منگل، 26 مارچ، 2019

زکوٰۃ کےاحکام ومسائل

2 تبصرے
زکوٰۃ کےاحکام ومسائل

ﷲ رب العزت نے قرآنِ مجیدمیں 82مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جس سے بدیہی طور پر یہ عیاں ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں کے درمیان انتہائی اتصال وارتباط ہے۔

تمام علمائے اسلام کا اجماع واتفاق ہے کہ زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین رکن ہے۔ جس نے اس کی فرضیت کا انکار کیا، وہ کافراور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور جس نےاسےادانہ کیا، وہ فاسق ٹھہرا اور اس سے جنگ کرنا حاکم وقت پر واجب ہے۔(فتاوی ھندیہ)

زکوٰۃ کب فرض ہوئی

ایک قول کے مطابق زکوۃ کی فرضیت مکّے میں ہوچکی تھی، چناں چہ سورۂ مزمل کی آخری آیت میں وآتوا الزکوۃ کا حکم بھی موجود ہے، مشہور اور راجح قول یہ ہے کہ زکوۃ ۲ھ؁ میں فرض ہوئی، اسی لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر چہ سورۂ مزمل مکی ہے مگر یہ آخری آیت مدنی ہے، لیکن سورۂ مومنون ، نمل اور لقمان کی ابتدائی آیتوں میں بھی زکوۃ کا حکم موجود ہے جب کہ یہ تینوں صورتیں بھی مکی ہیں، ان آیتوں کے متعلق بھی یہی کہنا پڑے گا کہ یہ مدنی ہیں، باقی آیات مکّے میں نازل ہوئیں، اس سلسلے میں مشہور مفسر حافظ ابن کثیرؒ کی رائے قرین عقل ہے کہ شاید زکوۃ تو مکہ مکرمہ میں اوائل اسلام میں ہی فرض ہوگئی ہو مگر اس کے نصاب اور مقدار واجب کی تفصیلات مدینہ طیبہ میں ہجرت کے دوسرے سال میں بیان کی گئیں ہوں، تفسیر روح المعانی میں بھی یہی قول اختیار کیا گیا ہے، ابتدائے اسلام میں لوگ اپنے مال کی زکوۃ لا کر سرکارد ۲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک سے بے ساختہ طور پر ان کے لیے دعائیں نکلتی تھیں، چناں چہ صحابۂ کرام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں حاصل کرنے کے لیے زکوۃ پیش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، ایسے ہی حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : { وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰۃٍ الرَّسُوْلِ} (التوبۃ:۹۹) ’’اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعا لینے کا ذریعہ بنا تے ہیں‘‘ اس طرح یہ زکوۃ نادار مہاجرین صحابہ کی ضروریات زندگی کے لیے اہمیت اختیار کر گئی تھی ،مال دار صحابہؓ صدقہ وزکوۃ سے خود بھی غریب صحابہؓ کی مدد کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی پیش کردیا کرتے تھے، اس وقت تک زکوۃ کی وصولی کا کوئی باضابطہ نظام نہیں تھا یہاں تک کہ ۹ھ؁ میں یہ آیت نازل ہوئی :خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا (التوبۃ: ۱۰۳) ’’آپ ان کے مالوں میں صدقہ لے لیجئے جس کے ذریعے سے آپ ان کو پاک وصاف کردیں گے

زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہے، جس میں درجِ ذیل پانچ شروط ہوں:

1۔مسلمان ہو کیونکہ کافر احکام اسلام کا مکلف نہیں۔ (صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ ومصنف ابن ابی شیبہ)

2۔آزاد ہو کیونکہ غلام خود کسی دوسرے کی ملکیت ہوتا ہے۔(بدایۃ المجتھد والمحلی لابن حزم)

3۔ مال مقررہ نصاب کے مطابق ہو(صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ) جس کی تفصیل آئندہ سطور میں بیان ہوگی۔

