جمعرات، 7 نومبر، 2019

رسولِ رحمت ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو درخشندہ

1 تبصرے
رسولِ رحمت ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو درخشندہ

آج پورے عالم اسلام میں رسول ِ رحمت، پیغمبر انسانیت، رُوحِ ایماں، جانِ ایماں، شانِ کائنات، مقصودِ کائنات، فخرِ موجودات، سراپا نور کے پیکر میں ڈھلے ’’نُورعلی نُور‘‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی منائی جا رہی ہے‘ آج عجب سماں ہے، چڑیاں چہچہا رہی ہیں، بہاریں مسکرا رہی ہیں، کلیاں کھِل رہی ہیں، شگوفے پھوٹ رہے ہیں، کوئل کُوکُو کر رہی ہے، آبشاروں کے ترنم سے ’’خوشیاں منائو کملی والا آگیا‘‘ کے نغمے بہار بن کر کائنات میں جلوے بکھیر رہے ہیں، ہر طرف نور کی شعاعیں انوار و تجلیات کا منظر پیش کر رہی ہیں، کائنات کا ذرہ ذرہ‘ صحرا صحرا، قطرہ قطرہ، قُلزم قُلزم رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں جھوم جھوم رہا ہے، چرند پرند، حجر و شجر، پھول و کلیاں، چاند و چاندنی، سورج و کرنیں، ستارے و سیارے، دریا و صحرا، کھیت و کھلیان، زمین و زماں، مکین و مکاں، الفاظ و حروف سمیت اس کائنات میں سوائے ابلیس کے آج سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں، خوشیاں کیوں نہ منائیں؟

12ربیع الاول کو اس کریم ہستی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کائنات کو شرف بخشا جس کے پاکیزہ و مُصفیٰ توسل سے ذلت و رسوائی کی اتھاہ گہرائی میں گری اور فرسودہ رسم و رواج کے شکنجوں میں جکڑی عورت کو شرف و عزت اور آزادی نصیب ہوئی، 12ربیع الاول بیٹی کو باپ کی شفقت کا سایہ، بہن کو بھائی کی چھتر چھائوں، بیوی کو شوہر کی طرف سے حفاظت کی چادر، ماں کو ’’اَلَجنۃُ تحتَ اَقدامِ الاُمھَات‘‘ کا مژدہ جاں فزا، اُستاذ کو ’’اِنَما بُعثِتُ مُعَلمَاََ‘‘ کی خوشخبری اور غلام کو آزادی کا پروانہ نصیب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے قبل عورت کو پائوں کی جوتی اور نفرت و گھن کی علامت تصور کیا جاتا تھا مگر جونہی 12ربیع الاول کی پاکیزہ، شفاف شبنمی، اُجلی، نکھری، لطیف و نظیف اور محبت و شفقت کے پیکر میں ڈھلی صُبح صادق طلوع ہوئی تو اسکے ساتھ ہی ہر طرف ظلم و تشدد، جہالت و گمراہی، کثافت و غلاظت، نفرت و تعصب کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا۔

12ربیع الاول کی وہ سہانی صُبح کی بابرکت اور بارحمت گھڑی جس صُبح چمکا طیبہ کا چاند، اُن دل افروز ساعتوں پہ لا کھوں، کروڑوں، اربوں نہیں بلکہ کھربوں درودو سلام کے نذرانے اور عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرنے کو دل کرتا ہے کیونکہ رسول ِ رحمت نبی کریم، رئوف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ پاکیزہ اور کائنات میں سب سے زیادہ قیمتی ترین محل جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اُس کو سجدہ کرنے کیلئے اُس دن محرابِ کعبہ کو بھی جھکنا پڑا اور قیصرو کسریٰ کے محلات پہ جگمگاتے کنگرے، طیبہ طاہرہ مکرمہ محترمہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے محل سے نکلنے والی نورانی شعاعوں کے سامنے تاب نہ لاتے ہوئے گر پڑے تھے اور ہزاروں سال سے روشن بُت کدہ آناََ فاناََ بُجھ گیا تھا۔

رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آمد سے لسانی، علاقائی، نسلی اور قومی چوہدراہٹ کے بُت پاش پاش کر دیئے گئے، افتادہ و پسماندہ طبقات کو جتنا تحفظ و احترام رسولِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا دنیا کے کسی بھی آئین و قانون میں اسکی نظیر نہیں ملتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ہر پہلو روشن، تابندہ، رخشندہ، درخشندہ اور چمکدار نظر آتا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر بحیثیت باپ کے پیمانے پر دیکھا جائے تو بیٹی کیساتھ شفقت و محبت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ جب بھی خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنکے استقبال کیلئے سروقد کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور عصمت و طہارت کی حامل پیشانی مبارک پر بوسہ دیکر خاتون ِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹھنے کیلئے وہ مبارک چادر ِ تطہیر بچھا دیتے تھے جس کو ربِ ذوالجلال نے ’’یَا اَیُھَا المُزمِل‘‘ کے آفاقی خطاب سے نوازا ہے۔

بحیثیت شوہر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو بیوی کیساتھ محبت کا ایسا پاکیزہ انداز پڑھنے کو ملتا ہے کہ جب کائنات کے مومنین کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس برتن سے منہ لگا کر پانی نوش فرماتیں تھیں‘ اُسی برتن میں اُسی جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنا منہ مبارک لگا کر پانی نوش فرماتے تھے بیوی کیساتھ محبت و شفقت کا ایسا مثالی و عملی نمونہ پیش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کائنات پر بسنے والی جمیع انسانیت کو اپنی اپنی بیویوں سے محبت و شفقت کا طریقہ بتا دیا، بحیثیت بھائی اگر کائنات کے سوہنڑے تے من موہنڑے لجپال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مُصفیٰ تے مُزکیٰ صفحات کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رضاعی بہن جنابِ حضرت شیمارضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پیار و محبت کا ایسا انوکھا انداز پڑھنے کو ملتا ہے جس کو پڑھ کر انسانیت کا سر فخر سے بلند نظر آتا ہے‘ رضاعی بہن سے پیار و احترام کا ایسا پاکیزہ رشتہ انسانیت کو آج تک دیکھنے اور سُننے کو نہیں ملا، بحیثیت آقا اگر دیکھنا ہو تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اُن دس سالوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو رسول ِ رحمت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفیق و کریم بارگاہ ِ عظمت میں بسر ہوئے اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ:

’’ میں نے 10سال اپنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں گزارے مگر میرے لجپال کریم و شفیق آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے جِھڑکا تک نہیں اور یہ تک نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا ہے اور یہ کیوں نہیں کیا‘‘ ۔

یہ تو رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے صرف چند نمونے ہیں‘ اگر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قلم لکھنا چاہے تو بالآخر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ قلم عاجزی کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے‘ کائنات میں جگہ جگہ جو حُسن و جمال کے جلوے نظر آرہے ہیں‘ یہ سب میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین پاک کے مبارک تلوئوں کو چھونے والے ذرّوں کی خیرات کا صدقہ ہے کیونکہ قلندر لاہوری ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ …؎

ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی

کشتی و دریا و طوفانم توئی

جس کی اذیت کو رب تعالیٰ اپنی اذیت قرار دے فرمایا ’’بے شک جو اذیت دیتے ہیں اللہ اور اُسکے رسول کو اُن پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے اُن کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (سورۃ الا حزاب، آیت 57)

جس کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے آداب خود ربِ ذوالجلال کی طرف سے عطاہوئے ہوں کہ:

’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کیا کرو‘ اس شہنشاہ کونین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اور نہ انکے حضور چلا کر نہ کہو، جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو‘‘ (سورۃ الحجرات، آیت 2)

