 1 تا 5
کتاب سے فائدہ اٹھانے والوں کی صفات بیان کی گئی ہیں
نماز پڑھتے ہیں
فکر آخرت رکھتے ہیں
اللہ کی راہ میں خرچ کرتےہیں
آیات 6 تا 7
دو قسم کے لوگوں کا بیان ۔ ایک کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایک کلام اللہ کے بجائے
لھو الحدیث میں گم ہو جاتے ہیں
(1) لھو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غافل کردے
(2) حضرت لقمان علیہ السلام کا ذکر
(3) حضرت لقمان کی بیٹے کو نصیحت
(4) شرک نہ کرو
(5) والدین کے حقوق ادا کرو
(6) اللہ سے ڈرو
(7) نماز قائم کرو
(8) نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو
(9) مصیبت میں صبر کرو
(10) تکبر نہ کرو
(11) لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو
(12) اللہ کی نعمتیں پا کر کچھ لوگ نافرمانی کرتے ہیں اور کچھ فرمانبرداری 
(13) کائنات کی نشانیوں کا بیان
آیت 33
(14) نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کےدنیا کی زندگی اور شیطان دھوکے میں نہ ڈالے

اس سورہ میں بتایا گیا ہے کہ دین کے معاملہ میں آدمی اپنے باپ دادا کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرے جو اللہ کے الٰہ واحد ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے کے بجائے وحی الٰہی کی روشنی قبول کر لے جو اس کی زندگی کو سنوارنے والی اور اسے کامیابی کی منزل کو پہنچانے والی ہے۔
اس سورہ مبارکہ میں آباء پرستی کی مذمت، شرک کی نامعقولیت اور توحید کی صداقت کو سمجھانے کے لئے لقمان حکیم کی نصیحتوں کو پیش کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ ہمیشہ سے سلیم الفطرت اور معقول انسان شرک سے بیزار اور توحید کی صداقتوں کے قائل رہے ہیں۔ نومسلم نوجوانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ انہیں اپنے مشرک والدین کے ساتھ حسنِ سلوک تو لازماً کرنا چاہیے، لیکن شرک کے مسئلے میں اُن کی اطاعت جائز نہیں۔
اگر سارے درخت قلم بن جائیں، سمندر دوات بن جائیں، سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ختم نہ ہوں گیں۔(27)

قرآن ہدایت و رحمت:

’’سورہ لقمان‘‘ کے شروع میں بتایا گیا کہ قرآن پاک ہدایت و رحمت ہے، ان لوگوں کے لئے جوکہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے لوگ قیامت میں سرخرو ہوں گے۔

گمراہی اختیار کرنے والے:
پھر ان لوگوں کا تذکرہ ہے، جنہوں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے گمراہی اختیار کی، اور ہدایت کا مذاق اڑایا اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، تو تکبر سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں، گویا سنا ہی نہیں، ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں ذلت آمیز عذاب ہے۔
حکیم لقمان اور ان کی نصیحتیں:
حضرت حکیم لقمان اللہ تعالیٰ کے بہت نیک اور برگزیدہ بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں علم و معرفت، حکمت و دانائی، دیانتداری، اور راست بازی جیسے اوصاف سے نوازا تھا، باپ اپنے بیٹے کا سب سے بڑا خیرخواہ ہوتا ہے، حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کیں وہ اتنی پیاری اور اہم تھیں کہ قرآن پاک نے اس کو اپنا حصہ بنا لیا۔ 
(1) اے میرے پیارے بیٹے، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ 
(2) ماں باپ کی شکرگزاری اور اطاعت فرض ہے مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کہیں تو اطاعت جائز نہیں۔ 
(3) اے میرے پیارے بیٹے اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی بے سوراخ پتھر یا آسمان و زمین میں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ اسے ضرور لے آئے گا۔ 
(4) اے میرے پیارے بیٹے، نماز قائم کر۔ 
(5) نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو کہ یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ 
(6) زمین پر اکڑ کر مت چلو، اللہ تعالیٰ کسی متکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ 
(7) اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو۔ 
(8) اپنی آواز کو دھیما رکھو کہ سب سے بدترین آواز گدھے کی ہے۔
اللہ کے کلمات:
اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان و شوکت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات اور صفات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
شرک کی مذمت:
مشرک جب سمندر میں پھنس جاتے ہیں، تو اللہ کو پکارتے ہیں، مگر جب خشکی پر پہنچ جاتے ہیں تو شرک کرنے لگتے ہیں۔
غیب کی چابیاں:

پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، 

(1) قیامت کب آئے گی 
(2) بارش کہاں اور کتنی برسے گی 
(3) شکم مادر میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے 
(4) انسان کل کیا کرے گا 
(5) موت کب اور کس جگہ آئے گی۔

