پیر، 15 اپریل، 2019

ساتوں بر اعظم

0 تبصرے
ساتوں بر اعظم

آپ یہ جانتے ہی ہوں گے کہ ہماری زمین کا 70.8 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور باقی حصہ خشک ہے جہاں پر ہم انسان بستے ہیں۔ اکثر دوستوں کے ذہن میں خیال آتا ہو گا کہ خشک زمین کو سات حصوں میں تقسیم کیوں کیا گیا ہے۔ یعنی ہماری زمین کے سات براعظم کیوں ہیں تو آج ہم آپ کو اس کے متعلق دلچسپ معلومات بتاتے ہیں۔ ’’بر‘‘ کا مطلب خشکی ہے۔ اور اعظم بہت بڑے کو کہتے ہیں۔ تو براعظم کا مطلب ہوا۔ خشکی کا بہت بڑا ٹکڑا جس کے اردگرد پانی ہو۔ دنیا کو سات براعظموں میں اس لئے تقسیم کیا گیا ہے کہ زمین کا ایک بہت بڑا علاقہ جو عام خیال سے سمندر میں گھرا ہوا ہوتا ہے، براعظم کہلاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دنیا سات بڑے جزیروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے دنیا کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس تعریف کے مطابق سات براعظم ہیں۔ ایشیا ، یورپ ، افریقہ ، انٹارکٹیکا ، آسٹریلیا ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ جبکہ زمین کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کو قریب کے بڑے براعظموں میں شمار کر لیا جاتا ہے۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ خیال درست نہیں کیونکہ یورپ اور ایشیا روس کے کچھ زمینی راستوں سے جڑے ہوئے ہیں اور یوریشیا کہلاتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک براعظموں کی اصل تعداد پانچ ہی سمجھی جاتی ہے۔ یعنی افریقہ، یوریشیا، امریکہ، انٹارکٹکا اور آسٹریلیا۔ اگر آپ اولمپک کے نشان یعنی پانچ سرکلز کو دیکھیں تو اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ براعظم پانچ ہی ہیں۔

کیونکہ اولمپک تنظیم کا نشان پانچ براعظموں کے لئے پانچ دائروں پر مشتمل ہے۔پانچ براعظموں کی نمائندگی کرنے والا اولمپک تنظیم کا نشان رقبے اور آبادی دونوں لحاظ سے سب سے بڑا براعظم یوریشیاء ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت ایشیا میں رہتی ہے۔ ساتوں براعظم مل کر زمین کا صرف ایک تہائی بنتے ہیں اور باقی حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔

ایشیاء

براعظم ایشیاء دنیا کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ یہ زمین کے کل رقبے کا 8.6 فیصد، کل بری علاقے کا 29.4 فیصد اور کل آبادی کے 60 فیصد حصے کا حامل ہے۔ ایشیاء روایتی طور پر یوریشیا کا حصہ ہے جس کا مغربی حصہ یورپ ہے۔ ایشیاء نہر سوئز کے مشرق، کوہ یورال کے مشرق اور کوہ قفقاز یا کوہ قاف ، بحیرہ قزوین اور بحیرہ اسود کے جنوب میں واقع ہے۔ قرون وسطیٰ سے قبل یورپی ایشیاء کو براعظم نہیں سمجھتے تھے تاہم قرون وسطیٰ میں یورپ کی ثانیہ کے وقت تین براعظموں کا نظریہ ختم ہو گیا اور ایشیاء کو بطور براعظم تسلیم کر لیا گیا۔

یورپ

یورپ (europe) دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔ یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔ یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔

افریقہ

افریقہ رقبے کے لحاظ سے کرہ ارض کا دوسرا بڑا بر اعظم ہے، جس کے شمال میں بحیرہ روم، مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس واقع ہے۔ دلکش نظاروں، گھنے جنگلات، وسیع صحراؤں اور گہری وادیوں کی سرزمین جہاں آج 53 ممالک ہیں جن کے باسی کئی زبانیں بولتے ہیں۔ افریقہ کے شمالی اور جنوبی حصے نہایت خشک اور گرم ہیں جن کا بیشتر حصہ صحراؤں پر پھیلا ہوا ہے۔ خط استوا کے ارد گرد گھنے جنگلات ہیں۔ مشرقی افریقہ میں عظیم وادی الشق کے نتیجے میں گہری وادیاں تشکیل پائیں جن میں کئی بڑی جھیلیں بھی واقع ہیں۔ مشرق میں عظیم وادی الشق ہے، جو دراصل زمین میں ایک عظیم دراڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ عظیم دراڑ جھیل نیاسا سے بحیرہ احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ دراڑ مزید پھیلتی گئی تو ایک دن قرن افریقہ براعظم سے الگ ہو جائے گا۔

انٹارکٹکا

 انٹارکٹکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے جبکہ اس کی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ انٹارکٹکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔ انٹارکٹکا یونانی لفظ Antarktikos سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آرکٹک کے مدمقابل۔ اس براعظم کو پہلی بار روسی جہاز راں میخائل لیزاریف اور فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن نے 1820ء میں دیکھا۔