ادب گاہے زیست آسمان از عرش نازک تر

نفس گُم کردہ می آید جنیدؒ و با یزید ؒ اینجا

جس کے بارے میں بریلی کے کچے کوٹھے میں ٹوٹی چٹائی پر بیٹھے پکے عقیدے کی حامل شخصیت امام احمد رضا خاں بریلوی ؒ نے کیا خوب فرمایا کہ …؎

اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ

اِن سا نہیں اِنسان وہ اِنسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ

وہ شہر مقدس جس کی پابوسی کا شرف عرش بریں بھی حاصل کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہو، یقیناً اس شہر کو یہ اعزاز و اکرام قیامت تک ملتا رہے گا کیونکہ اس کی آغوش میں تاقیامت رسولِ رحمت ﷺ آرام فرما ہیں، یہ شہر کبھی ’’یثرب‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن رسولِ رحمت، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جلوئوں کی وجہ سے ’’مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ بنا دیا یہی تو وہ مبارک اور مقدس شہر ہے جہاں تعظیم کی خاطر آنکھیں بے اختیار جھُک اور گردنیں بے ساختہ خَم ہوجاتی ہیں‘

بستر لگا ہو جن کا تیری گلی میں آقا ﷺ

تخت سکندری پہ وہ تھو کتے بھی نہیں

ہاں جونہی پر خطا نگا ہیں عالم کائنات کے محور و مرکز ’’گنبدِ خضرائ‘‘ کی سنہری سنہری جالیوں پر پڑتی ہیں تو روح کے دریچوں میں ایک سرشاری سی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ پرشکوہ عمارات میں بچھے اٹلی، سوئٹرزلینڈ، ملائیشیا کے کارپٹس کی قیمت اس بوسیدہ چٹائی کے تنکے کے برابر بھی نہیں ہے‘ جہاں پر میرے اور آپ سب کے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما رہے ہونگے‘ لہٰذا آج کے مقدس اور بابرکت دن کی مناسبت سے یہ ضروری ہے کہ بحیثیت اُمتی ہماری ہر ہر ادا میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس نظر آنا چاہیے تب جشن ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا مقصد پورا ہوتا ہے

کی محمد سےوفا تو نےتوہم تیرے ہیں

یہ دو جہاں کیا لوح و قلم تیرے ہیں


ہوں لاکھوں سلام اس آقاپردل لاکھوں جسنےجوردیے
 دنیا کو دیا پیغام سکوں انسانوں کے رخ موڑ دیے
اس محسن اعظم نے الیاس کیا کیا نہ دیا ہے عالم کو دستور دیا منشور دیا گی راہی دیں گئی مور دیے

ماخوذ۔۔۔۔

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔

جمعہ، 1 نومبر، 2019

نسب نامہ حضرت سرکار عالم ﷺ

0 تبصرے
نسب نامہ حضرت سرکار عالم ﷺ:

حضور نبی کریم ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے۔
۱۔ حضرت محمد ﷺ ۲۔ بن عبد اللہ ۳۔ بن عبد المطلب ۴۔ بن ھاشم ۵۔ بن عبد المناف ۶۔ بن قصی ۷۔ بن کلاب ۸۔ بن مرہ ۹۔ بن کعب ۱۰۔ بن لوی ۱۱۔ بن غالب ۱۲۔ بن فہر۱۳۔ بن مالک۱۴ بن نصر ۱۵۔ بن کنانہ ۱۶۔ بن خزیمہ ۱۷ بن مدریکہ ۱۸۔ بن الیاس ۱۹۔ اب مضر ۲۰۔ بن نزار ۲۱۔ بن معد ۲۲۔ بن عدنان۔
( بخاری ۔ ج۱۔ باب مبعث النبی ﷺ)
اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضور کا شجرہ شریف یہ ہے۔
۱۔ حضرت محمد ﷺ ۲۔ بن آمنہ ۳۔ بنت وہب ۴۔ بن عبدالمناف ۵۔ بن زہرہ ۶۔ بن کلاب ۷۔ بن مرہ
حضور ﷺ کے والدین کا نسب نامہ "کلاب بن مرہ" پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں "عدنان" تک آپکا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے۔ اس کے بعد ناموں میں بہت اختلاف ہے اور حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تو "عدنان" ہی تک ذکر فرماتے تھے۔
(کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری، ج ۱، ص ۵۴۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شجرہءِ نسب کی فضیلت:
حضرت مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے : 
جاء العباس الي رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فکانہ سمع شيئاً، فقام النّبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم علي المنبر، فقال : من انا؟ فقالوا : انت رسول اﷲ، عليک السّلام. قال : انا محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطّلب، ان اﷲ خلق الخلق فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم فرقتين، فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم قبائل، فجعلني في خيرھم قبيلۃ، ثم جعلھم بيوتاً، فجعلني في خيرھم بيتاً وخيرھم نسباً. 
’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، (اس وقت ان کی کیفیت ایسی تھی) گویا انہوں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کفار سے) کچھ (نازیبا الفاظ) سن رکھے تھے، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ اَفروز ہوئے اور فرمایا : میں کون ہوں؟ سب نے عرض کیا : آپ پر سلام ہو، آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں عبد اللہ کا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس مخلوق میں سے بہترین گروہ (انسان) کے اندر مجھے پیدا فرمایا اور پھر اس کو دو گروہوں (عرب و عجم) میں تقسیم کیا اور ان میں سے بہترین گروہ (عرب) میں مجھے پیدا کیا۔ پھر اﷲتعالیٰ نے اس حصے کے قبائل بنائے اور ان میں سے بہترین قبیلہ (قریش) کے اندر مجھے پیدا کیا اور پھر اس بہترین قبیلہ کے گھر بنائے تو مجھے بہترین گھر اور نسب (بنو ہاشم) میں پیدا کیا۔‘‘ 
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، 5 : 543، رقم : 3532)
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں : 
قلت : يارسول اﷲ! ان قريشاً جلسوا فتذاکروا احسابھم بينهم، فجعلوا مثلک کمثل نخلۃ في کبوۃ من الارض، فقال النّبيّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : ان اﷲ خلق الخلق فجعلني من خيرھم من خير فرقھم وخير الفريقين، ثم تخيّر القبائل فجعلني من خير قبيلۃ، ثم تخيّر البيوت فجعلني من خير بيوتھم، فانا خيرھم نفساً وخيرھم بيتا. 
