جمعرات، 22 جولائی، 2021

عید الاضحی کی نماز کا طریقہ

0 تبصرے


 

اَللهُ اَکْبَرْ اَللهُ اَکْبَرْ لٰا اِلٰهَ اِلّا اللهُ وَاللهُ اَکْبَرْ اَللهُ اَکْبَرْ ولِلهِ الْحَمْدُ۔۔

عید الاضحی کی نماز کا طریقہ

 پہلے نیت کریں

میں نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز عید الاضحی کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف

واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے. اللہ اکبر ۔

اب امام ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی نیت اور تکبیر کہ کے ہاتھ باندھ لینا ہے اور ثنا پڑھنا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.

⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے

اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکےپہلی رکعت مکمل ہوئی

بدھ، 14 جولائی، 2021

قربانی ۔ تاریخ، فضائل اور مسائل

0 تبصرے


قربانی ۔ تاریخ، فضائل اور مسائل

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قربانی ۔ تاریخ، فضائل اور مسائل

قربانی کی تاریخ:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا : ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ (سورۂ الصٰفٰت ۱۰۲) بیٹے کے اس جواب کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جب مکہ مکرمہ سے ذبح کرنے کے لئے لے کر چلے تو شیطان نے منیٰ میں تین جگہوں پر انہیں بہکانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے سات سات کنکریاں اس کو ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا ۔ آخرکار رضاء الہی کی خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمین پر لٹادیا، چھری تیز کی، آنکھو ں پر پٹی باندھی اور اُس وقت تک چھری اپنے بیٹے کے گلے پر چلاتے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا نہ آگئی۔ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ الصٰفٰت۱۰۴۔ ۱۰۵) چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔ (سورۂ الصٰفٰت ۱۰۷) اس واقعہ کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت میں شمار ہوگیا۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے بھی ہر سال قربانی نہ صرف مشروع کی گئی، بلکہ اس کو اسلامی شعار بنایا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر جانوروں کی قربانی کا یہ سلسلہ کل قیامت تک جاری رہے گاان شاء اللہ ۔