4۔ صاحبِ ملکیت تام ہو۔ (سورہ التوبہ: 103) کیونکہ بعض اوقات آدمی مالک تو ہوتا ہے مگر یہ اس کی ملکیت تام نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے۔ جیسے کسی کو قرضہ دیا ہو تو درحقیت مالک تو یہی ہے مگر رقم اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔ تو ایسی صورت میں زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔ الاکہ واپس اس کے ہاتھ میں آجائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر مقروض نے ادا نہ کی تھی۔

5۔جب کہ مال پر مکمل ایک سال گزر چکا ہو۔ (سنن ابی داؤد/کتاب الزکاۃ)

زکوٰۃ جن چیزوں پر واجب ہے

پانچ عدد اونٹ ہوں، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ 5اونٹوں سے لے کر 42اونٹوں تک ہر پانچ پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 25سے لے کر 35اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی بطور، زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 36سے لے کر 45 اونٹوں تک دوبرس کی اونٹنی زکوٰۃ کے طور پر دینی چاہیے۔ 46سے لے کر 60اونٹ تک تین برس کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 61سے لے کر 75اونٹوں تک زکوٰۃ میں چار سال کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 76سے لے کر 90اونٹوں پر 2برس کی ایک اونٹنی کے حساب سے یا ہر 50اونٹوں پر 3سال کی ایک اونٹنی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔(صحیح البخاری /کتاب الزکاۃ)

گایوں ، بھینسوں کی تعداد جب 30ہو، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 30عدد گایوں یا بھینسوں پر ایک سال کا بچہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔ 40کی تعداد میں 2بچے، جن کی عمر 2 سال ہو، بطور زکوٰۃ دیئے جائیں گے۔ 60سے زائد کی صورت میں ہر 30پر ایک سال کے بچے کے حساب سے یا ہر 40کے اعتبار سے 2سال کا ایک بچہ ادا کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد/کتاب الزکاۃ)

جب بکریوں، بھیڑوں یا دنبوں کی تعداد 40 ہو جائے، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 40سے لے کر 120بکریوں تک ایک بکری بطورِ زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ 121سے لے کر 200تک دو بکریاں زکوٰۃ میں دی جائیں گی۔201سے لے کر 300تک تین بکریاں دی جائیں گی۔ 300 سے زائد کی صورت میں ہر 100پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ (صحیح البخاری)

نوٹ: زکوٰۃ ان مویشیوں پر واجب ہوتی ہے، جو(سال بھر میں) نصف سے زائد عرصہ قدرتی وسائل پر گزارہ کرتے ہوں، نیز وہ ایسے جانور ہوں جو کام کاج کے لئے مستعمل نہ ہوں۔

گندم، چاول، مکئی، باجرا، فروٹ اور خشک میوہ جات جب 5وسق، یعنی 20من ہوں، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، جسے شرعی اصطلاح میں عشر کہا جاتا ہے۔
عند الاحناف بلاقید ہر پیداوار پر عشر واجب ہے

بارش سے سیراب ہونے والی زمیں سے جیسے بارانی زمینیں، یا قدرتی چشموں سے جیسے پہاڑی علاقہ جات یا خودبخود نمی سے سیراب ہونے والی زمینیں تو اس میں سے پورا عشر یعنی 1/10حصہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا اور اگر یہ اجناس ذاتی اخراجات مثلاً ٹیوب ویل، نہریوں، جھلاروں کے پانی اور دیگر کھادوادویات سے کاشت کی گئی ہوں، تو اس میں سے نصف عشر، یعنی 1/20حصہ زکوٰۃ میں دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)

نوٹ: اجناس میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب یہ برداشت(حاصل) کی جاتی ہیں لہٰذا اگر کوئی فصل سال میں دومرتبہ برداشت کی جاتی ہو تو اس میں زکوٰۃ یعنی عشر بھی دومرتبہ ادا کیا جائے گا۔ (سورۃ الانعام:141)

