جمعہ، 28 مئی، 2021

بینک: تعریف، ضرورت، اہمیت، معیشت میں کردار

0 تبصرے

 

بینک: تعریف، ضرورت، اہمیت، معیشت میں کردار

کامرس

مفتی شیخ نعمان شریعہ ڈپارٹمنٹ، بینک اسلامی ہماری ذمہ داری:

بیٹا یہ بجلی کا بل بھر آؤ۔ میں نے وہ بل لیا اور قریبی بینک میں بجلی کا بل جمع کروانے چلا گیا۔وہاں جاکر کھڑکی میں بل اور اس کے پیسے دیے ۔وہاں موجود شخص نے بل پر مہر لگائی، دستخط کئے۔ اور ایک حصہ کاٹ کر رکھ لیا۔دوسرا حصہ مجھے دے دیا۔یہ میرا بینک سے پہلا تعارف تھا۔کہ بجلی ،پانی اور گیس کے بل بینک میں جمع ہوتے ہیں۔ایک آدھ بار والد صاحب نے کوئی چیک دیا اور کہا کہ یہ فلاں بینک سے کیش کروا کے والدہ کو لا دینا۔وہاں گئے چیک دیا اس پر کاؤنٹر پر موجود شخص نے دو دستخط لئے اور رقم دے دی ۔جس سے معلوم ہوا کہ بینک سے پیسے بھی ملتے ہیں۔پھر وقت گزرتا رہا ۔بینک کے بارے میں مزید آگاہی ہوئی کہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا جاتا ہے۔بینک قرض بھی دیتا ہے۔بینک کے پروفٹ اینڈ لاس اکاؤنٹ پر نفع بھی ملتا ہے۔ ان تمام مراحل سے ہم میں سے ہر ایک شخص ضرور گزرا ہوگا۔اور ہر ایک کا جس قدر بینک سے واسطہ ہوگا ہم بینک کو اتنا ہی سمجھتے ہوں گے۔

لیکن بینک کی حقیقت کیا ہے؟

بینک کا بنیادی کردار کیا ہے؟

بینک کے معیشت کو کیا فائدے ہیں؟ 

بینک کس طرح کام کرتے ہیں؟

مزیدبرآں، 

جمعہ، 7 مئی، 2021

شبِ قدر کی حقیقت، علامات اور اعمال

0 تبصرے


شبِ قدر کی حقیقت، علامات اور اعمال


رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی بڑی فضیلت واہمیت ہے۔ یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی، اعتکاف جیسی عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ اسی عشرہ کی کسی طاق راتوں میں سے ایک رات "شبِ قدر"، یا "لیلۃ القدر" ہوتی ہے۔ شبِ قدر یا لیلۃ القدر بڑی بابرکت اور فضیلت واہمیت والی رات ہے۔ اس رات کے فیوض وبرکات کثرت سے حدیثوں میں آئے ہیں؛ جب کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں، ایک سورت نازل فرمایا اور اس سورۃ میں اس کی رات کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمایا ہے۔ اس سورۃ کا نام سورۃ القدر ہے۔ شب قدر کا مطلب ہے کہ وہ رات جس کی اللہ کے نزدیک قدر ومنزلت ہو۔


''قدر'' کا معنی اور مطلب کیا ہے؟ 

''قدر'' کے ایک معنی عظمت وشرف کے ہیں۔ ..

اس رات کو "لیلۃ القدر" (شبِ قدر) کہنے کی وجہہ اس رات کی عظمت وشرف ہے۔ ابو بکر وراق نے فرمایا کہ اس رات کر لیلۃ القدر اس وجہہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر وقیمت نہ تھی، اس رات میں توبہ واستغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر وشرف بن جاتا ہے۔" (معارف القرآن 8/791)

صرف اس امت کو شب قدر ملی: 

شب قدر جیسی عظیم الشان اور انوار وبرکات والی رات، نبی اکرم -ﷺ- کی فکر کے نتیجے میں، صرف امت محمدیہ کو ملی۔ شبِ قدر اللہ کی جانب سے بہت بڑا احسان ہے جو کسی دوسری امت کے حصے میں نہیں آئی۔ نبی اکرم -ﷺ- نے فرمایا : "اللہ سبحانہ وتعالی نے میری امت کو شبِ قدر عطا فرمایا اور اس سے پہلے کسی (امت) کو یہ عطا نہیں فرمایا ۔" (جامع الأحاديث، حدیث: 39912)