’’میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! قریش نے ایک مجلس میں اپنے حسب و نسب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی مثال کھجور کے اُس درخت سے دی جو کسی ٹیلہ پر ہو۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان کی بہترین جماعت میں رکھا اور ان کے بہترین گروہ میں رکھا اور دونوں گروہوں میں سے بہترین گروہ میں بنایا، پھر قبائل کو منتخب فرمایا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اُس نے گھرانے منتخب فرمائے تو مجھے اُن میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، پس میں اُن میں سے بہترین فرد اور بہترین خاندان والا ہوں۔‘‘ 
( ترمذي، الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 584، رقم : 3607)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : 
ان اﷲ اصطفي من ولد ابراھيم اسماعيل، واصطفي من ولد اسماعيل بني کنانۃ، واصطفي من بني کنانۃ قريشاً، واصطفي من قريش بني ھاشم، واصطفاني من بني ھاشم. 
’’بے شک ربِ کائنات نے اِبراہیم (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے اِسماعیل (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا، اور اِسماعیل (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے بنی کنانہ کو، اور اَولادِ کنانہ میں سے قریش کو، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ اِنتخاب سے نوازا اور پسند فرمایا۔‘‘
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 583، رقم : 3605)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا شجرہ مبارک:
محمدصلى اللہ عليہ وسلم تسلیما کثیرا
بن عبد اللہ (عام الفیل سے 25 سال پہلے پیداہوئے)
بن عبد المطلب (ان کانام شیبۃ الحمد تھا،وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوئے تو ان کے سر میں سفیدی تھی آپ کے چچا مطلب جب آپ کو مکہ میں لیکرآئے تو قریش کے لوگوں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟آپ کے چچا نے جواب دیا"عبدی" یہیں سے آپ کو عبدالمطلب کہاجانے لگا۔جب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر مبارک آٹھ سال تھی تو ان کا وصال ہوا، ان کی اولاد میں(1) عباس بن عبدالمطلب ۔(2)حارث بن عبدالمطلب ۔(3)ابوطالب بن عبدالمطلب۔ (4)ابو لھب بن عبدالمطلب
بن ھاشم (ان کا نام عمرو العلا ہے ،ان کی ماں کانام عاتکہ بنت مرۃ بن ھلال بن فَالج بن ذکوان ہے)
بن عبد مناف (ان کام مغیرہ ہے،ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انھیں "قمرالبطحا بھی کہاجاتاہے،ان کی والدہ کانام حبّی بنت حُلَیل بن حُبشِیَّہ بن سلول بن کعب بن خزاعہ ہے،ان کی اولاد میں (1)مطلب بن عبد مناف،یہ امام شافعی اسی سلسلے سے ہیں۔(2)نوفل بن عبد مناف۔(3)عبد شمس بن عبد مناف،ان سے بنو امیہ ہیں)
بن قصي (ان کا نام زی ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت ھلال ہے،ان کی اولاد میں(1) عبدالعزی بن قصی،یہ حضرت خدیجہ کے ددھیال ہیں۔(2)عبدالدار بن قصی)
بن كلاب (ان کا نام حکیم ہے،ان کی والدہ کانام ھند بنت سُرَیر بن ثعلبہ ہے اور ان کے دوبیٹے ہیں قصی اور زہرہ)
بن مُرہ (ان کی کنیت ابو یقظہ ہے اور ان کی ماں کا نام مَخشِیّہ بنت شَیبان بن مُحارب بن فِھرہے)
بن كعب (ان کی والدہ کانام ماوِیۃ بنت کعب بن القَین القضاعیہ ہے ان کے تین بیٹے ہیں،مُرّہ،ھُصَیص اور عَدِّی)
بن لؤي (ان کی کنیت ابو کعب ہے،ان کے سات بیٹے ہیں،کعب،عامر،سامہ،خزیمہ،سعد،حارث اور عوف۔ ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت یخلد ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام سلمی بنت الحارث ہے)
بن غالب (ان کی والدہ کانام لیلی بنت الحارث بن تمیم بن ھُذَیل بن مُدرکہ ہے،لوئی اور تَیم ان کے بیٹے ہیں)