وہ شہد، جو قدرتی وسائل سے حاصل ہوا ہو اس کا نصاب 75کلو گرام ہے۔ اس میں سے بطور زکوٰۃ عشر، یعنی 1/10حصہ ہی ادا کیا جائے گا۔ (سنن الترمذی)

معدنیات کے نصاب اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت میں شدید فقہی اختلاف پایا جاتا ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ ان کو عروضِ تجاریہ ( تجارتی سامان) میں شامل کرتے ہوئے اس کی آمدنی پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزرجائے ۔ (سنن ابی داؤد)

دفینہ جات میں راجح بات یہ ہے کہ یہ جتنے بھی اور جب بھی حاصل ہوں، ان کا پانچواں حصہ 1/5 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری )

سونا جب 20دینار ہو جو کہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے سات تولے یعنی 87گرام بنتا ہے۔ تو اس کا نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ پس اس کا چالیسواں حصہ 1/40بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(سنن أبی داؤد)

چاندی جب 200درہم ہو جوکہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے باون تولے ، یعنی 612 گرام بنتی ہے، تو اس کا نصاب مکمل ہوگا اور اس میں سے چالیسواں حصہ 1/40 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری)

نوٹ: اس میں وہ سونا اور چاندی بھی شامل ہے جو خواتین بطور زیورات استعمال کرتی ہیں بشرطیکہ وہ نصابِ زکوٰۃ کے مطابق ہو جیسا کہ یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور سلف صالحین کا بھی یہی موقف ہے۔

ہرقسم کی کرنسی(ڈالر، پاؤنڈ، یور، دینار، ریال) کیونکہ یہ کرنسی دراصل سونے چاندی کا ہی بدل ہوتی ہے۔ لہٰذا نصاب پورا ہونے کی صورت میں اور سال گزرنے پر اس میں سے اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے۔

عروضِ تجاریہ(تجارتی سامان وغیرہ)

عروضِ تجاریہ سے مراد وہ کاروباری سامان ہے، جو خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو۔ مثلاً ہر قسم کے کپڑے، جوتے، برتن، ادویات، معدنیات، سونا، چاندی، آلات، مشینری، سامان لکڑی، گاڑیاں، پلاٹ، دوکانیں، مکانات الغرض جو بھی سامان خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو وہ عروضِ تجاریہ ہی کہلاتا ہے۔ حتیٰ کہ کمپنی حصص (شیئر) بھی اگر تجارتی مقصد کے لئے خریدے گئے ہوں تو اسے بھی تجارتی سامان ہی تصور کیا جائے گا۔ (الواعدالنورانیۃ الفقھیۃ لابن تیمیۃ) اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہو، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔(سنن ابی داؤد) چنانچہ اس میں سے بھی زکوٰۃ کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

ترجمہ: ’’پس رسول اللہ کریمؐ ہمیں اس مال سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے جسے ہم خرید و فروخت (تجارت ) کے لئے رکھا کرتے تھے۔ (سنن أبی داؤد)

ہر سال جتنا تجارتی مال دکان یا مکان یا گودام وغیرہ میں ہو، اس کی قیمت کا اندازہ لگا لیا جائے۔ علاوہ ازیں جتنی رقم گردش میں ہو اورجو رقم موجود ہو، اسے بھی اس میں شامل کر لیا جائے۔

(الف) نقدرقم،(ب) کاروبار میں لگا ہوا سرمایہ ، یعنی زیرِ گردش رقم، (ج) سامانِ تجارت کی تخمیناً قیمت سب کو ملا کر ٹوٹل جتنی رقم بنے ، اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ 

ناقابلِ زکاة اثاثے:

(۱) رہائشی مکان، ایک ہو یا زیادہ۔ 
(۲) دوکان ؛ البتہ دوکان کا مال مالِ زکاة ہوتا ہے۔ (۳) فیکٹری کی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت سے نہ لی گئی ہو۔ 
(۴)دوکان، گھر، فیکٹری کا فرنیچر۔ 
(۵) زرعی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت نہ ہو۔(۶) کرایہ پر دیا ہوا مکان ، دوکان یا فلیٹ۔ 
(۷) مکان ، دوکان، اسکول یا فیکٹری بنانے کے لیے خریدا ہوا پلاٹ۔ 
(۸) کرایہ پر چلانے کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑی، مثلاً: ٹیکسی ، رکشہ یا بس وغیرہ۔

ہاں ان کی آمدنی پر زکوٰۃ ضرور ادا کی جائے گی، اگر سال گزر جائے اور نصاب بھی مکمل ہو جائے۔

زکوٰۃکے مستحقین

1۔فقراء، جن کے پاس گزراوقات کے لئے کچھ نہ ہو ۔

2۔ مساکین(وہ لوگ، جن کی حالت فقرا سے قدرے بہتر ہوتی ہے، لیکن پھر بھی تنگ دست ہوتے ہیں اور زندگی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری نہیں کر سکتے)۔

3۔ عاملینِ زکوٰۃ (وہ لوگ، جن کے ذمے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم ہوتی ہے یا وہ زکوٰۃ کی حفاظت وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں)۔

4۔ تالیفِ قلب ( ان لوگوں کو زکوٰۃ دینا ، جو کافرہوں، اس امید پر کہ وہ مسلمان ہو جائین یا کسی نو مسلم کو دینا ، تاکہ وہ راسخ الایمان ہو جائے)۔

5۔غلاموں اور قیدیوں کی آزادی کے لئے۔

6۔ مقروض لوگو ں کے لئے تاکہ انہیں قرضے کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔

7۔ مجاہدین (جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلے ہوں۔ خواہ وہ مالدار ہوں)۔

8۔ مسافرین ، یعنی اسیے لوگ ، جو زادِراہ کے محتاج ہوجائیں۔

اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیتِ مبارکہ میں درج بلا تمام مستحقین کا تذکرہ فرمایا ہے:(انما الصدقات للفقراء والمساکین)،(سورۃ التوبہ مع التفسیر: 60)

جنہیں زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی

1۔ کافر و مرتد کو زکوٰۃ دینا حرام ہے(صحیح البخاری) مگر وہ کفار جنہیں تالیفِ قلب کے لئے زکوٰۃ دینی جائز ہے ، وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ (تفسیر سورۃ التوبہ: 60)

2۔ آل رسولؐ ( بنو ہاشم و بنومطلب)کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ ( صحیح مسلم)۔

3۔ والدین، اولاد اور بیوی کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ (القرآن الکریم وسنن ابن ماجہ)کیونکہ اولادکا مال درحقیقت والدین کا ہی مال ہے جبکہ بیوی کا نان و نفقہ خاوند پر اور اولاد کاباپ پر واجب ہے۔

4۔ جمہور علما کے نزدیک مسجد پر بھی زکوٰۃ استعمال نہیں کی جاسکتی ۔(مجموع الفتاوی/لابن باز 14/294)

علامہ یوسف القرضاوی کتاب ’’ فقہ الزکوٰۃ ‘‘ میں لکھتے ہیں:

ترجمہ: ’’ اگر کوئی شخص علم نافع کی طلب میں لگا ہوا ہے اور حصولِ علم کے ساتھ وہ کسبِ حلال نہ کر سکتا ہو، تو اسے بقدرِ ضرورت زکوٰۃ دی جا سکتی ہے اور اس کے فریضہ حصول علم کی تکمیل کے لئے اور کتابوں کے لئے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اس لئے کہ طلبِ علم دیں فرضِ کفایہ ہے اور اس کے علم کا فائدہ خود اس کی ذات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام امت کے لئے ہے اور یہ اس کا حق بنتا ہے کہ مالِ زکوٰۃ میں سے اس کی مدد کی جائے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف کے دو پہلو ہیں کہ یا تو مسلمانوں میں جو محتاج ہو، اسے دی جائے یا جس سے مسلمانوں کی ضرورت وابستہ ہو، اسے دی جائے اور یہاں (طالب علم میں) دونوں باتیں جمع ہیں‘‘۔(فقہ الزکاۃ: 2/560۔561)