ماخوذ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن عباس۔
ھدایت القرآن۔
بیان القرآن
صفوۃ التفاسیر
جلالین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2019

نداء الی اصحاب الخیر

2 تبصرے
نداء الی اصحاب الخیر
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
بعد سلام مسنون 
تمام اصحاب خیر سے اپیل ہےکہ جامعہ عربیہ تجویدالقرآن مسونی کالنجر باندہ یوپی کی لائبریری میں بوجہ طلبۂ کثیر درسیات ومراجع کی قلت علاوہ ازیں قدیم کتابیں کثرت استعمال کی وجہ سے بوسیدہ اور مخروق ہیں لہذا تمام اہل خیر سے درد مندانہ اپیل ہے کہ حسب استطاعت کتابیں خرید کر مذکورہ  پتہ پرارسال فرمائیں بصورت دیگردرج ذیل کھاتہ میں مناسب رقم ارسال فرمائیں انشاءاللہ عند اللہ ماجور ہوں گے مزید تحقیقات و امداد کے لیے تشریف لائیں جامعہ آپکے استقبال کا منتظر ہے

All praise be to Allah bless and peace be upon his prophet (SAW) and on his all companions۔   After all
it's appealed to all charities and well wisher financially that the library of Jamia Arabia tajweed ul Quran need to classical sources and referrals books for students are coming here more as well as all oldest books were using since long time have broken and useless so requested to all Muslim that kindly purchase the books and send them here on following address or send proper money what Allah have given you on Bank number is given below

نحمده ونصلي على رسول الكريم اما بعد 

تحيه وسلاما
نداء الى اهل الخير والاحسان و اصحاب القلوب الرحيمه ان مكتبه الجامعة العربية لتجويد القران قدامسها الحاجة الى الكتب الدرسية والمراجع والمصادر بمجئ كثرة من الطلبةهنا ومع ان الكتب القديمه فجلدها مشقوق ورقها مخروق لكثره استعمالها المسلسل والمستمر فعليكم يا امة المسلمة! تعاونوا عليها بارسال الكتب على العنوان المذكوراو ارسال الرقوم المناسبة ما اعطاكم الله في رقم البنك المكتوب في التالية فجزاكم الله في الدارين

Jamia Arabia Tajweed ul Quran Masuni kalinjar Banda UP  Pin. 210129

Bank Details
State Bank of India Banda _16807
IFSC. Code. SBIN0016807
A/C.  30595913123

Allahbad Bank Klinjar 0210814
IFSC. Code. ALLA0210814
A/C. 50302551045

مندرجہ ذیل تمام کتابیں دس دس عدد مطلوب ہے

ثانویہ ثانیہ

آسان نحو
تمرین الصرف
تمرین النحو
دروس الاشیاء
القراءۃ الراشدہ اول
قصص النبیین اول ثانی
مثالی حکمران
آمد نامہ
فارسی کی پہلی
مادری زبان اردو
ہماری پوتھی چہارم
تسہیل التجوید
تعلیم الاسلام

ثانویہ ثالثہ

کتاب النحو
کتاب الصرف
قصص النبیین ثالث رابع
القراۃ الراشدہ ثانی
معلم الانشاء اول
الفقہ المیسر
گلزار دبستان
فارسی کی دوسری
اصول التجوید

ثانویہ رابعہ

تہذیب الاخلاق
کلیلہ و دمنہ
معلم الانشاء
قصص النبیین رابع خامس۔
القراءۃ الراشدہ ثالث
قدوری
ہدایت النحو
علم التصریف
قصص من تاریخ الاسلام

ثانویہ سادسہ

صفوۃ التفاسیر
ریاض الصالحین
منثورات
دیوان حماسہ دوم
صور من حیاۃ الصحابہ
معلم الانشاء دوم
قطر الندیٰ
شذالعرف
شرح وقایہ
ہماری بادشاہی

عالیہ اولی

تفسیر منیر
مشکواۃ اول
ھدایہ اول
مختارات اول
البلاغۃ الواضحہ
مبادئ فی اصول الفقہ
مجموعۃ من النظم
رسالۃ التوحید
خلافت عباسیہ تاریخ اسلام سوم چہارم
بین الاقوامی اسلامی جغرافیہ
صور من حیاۃ الصحابہ
صور من حیاۃ الصحابیات

عالیہ ثانیہ

تفسیر نسفی
مشکواۃ دوم
ھدایہ دوم
مختارات دوم
البلاغۃ الواضحہ
اصول الشاشی 
تفہیم المنطق
نخبۃ الفکر
العقیدہ الطحاویہ
العقیدۃ السنیہ
اذاھبت ریح الایمان
مبادئ فی اصول تفسیر
دیوان حماسہ اول

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