براعظم آسٹریلیا

یہ براعظم ملک آسٹریلیا اور قریبی جزائر ریاست تسمانیا ، نیو گنی، جزائر ارو اور جزائر راجہ امپت پر مشتمل براعظم ہے۔ اس براعظم کے بڑے شہروں میں سڈنی، ملبورن، برسبین، ایڈیلیڈ، گولڈ کوسٹ، کینبرا اور وولونگانگ شامل ہیں۔ اس کا کل رقبہ 84 لاکھ 68 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ جو دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے۔

جنوبی امریکہ

براعظم جنوبی امریکہ، جنوبی امریکہ مغربی نصف کرہ میں واقع ایک براعظم ہے جس کا بیشتر حصہ جنوبی کرہ ارض میں واقع ہے۔ مغرب میں اس براعظم کی سرحدیں بحر الکاہل اور شمال اور مشرق میں بحر اوقیانوس اور شمالی امریکہ اور شمال مغرب میں بحیرہ کیریبیئن سے ملتی ہیں۔ جنوبی امریکہ کا نام شمالی امریکہ کی طرح یورپی جہاز راں امریگو ویسپوچی کے نام پر رکھا گیا جس نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ امریکہ دراصل ہندوستان نہیں بلکہ ایک نئی دنیا ہے جسے یورپی نہیں جانتے۔

شمالی امریکہ

شمالی امریکہ دنیا کے 7 براعظموں میں سے ایک براعظم ہے۔ اس براعظم میں کینیڈا اور امریکہ اہم ممالک ہیں۔ اس براعظم کے قدیم باشندوں کو ( Red Indians ) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس قوم کو نوآبادکار یورپیوں نے قتل عام کے بعد تقریباً ختم کر دیا تھا۔

شِرک ناقابلِ معافی جُرم ہے

0 تبصرے

شِرک ناقابلِ معافی جُرم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بہت سے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان گناہوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ 
ان گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم کہا اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے 
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا﴿48﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔(سورۃ النساء ۴۸)
ایک اور دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴿116﴾
اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے وا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
(سورۃ النساء ۱۱۶)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴿72﴾
یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے وا کوئی نہیں ہوگا۔
(سورۃ المائدہ ۷۲)
«أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ» 
(42-الشورى:21)
اور آیت
«اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ»
(53۔النجم:23)
مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا۔
«اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ»
(31۔ لقمان:13) 
شرک ظلم عظیم ہے
شرک کی اقسام 
قبر پرستی
ذات کا شرک
صفات کاشرک 
واسیلے کا شرک 
اختیارات کاشرک 
دعا و پکار کا شرک 
مالی وبدنی شرک 
نبیﷺکو مدینہ والی قبر می ذندہ ماننے کاشرک 
غیروااللہ کی نظرو نیاز کا شرک 
تعویز گنڈوں کا شرک
فرقہ پرستی کا شرک
پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء اکرام کے نام لیکر اور باقی انبیاء اکرام کے بغیر نام لیے اِن کے فضائل و مناقب کا ذکر کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اِن کو چُن لیا تھا اور صراطِ مستقیم کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی تھی۔ 
آگے فرمایا:
وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔
(سورۃ الانعام ۸۸)
اور اللہ تعالیٰ نے جنابِ خاتم النبیین محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿65﴾ 
بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴿66﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے [کے تمام نبیوں] کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا۔ (65) 
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔ (66)
(سورۃ الزمر)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ
(۱)شرک ناقابلِ معافی گناہ ہے۔ 
(۲) مُشرِک پر جنّت حرام اور اُس کا ابدی ٹھکانہ جہنم ہے۔ 
(۳) شرک ظلم عظیم ہے۔ 
(۴) شرک کی وجہ سے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ 
(۵) شرک بہت بڑے جُھوٹ اور افتراپردازی کا نام ہے۔ 
(۶) مُشرک کائنات کا سب سے بڑا گُمراہ انسان ہے۔ 
(۷) اگر بلفرض محال انبیاء اکرام سے بھی شرک کا صدور ہو جاتا تو اُن کے بھی تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈریں اپنا محاسبہ کریں اور شرکیہ عقائد سے توبہ کرو۔ وگرنہ مُوت کے وقت اور بعد الموت شرک سے معافی نہیں مِل سکتی اور ابدی ٹھکانہ جہنم بنا دیا جائے گا۔ 
دُعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم کی راہ پہ چلائے۔

بدھ، 3 اپریل، 2019

قرآن کریم کے تیس پاروں کا مختصر خلاصہ

0 تبصرے
قرآن کریم کے تیس پاروں کا مختصر خلاصہ
پہلا پارہ
اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:
1۔اقسام انسان 
2۔اعجاز قرآن 
3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام 
4۔احوال بنی اسرائیل 
5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام 1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔ مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں: ۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔ اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔ 2۔اعجاز قرآن: جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔ 3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام : اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔ 4۔احوال بنی اسرئیل: ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔ 5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔
دوسرا پارہ
اس پارے میں چار باتیں ہیں:
 1۔تحویل قبلہ 
2۔آیت بر اور ابوابِ بر 
3۔قصۂ طاعون 
4۔قصۂ طالوت 
1۔تحویل قبلہ: ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔ 2۔آیتِ بر اور ابوابِ بر: لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