صدقه کی اقسام اور اس کے مستحقین

صدقہ کی تعریف اور اقسام:

جو مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو دیا جاتا ہے یا خیر کے کسی کام میں خرچ کیا جاتا ہے، اسے “صدقہ” کہتے ہیں، صدقہ کی تین قسمیں ہیں: 1:فرض، جیسے زکوٰة۔ 
2:واجب، جیسے نذر، صدقہٴ فطر اور قربانی وغیرہ۔ 
3:نفلی صدقات، جیسے عام خیر خیرات۔

زکوٰة، عشر، صدقہٴ فطر، قربانی، نذر، کفارہ یہ تو فرض یا واجب ہیں، ان کے علاوہ کوئی صدقہ لازم نہیں۔ 
ہاں! کوئی شخص بہت ہی ضرورت مند ہو اور آپ کے پاس گنجائش ہو تو اس کی اعانت لازم ہے، عام طور سے نفلی صدقہ مصائب اور مشکلات کے رفع کرنے کے لئے دیا جاتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صدقہ مصیبت کو ٹالتا ہے۔

صدقہ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے خیر کے کاموں میں مال خرچ کرنا، صدقہ کی قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں بڑی فضیلت اور ترغیب آئی ہے، مصائب اور تکالیف کے رفع کرنے میں صدقہ بہت موٴثر چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو مال بھی خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے، وہ کسی محتاج کو نقد روپیہ پیسے دے یا کھانا کھلادے یا کپڑے دے دے یا کوئی اور چیز دے دے۔ 
صدقہ کی ایک قسم صدقہٴ جاریہ ہے، جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، مثلاً کسی جگہ پانی کی قلت تھی، وہاں کنواں کھدوادیا، مسافروں کے لئے مسافرخانہ بنوادیا، کوئی مسجد بنوادی یا مسجد میں حصہ ڈال دیا، یا کوئی دینی مدرسہ بنادیا یا کسی دینی مدرسہ میں پڑھنے والوں کی خوراک پوشاک اور کتابوں وغیرہ کا انتظام کردیا، یا کسی مدرسہ کے بچوں کو قرآن مجید کے نسخے خرید کر دئیے یا اہلِ علم کو ان کی ضروریات کی دینی کتابیں لے کر دے دیں، وغیرہ۔ جب تک ان چیزوں کا فیض جاری رہے گا، اس شخص کو مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔

2: خیرات، صدقہ اور نذر میں فرق

صدقہ و خیرات تو ایک ہی چیز ہے، یعنی جو مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کسی خیر کے کام میں خرچ کیا جائے وہ صدقہ و خیرات کہلاتا ہے، اور کسی کام کے ہونے پر کچھ صدقہ کرنے کی یا کسی عبادت کے بجا لانے کی منّت مانی جائے تو اس کو “نذر” کہتے ہیں۔ نذر کا حکم زکوٰة کا حکم ہے، اس کو صرف غریب غرباء کھاسکتے ہیں، غنی نہیں کھاسکتے، نیاز کے معنی بھی نذر ہی کے ہیں۔

