بدھ، 4 دسمبر، 2019

ٹوٹے دل کی صدا۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے

ٹوٹے دل کی صدا۔۔۔۔۔۔

اے اللہ ! میں بے بس ہوں 
لاچار ہوں کوئی تدبیر کام نہیں آتی 
یہ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا 
ایسے دشمنوں کے 
جو مجھ پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں 
اگر تم مجھ سے ناراض نہیں 
تو مجھے کوئی پروا نہیں 
میں تجھے مناتا رہوں گا 
یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے

ایک ایک لفظ درد میں دبا ہوا

ایک ایک جملہ کرب و الم کی تصویر

 دس سال سے 
ہاں مسلسل سال سے 
وہ غم پی رہا تھا 
وہ درد سہہ رہا تھا 
اس مدت کا ایک ایک لمحہ اس کی دل شکستگی کا گواہ ہے 
اس دہ سالہ دور کا ایک ایک منٹ اس کے آنسوؤں کا شاہد ہے 
اس کا دل۔۔۔۔ 
نازک سا دل
 آہ !  کتنی مرتبہ توڑا گیا تھا 
اس دس سالوں میں کتنی مرتبہ وہ راتوں کو رویا تھا کتنی مرتبہ اس کی آنکھوں سے اشک باری ہوئی تھی کتنی مرتبہ اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا مگر آج ۔۔۔۔۔۔۔

آج تو نہ جانے کیا ہوا تھا 

آج تو وہ خود ہی ٹوٹ گیا تھا 

دس سال سے جو دردو کرب اس کے سینے میں دفن تھا 
آج یکلخت وہ زبان پر آگیا 
جسے سارے دنیا کی قوت برداشت دی گئی تھی 
جسے سارے جہاں کے تحمل سے نوازا گیا تھا 
وہ آج شکوہ کناں ہیں ذرا سوچو تو اس کا دل کس طرح پاش پاس کیا گیا ہوگا 
ہزار غم اس نے سہےتھے ہزاروں ذلتیں اس نے برداشت کی تھیں لاکھوں گالیوں نے ان کے سینے میں چھید کئے تھے مگر آج کیا ہوا تھا 
اس قدر بے خود وہ ہوگیا تھا
دعا تو وہ روز مانگتا تھا 
مگر آج کی دعا تو عرش کو ہلا گئی تھی 
آج تو فرشتوں کے دل بھی سینے سے باہر آ گئے تھے آج تو آسمان پر نوحہ ہو رہا تھا فرشتےرو رہے تھے آسمان والے گڑگڑا رہے تھے 
سیارگان فلک تڑپ رہے تھے 
چاند ستارے سبھی ماتم کناں تھے 
آج تو ذات باری کو بھی جلال آ گیا تھا 
عرش کپکپا رہا تھا 
اللہ تعالی غضبناک تھا 
آہ !... کتنی آرزوؤں کے ساتھ وہ گیا تھا 
دل میں میں کتنے ارمان سما ئے وہ یہاں پہنچا تھا مگر سب نے ٹھکرایاتھا 
سب نے دل توڑا تھا 
سب نے پتھر برسائے تھے 
سب نے خون بہایا تھا تھا 
سب نے غم دیا تھا 
ستر اسی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا تھا اس نے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے 
زبان پیاس سے سوکھ گئی تھی 
حلق میں کانٹے پر گئے تھے 
مگر کسی نے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ دیا 
کسی نے دل رکھنے کے خاطر کھانے کو بھی نہ پوچھا کیا کوئی بھی نہ تھا 
جو عزت سے گھر بٹھا تا 
اس کی بات سنتا 
وہ تو بڑے مہمان نواز تھے 
ان کی سخاوت بے مثال تھی 
مگر آج کیا ہوا تھا ان کی سخاوت اور فیاضی کو 
آج ان کے پاس ایک پردیسی کے لئے ایک گلاس پانی بھی نہ تھا 
اور پردیسی بھی کون 
آہ ! ۔اللہ بھی زمانے کے کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے 
وہ وہ تھا جس کے لیے کائنات سجائی گئی تھی 
یہ پانی یہ پھل یا پیڑ پودے سب اسی کے لئے تھے سب اسی کے تھے 
مگر آج اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا 
تھک ہار کر جب کہ سارا بدن چور چور اور قدم لہولہان تھے 
گرتے پڑتے ایک باغ میں جا پہنچا 
ذرا کچھ دم ملا تو چوٹ کھائے ہوئے دل کے زخم الفاظ بن کر زبان سے ر س پڑے 
اور شکستہ دل لڑکھڑاتی زبان اور اشکو کے سیل رواں کے ساتھ اس نے یہ درد بھری دعا مانگی 
اے اللہ میں بے بس لاچار ہوں 
یہ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا ہے 
ایسے دشمنوں کے جو مجھ پر ظلم ستم ڈھاتے ہیں اگر تم مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں 
یہ دعا کیا تھی ؟
زخم جگر اور سوز دل تھا 
جو دعا بن کر لبوں تک آ گیا تھا 
یہ دل کی وہ ٹھیس تھی 
جس نے الفاظ کا جامہ پہن لیا تھا 
مگر الفاظ کب جذبات کی ترجمانی کرسکتے ہیں 
درد کیسے الفاظ میں ڈھل سکتا ہے 
یہ تو انسان کی مجبوری ہے کہ اس کے پاس اظہار جذبات  کے لیے کھوکھلے الفاظ کے سواکوئی سہارا نہیں 
درد تو درد ہے 
نہ سنایا جا سکتا ہے 
نہ دکھایا جا سکتا ہے 
اسے تو بس محسوس کیا جاسکتا ہے 
مگر حیف صد حیف دوسروں کا درد محسوس کرنے والے ہیں ہی کتنے؟ 
ایک وہ تھا جو سب کا درد اپنے سینے میں لئے تھا 
اور خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر 
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے 
کی تصویرمگر اس بے حس دنیاں نےاس کا غم بھی نہ سمجھا 
الٹا اسے غم پہ غم درد پہ درد اور زخم پہ زخم دیا 
اور آج تو ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا 
سنگدلی اور قساوت قلبی کی حد ہو گئی 
آج اسے جو درد دیا گیا اسے بس اس کے دل نے ہی محسوس کیا ہوگا 
کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر ؟
آج جو اس نے دعا مانگی تو اس کی آواز ساتوں آسمان تک گونج اٹھی 
فرشتے حاضر ہوئے اور اس بستی کو الٹنےکی درخواست کی 
مگر ہائےرے قلب رحیم ودل شفیق ! 
وہ اس موقع پر بھی گویا ہوا تو زبان سے محبت کے پھول ہی جہڑے: 
اللہ یہ نادان ہے اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ہو سکتا ہے ان کی آئندہ نسل ایمان لائیں 
آج اس کا دل جس بری طرح پاش پاش کیا گیا تھا اسے جوڑنے کی اب ایک ہی سبیل تھی اس زمین کی چھاتی پر زخم کا کوئی مرہم نہ تھا 
اب تو بس وہی اسے تسکین دے سکتا تھا 
جس نے اسے پیدا کیا تھا 
اور یہی ہوا بھی اللہ تعالی نے اسے تسلی دینے کے لیے ساتوں آسمان سے اوپر اپنے پاس بلا لیا 
جس طرح ظلم کی انتہا بندوں نے کی تھی 
اسی طرح مالک کی طرف سے محبت کی انتہا تھی جس بری طرح زخم لگائے گئے تھے 
اسی درجے کے ٹانکے لگائے گئے 
آج اس کے محبوب نے اسے اپنے پاس بلایا 
سارے درد پھیکے پڑ گئے 
سارے غم ہلکے ہو گئے 
سارے زخم مندمل ہو گئے 
اس نے بھی سب دردکہہ سنایا 
اور محبوب نے بھی ہر دردکا درماں اور ہر زخم کا مرہم پیش کردیا 

