ووٹ یوں تو جدید مغربی فکر کی اختراع ہے مگر اپنی معنویت میں یہ کسی بھی طرح اسلام سے نہیں ٹکراتا۔ یہ ایک جامع اصطلاح ہے، ووٹ ایک رائے ہے، سفارش ہے، گواہی ہے، وکالت ہے، ہر ایک معنی میں یہ مکمل اسلامی ہے، کسی مغالطے یا کج فہمی کی وجہ سے اسے غیر اسلامی سمجھ لیا گیا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے ووٹ کی تین شرعی حیثیتیں ہیں:۔
-1 ووٹ ایک امانت ہے۔
-2 ووٹ ایک شہادت ہے۔
-3 ووٹ ایک سفارش ہے (شفاعت)
ووٹ اپنی ہر حیثیت میں اہم ہے، قرآن و حدیث میں ووٹ کی ہر حیثیت پر واضح نص موجود ہیں۔ امانت، شہادت اور سفارش کے موضوع پر قرآن میں ایک سے زاید بار ہدایات و احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۂ مومنون میں اہل ایمان کی صفات کے زمرے میں امانتوں اور عہد کی پاسداری کی تاکید آئی ہے، شہادت کے معاملے کو قرآن میں بار بار مختلف پہلوؤں سے اُجاگر کیا گیا ہے، جس سے اس کی اہمیت بلکہ فرضیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ امانت اور شہادت کے معاملے کو قرآن میں کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ کسی چیز کا قرآن میں تاکیداً موجود ہونے کا مطلب اس کے پرائم اصول ہونے کا اعلان ہے، لہٰذا اسلامی معاشرہ امانت، شہادت اور سفارش (شفاعت) کے سیدھے، سچے اور کھرے اصولوں پر استوار ہوتا ہے۔ آپ قرآن کا بغور مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت آپ پر عیاں ہوگی کہ ووٹ بھی دوسری عبادات یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح عبادت ہے اور صریح عبادت ہے۔ ووٹ بھی نماز، روزہ کی طرح فرض ہے، جس طرح اذان کی آواز سننے پر سارے کام کاج موخر کرکے مسجد کا رُخ کرنے کا حکم ہے اور رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے سارے معمولات رمضان اور روزے کے مطابق کرنے کا حکم ہے بالکل اسی طرح ووٹ کے اعلان کے بعد ووٹ کے لیے نکلنا بھی لازمی ہے۔ آپ کو امانت اہل امانت کے سپرد کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، آپ سے شہادت طلب کی جارہی ہے۔ لہٰذا شہادت (گواہی) چھپانا، نہ دینا یا غلط گواہی دینا یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ حق و باطل، غلط صحیح، سچ اور جھوٹ خلط ملط نہیں کیے جاسکتے۔ صاف، سیدھی اور سچی گواہی مطلوب ہے۔
ایک اور پہلو سے ووٹ کی اہمیت پر قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیجیے، اسلام میں عبادات کے ضمن میں شرائط، چھوٹ اور رعایت کا ایک نظام موجود ہے، نماز کھڑے ہو کر پڑھنا محال ہو تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر محال ہو تو لیٹ کر اور اشارے سے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ وضو کے لیے پانی میسر نہ ہو تو تیمم کیا جاسکتا ہے، سفر میں نماز مختصر ہوجاتی ہے، روزہ سفر یا بیماری کی علت کی وجہ سے چھوڑا جاسکتا ہے، جان کا خطرہ ہو تو توڑا بھی جاسکتا ہے۔ مگر شہادت حق ایسا فریضہ ہے جس کے لیے کوئی رعایت نہیں، اسے ہر حال میں حتیٰ کہ جان کا بھی خطرہ ہو تو اسے ادا کرنا ضروری ہے، ہلکے ہو یا بوجھل نکلو اللہ کی راہ میں۔ ووٹ ڈالنے کا طریقہ بنیادی طور پر مغرب سے آیا ہے اور مغرب میں اسے آزادی اظہار رائے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں آزادی اظہار رائے پر بہت بات کی جاتی ہے، اناپ شناپ، الل ٹپ ہر گفتگو کو اظہار رائے کی آزادی کے اندر بریکٹ کردیا جاتا ہے۔ اس معاملے کا بھی اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔
انسان اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہے، اس کے معانی کئی ہیں؟ اس کا مطلب ہے انسان اپنی رائے داخلی طریقے سے بنانے، سوچنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے آزاد ہے، اگر کسی کی رائے دھونس، دھاندلی، دباؤ، لالچ یا خوف کے خارجی ہتھکنڈوں سے بدلی جائے یا غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط تعبیر کرکے پروپیگنڈے کی دھول اڑا کر رائے کو متاثر کیا جائے تو یہ نہ صرف ناجائز ہوگا بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آزادانہ رائے کے اظہار کو مصنوعی طریقوں سے روکا جارہا ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی ہے، اسلام فرد کی رائے کا، اس کی آزادی کا احترام کرتا ہے، رائے کے اظہار کے فطری ذرائع کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اس پر کسی خارجی عوامل کے ناجائز استعمال کو ناپسند کرتا ہے، آزاد رائے اپنا نتیجہ خود پیدا کرنے کے لیے بھی آزاد ہے، غلط نتیجہ خود بخود رائے بدلنے یا رائے سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، رائے کو خود کار طریقے سے بدلنے کا بھی آزادانہ ماحول درکار ہے، یہ عین فطری عمل ہے، چناں چہ غلط رائے غلط نتیجہ پیدا کرنے کے بعد صحیح رائے کی طرف انسانی میلان آپ سے آپ بڑھے گا۔ انسانی ضمیر اسی طرح صحیح چیز کو اختیار اور غلط کو ترک کرتا چلا جاتا ہے، بس اس ضمیر پر کوئی قدغن غیر فطری طریقے سے نہ لگائی جائے یہ ضمیر بھی اللہ کی تخلیق ہے اور یہ انسانوں کے بھلے کے لیے کار فرما ہے۔ لہٰذا اگر آپ انسان کو صحیح طور پر آزادی اظہار رائے اور آزادی ضمیر کا موقع دیں گے تو وہ کبھی کبھار غلطی کرکے بہرحال صحیح نتیجے پر ازخود جلد پہنچ جائے گا، کیوں کہ اللہ نے اسی طرح اسے تخلیق کیا ہے۔ فالھمٰا فجورھا و تقوھا۔ انسانی ضمیر کسی بھی دور میں غلط پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ رہا ہے۔ انسانی رائے یا گواہی کو بگاڑنے، متاثر کرنے، دھوکا دینے، ڈرانے یا خریدنے سے بچانا عین اسلامی ہے اور ایسا کرنا یا ایسا ہونے دینا غیر اسلامی ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں سچی رائے، سچی گواہی، سچی سفارش آزادانہ ماحول میں سچائی سے سامنے آتی ہے۔ سچائی کے اظہار سے اسلامی معاشرہ نہیں ڈرتا بلکہ وہ تو اسے سامنے لانے کے لیے سارے فطری راستے شرح وبسط کے ساتھ کھولے رکھنے پر اصرار کرتا ہے اور تمام غیر فطری ہتھکنڈوں، پروپیگنڈوں اور راستوں کو ناجائز، حرام قرار دے کر بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ہے مغرب کے تصور اظہار رائے کی آزادی کے مقابلے میں اسلام کا تصور آزادی اظہار۔
اس ضمن میں یاد رہے کہ جدید دنیا میں پروپیگنڈے کو سائنس کا درجہ حاصل ہے۔ پروپیگنڈہ کیا ہے؟ یہ انسانی رائے کو متاثر کرنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ سارا مغرب اس کے ذرائع ابلاغ کے ادارے صبح شام اُسی آزدای کے ساتھ کررہے ہیں جس کا مطالبہ وہ فرد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ فرد کی رائے کو قتل کرنے کا جدید ترین ہتھیار ہے جس نے وہ دھول اُڑائی ہے کہ سچ جھوٹ کے ہاتھوں سرعام شکست سے دوچار ہے بقول پروین شاکر
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
بہرحال اے ملک کے نوجوانوں اٹھو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرو اور ووٹ ضرور ڈالوں۔۔۔۔۔۔۔
اللهم لا تسلط علينا من لايرحمنا