نذر اور منّت اپنے ذمہ کسی چیز کے لازم کرنے کا نام ہے، مثلاً: کوئی شخص منّت مان لے کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں اتنا صدقہ کروں گا، کام ہونے پر منّت مانی ہوئی چیز واجب ہوجاتی ہے۔ اور کوئی آدمی بغیر لازم کئے اللہ کے راستے میں خیر خیرات کرے تو اس کو صدقہ کہتے ہیں، گویا منّت بھی صدقہ ہی ہے، مگر وہ صدقہٴ واجبہ ہے، جبکہ عام صدقات واجب نہیں ہوتے۔
نذر کے معنی ہیں کسی شرط پر کوئی عبادت اپنے ذمہ لے لینا، مثلاً: اگر فلاں کام ہوجائے تو میں اتنے نفل پڑھوں گا، اتنے روزے رکھوں گا، بیت اللہ کا حج کروں گا، یا اتنی رقم فقراء کو دوں گا وغیرہ، اسی کو منّت بھی کہا جاتا ہے۔

منّت اور نذر کا گوشت نہ خود استعمال کرسکتا ہے، نہ کسی غنی کو دے سکتا ہے، بلکہ اس کا گوشت فقراء پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔

صدقہ غریبوں، محتاجوں کو دیا جاتا ہے، سیّد کو صدقہ نہیں دینا چاہئے، بلکہ ہدیہ اور تحفہ کی نیت سے ان کی مدد کرنی چاہئے، تاہم ان کو نفلی صدقہ دینا جائز ہے، زکوٰة اور صدقہٴ فطر نہیں دے سکتے، اسی طرح علماء و صلحاء کو بھی صدقہ کی نیت سے نہیں بلکہ ہدیہ کی نیت سے دینا چاہئے۔
(آپ کے مسائل اور انکا حل)

زکاة ادا نہ کرنے کے نقصانات اور وعیدیں:

فریضہ زکاة کی ادائیگی پر جہاں من جانب اللہ انعامات و فوائد ہیں، وہاں اس فریضہ کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے کے لیے قرآن ِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ، اور دنیا و آخرت میں ایسے شخص کے اوپر آنے والے وبال کا ذکر بکثرت کیا گیا ہے، ذیل میں ان میں سے کچھ ذکر کیے جاتے ہیں:

(۱) جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔(سورة توبہ:۳۴،۳۵)

(۲) ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(سورة آل عمران:۱۸۰)

(۳) ایسا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ (سورة البقرة:۲۵۴)

(۴)زکاة کا ادا نہ کرنا جہنم والے اعمال کا ذریعہ بنتا ہے۔(سورة اللیل:۵ تا۱۱)

(۵)ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔(صحیح البخاري ، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة،رقم الحدیث:۱۴۰۳،۲/۱۱۰،دارطوق النجاة)

(۶) مرتے وقت ایسا شخص زکاة ادا کرنے کی تمنا کرے گا؛ لیکن اس کے لیے سوائے حسرت کے اور کچھ نہ ہو گا۔(سورة المنافقون:۱۰، صحیح البخاری، کتاب الزکاة، باب فضل صدقة الشحیح الصحیح، رقم الحدیث:۱۴۱۹،۲/۱۱۰، دارطوق النجاة)

(۷)ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة)

(۸) ایسے افرادکوجہنم میں ضریع، زقوم، گرم پتھر، اور کانٹے دار و بدبو دار درخت کھانے پڑیں گے۔(دلائل النبوة للبیہقي، باب الإسراء ،رقم الحدیث:۶۷۹)

(۹) ایسے افراد سے قیامت کے دن حساب کتاب لینے میں بہت زیادہ سختی کی جائے گی۔ (مجمع الزوائد، کتاب الزکاة، باب فرض الزکاة:۳/۶۲)

(۱۰) جب لوگ زکاة روک لیتے ہیں تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ان سے بارشیں روک لیتے ہیں۔ (المستدرک للحاکم، رقم الحدیث:۲۵۷۷)

(۱۱) جب کوئی قوم زکاة روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قحط سالی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ (المعجم الأوسط للطبراني، تحت من اسمہ عبدان، رقم الحدیث:۴۵۷۷)