محترم قارئین!

 یہ واقعہ حضرت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف کا واقعہ ہے جو اپنے سنگدلی و سختی حیوانیت و درندگی اور دوسری طرف لاچاری وہ بے بسی کی بے نظیر مثال ہے
 اسی طرح اس میں معراج کی طرف بھی اشارہ ہے جو زخم کے بعد مرہم اور شکستگی کے بعد دل بستگی کا سامان تھا 
یہ واقعہ جب یاد آتا ہے تو خون کے آنسو کے ساتھ لاتا ہے 
کوئی اسے پڑھے اور اور اس کی آنکھیں خشک رہیں یہ اس کے بے حس ہونے کی دلیل ہے 
یہ واقعہ ہمارے لئے عبرت کی داستان اور نصیحت کا فرمان ہے۔

 یہ دین بری قربانیوں سے آگے بڑھا ہے 
اور اب بھی قربانیوں سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے 
اس کے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو ہیں اس کے پسینے کے مبارک قطرے ہیں 
ان کے صحابہ کی قربانیاں ہیں 
اس لیے خدارا اسے بر باد نہ ہونے دیں 
اسے ضائع نہ ہونے دیں 
یہ قربانی مانگتا ہے 
اور اس کے بعد ہی فتح وکامرانی ملتی ہے 
ہم اتنی بڑی قربانی دینے کے شاید اہل نہیں تھے اس لیے اللہ تعالی نے بڑی بڑی قربانیاں پہلے ہی لے لیں 
اب ہم سے جتنا ہو سکے ہم بھی اس کی ترقی میں حصہ لیں 
یہی ہماری سعادت ہے 
اس دین کو آج بھی 
بلال رضی اللہ عنہ 
صہیب رضی اللہ عنہ 
عمار رضی اللہ عنہ 
خباب رضی اللہ عنہ 
اور یا سر رضی اللہ عنہ 
کی ضرورت ہے اور بڑے خوش نصیب ہیں وہ جو اس سعادت کے لیے قبول کر لیے جائیں 
ہماری کم فہمی یہ ہے کہ ہم 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ 
حضرت خالد رضی اللہ عنہ 
حضرت سعد رضی اللہ عنہ 
اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہیں 
مگر بلال و خباب رضی اللہ عنہم کو نہیں دیکھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطرہائے اشک وخون کو بھول جاتے ہیں اور پھر تمنا کرتے ہیں عہدے مدینہ کی !
ایں خواب است و جنوں است و محال است

پیام سیرت۔۔۔۔۔۔۔