شِرک ناقابلِ معافی جُرم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بہت سے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان
گناہوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
ان گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم
کہا اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ
ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا
عَظِيمًا﴿48﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے
سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا
گناه اور بہتان باندھا۔(سورۃ النساء ۴۸)
ایک اور دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ
ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا
بَعِيدًا﴿116﴾
اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے،
ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے
واﻻ بہت دور
کی گمراہی میں جا پڑا۔
(سورۃ النساء ۱۱۶)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ
الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴿72﴾
یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر
جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔
(سورۃ المائدہ ۷۲)
«أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ
شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ»
(42-الشورى:21)
اور آیت
«اِنْ هِىَ اِلَّآ
اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا
مِنْ سُلْطٰنٍ»
(53۔النجم:23)
مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن
والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے
امن میں رہے گا۔
«اِنَّ الشِّرْكَ
لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ»
(31۔ لقمان:13)
شرک ظلم عظیم ہے
شرک کی اقسام
قبر پرستی
ذات کا شرک
صفات کاشرک
واسیلے کا شرک
اختیارات کاشرک
دعا و پکار کا شرک
مالی وبدنی شرک
نبیﷺکو مدینہ والی قبر می ذندہ ماننے کاشرک
غیروااللہ کی نظرو نیاز کا شرک
تعویز گنڈوں کا شرک
فرقہ پرستی کا شرک
پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء اکرام کے نام لیکر اور باقی انبیاء
اکرام کے بغیر نام لیے اِن کے فضائل و مناقب کا ذکر کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے
اِن کو چُن لیا تھا اور صراطِ مستقیم کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی تھی۔
آگے فرمایا:
وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت
ہو جاتا۔
(سورۃ الانعام ۸۸)
اور اللہ تعالیٰ نے جنابِ خاتم النبیین محمّد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ
أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿65﴾
بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴿66﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے [کے تمام نبیوں] کی طرف بھی وحی
کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین
تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا۔ (65)
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔ (66)
(سورۃ الزمر)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ
(۱)شرک ناقابلِ معافی گناہ ہے۔
(۲) مُشرِک پر جنّت حرام اور اُس کا
ابدی ٹھکانہ جہنم ہے۔
(۳) شرک ظلم عظیم ہے۔
(۴) شرک کی وجہ سے تمام اعمال برباد
ہو جاتے ہیں۔
(۵) شرک بہت بڑے جُھوٹ اور
افتراپردازی کا نام ہے۔
(۶) مُشرک کائنات کا سب سے بڑا
گُمراہ انسان ہے۔
(۷) اگر بلفرض محال انبیاء اکرام سے
بھی شرک کا صدور ہو جاتا تو اُن کے بھی تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈریں اپنا محاسبہ کریں اور شرکیہ عقائد سے توبہ کرو۔
وگرنہ مُوت کے وقت اور بعد الموت شرک سے معافی نہیں مِل سکتی اور ابدی ٹھکانہ جہنم
بنا دیا جائے گا۔
دُعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں
صراطِ مستقیم کی راہ پہ چلائے۔










0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