بن فِھر (ان کی والدہ کانام جَندلہ بنت عامر بن الحارث ہے)
بن مالك (ان کی کنیت ابوالحارث ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ ہے)
بن النضر (ان کانام قیس یے، ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت عدوان بن قیس بن عمرو ہے)
بن كنانۃ (ان کی والدہ کانام عوانہ بنت سعد بن قیس بن عَیلان بن مُضر ہے اور ان کے بیٹوں کے نام مِلکان،النضر، عمر اور عامر ہیں)
بن خزيمۃ (ان کی کنیت ابو اسد ہے،ان کی والدہ کانام سلمی بنت اسلم بن الحاف بن قُضاعہ ہے)
بن مدركۃ (ان کانام عمرو اور کنیت ابو ھذیل ہے،یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی کنیت ابو خزیمہ ہے)
بن الياس (ان کی والدہ کانام رباب بنت حَیدہ بن معد بن عدنان ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام حَنفَاء بنت اِیاد ہے)
بن مضر (ان کانام عمرو اور کنیت ابوالیاس ہے، اور ان کی والدہ کانام سودہ بنت عک بن عدنان ہے)
بن نزار (ان کی کنیت ابواِیاد ہے،یاابو ربیعہ ہے، اور ان کی والدہ کانام مُعانہ بنت جَوشم ہے)
بن معد (ان کی کنیت ابو قضاعہ ہے،یاکہاجاتا ہے کہ ابو نزار ہے،ان کی والدہ کانام مَھدَد بنت اللَّھم بن حجب بن جدیس ہے)
بن عدنان (ان کی کنیت ابو معدّہے اور ان کی والدہ کانام بلھاء بنت یعرب بن قحطان ہے)
بن اُد (ان کی والدہ کانام النعجاء بنت عمرو بن تُبَّع ہے،ابن ہشام نے کہاکہ اُد ہی اُدد ہے،ابن ہشام کے مطابق شجرہ اس طرح ہے،یعنی اُد بن مقوم بن ناحور بن تَيرح بن يعرُب بن يشجب بن نابت بن اسماعيل ہے)
بن اُدَد ( ان کی والدہ کانام حَیَّہ القحطانیہ ہے)
بن الیسع 
بن الھمَیسع (ان کی والدہ کانام حارثہ بنت مرداس بن زُرعہ ذی رُعَین الحمیری ہے)
بن سلامان 
بن نبت (ان کی والدہ کانام ہامہ بنت زید بن کَھلَان بن سباء بن یَشجُب بن یَعرُب بن قحطان ہے
بن حَمل
بن قیذار ( ان کی والدہ کانام ہالہ بنت الحارث بنت مِضاض الجُرھمی ہے)
بن اسماعيل علیہ السلام (آپ ذبیح اللہ ہیں ،آپ کی والدہ کانام حضرت ھاجرہ ہے)
بن ابراھيم خليل اللہ عليھم الصلاۃ والسلام ( آپ ابو الانبیاء ہیں، آپ کی والدہ کانام نونار ہے، یہ بھی کہاجاتاہے کہ آپ کی وادہ کانام لیوثی ہے)
بن تارَح (آپ کی والدہ کانام سلمی ہے)
بن ناحُور
بن ساروغ (ان کانام شاروخ بھی بتایا گیا ہے)
بن اَرغُو
بن قانِغ(ان کانام فالغ بھی بتایاگیاہے،قیس اور یمن کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ھود علیہ السلام ہیں)
بن عابر (ان کانام عَیبَر بھی بتایاگیا ہے،یہ پورے یمن کے جد امجد ہیں،ان کی طرف منسوب والے قبائل میں الازد،خَثعم، بَجِیلہ،ہمدان، اَلھان، اشعر، طَیّی، مَذحِج، خولان، مَعَافر،عَامِلہ،جُذام، لحم، کِندہ اور حِمیَر شامل ہیں)
بن شالخ (امام سہیلی نے کہاکہ اس کا معنی رسول یا وکیل ہوتا ہے)
بن اَرفَخشذبن سام
بن نوح علیہ السلام (امام نووی نے کہا کہ یہ عجمی نام ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ عربی ہے اور نَاحَ یَنوحُ نَوحاٍ ونیاحۃ سے ماخوذ ہے)
بن لمک (ان کانام لامک بھی بتایاگیا ہے، اس کا معنی ہے متواضع)
بن مُتُّوشلخ 
بن اَخنُوخ (ان کانام خنوخ بھی بتایاگیا ہے)
بن یارد (ان کانام یارد بھی بتایا گیا ہے)
بن مَھلَاییل
بن قَینَان (ان کانام قینن بھی بتایا گیا ہے)
بن اَنُوش ( ان کو یانش بھی کہاگہاہے)
بن شیث علیہ السلام
بن آدم صفی اللہ (ابوالبشر اور زمین میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں)


https://drive.google.com/file/d/1kkhD1mBxB5JWWcWWSS0Gfr8Wril4qP2q/view?usp=drivesdk

ماخوذ۔۔۔۔