ادائے زکوۃ کے فوائد

(١)حکم الہی کی تعمیل
(٢)اجرا عظیم کا حصول
(٣)مال کی پاکیزگی
(٤)آفات و بلیات سے بری
(٥)امراض قلبی وجسمانی سےحفاظت
(٦)عمر میں برکت
(٧)عوام الناس سے محبت
(٨)عنداللہ محبوب و مقبول
(٩)مال و دولت میں برکت
اللہم اعط منفقاخلفاواعط ممسکاتلفا

مراجع

(١) قرآن
(٢) احادیث
(٣) تفاسیر
(٤) فتاوی عالمگیری
(٥) آپ کےمسائل اوران کاحل
(٦) مظاہر حق
(٧) فقہ الزکوۃ

طالب دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔امتیاز ندوی

پیر، 25 مارچ، 2019

حج کے ارکان واجبات

1 تبصرے
حج کے ارکان،واجبات،سنن ومستحبات:
حج کب فرض ہوا؟

فرضیت حج کی سعادت عظمی ہمارےآقا سرکاردو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیامت کےساتھ مختص ہے گوکہنےکو توحج کارواج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہے مگر اس وقت اس کی فرضیت کاحکم نہ تھا۔ چنانچہ صحیح مسلک یہی ہے کہ حج صرف امت محمدیہ پر فرض ہوا ہے۔ حج کب فرض ہوا؟ اس بارے میں علماء کےاختلافی اقوال ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں سن ٥ ھجری میں فرض ہوا، اکثرعلماسن ٦ ھجری کےقائل ہیں لیکن زیادہ صحیح قول ان علماءکا ہےجویہ کہتےہیں کہ حج سن ٩ ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے جب کہاللہ تعالیٰ کایہ حکم نازل ہواآیت (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا)۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پرکعبہ کاحج (ضروری ) ہے اور یہ اس شخص پر جو وہاں تک جاسکے۔ چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا تھا اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو فعال حج کی تعلیم میں مشغولیت اور آئندہ سال کےلئےسفرحج کےاسباب کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سےخودحج کےلئے تشریف نہیں لےجا سکے، بلکہ اس سال یعنی سن ٩ ھ میں حضرت ابوبکر (رض) کو حاجیوں کا امیر مقرر فرما کر مکہ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کو حج کرادیں اورپھرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود سال آئندہ یعنی سن ١٠ ھ میں اس حکم الٰہی کی تعمیل میں حجکےلئے تشریف لےگئے یہ عجیب اتفاق ہےکہ فرضیت کےبعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی پہلا حج کیا جوآخری حج بھی ثابت ہوا۔ چنانچہ یہی حج " حجۃ الوداع" کے نام سےمشہور ہےاسی حج کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ عالمتاب اور وجود پرنورنےاس دنیاسےپردہ کیا۔


ہر سال لاکھوں بندگان خدا حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے عاشقانہ سفر کرکے سوئے حرم کو رواں دواں ہوتے ہیں ، ان کے دل میں ایک ہی جذبہ ہوتا ہے کہ *اپنے رب کو راضی کرنا اور جو احکام اس نے اس عظیم عبادت کے لئے دیئے ہیں ان کی بجا آوری میں کوتاہی نہ کرنا ، اسی مناسبت سے یہ تحریر پیش خدمت ہے تاکہ حج کے اہم احکام ایک نگاہ میں سامنے آجائیں۔

حج کے فرض ہونے کی شرطیں

(١) مسلمان ہونا کافر پر حج فرض نہیں
(٢) آزاد ہونا لونڈی غلام پر حج فرض نہیں
(٣) عاقل ہونا مجنون اور مست پر حج فرض نہیں
(٤) بالغ ہونا نابالغ پر حج فرض نہیں
(٥) صحت مند و تندرست ہونا بیمار اور اپاہج پر حج فرض نہیں
(٦) قادر ومستطیع الیہ ہونا محتاج و فقراء پر حج فرض نہیں
(٧) راستے کا اکثر و بیشتر ڈاکہ زنی کشتیوں کے غرقاب جہازوں کے کراس سے مامون ہونا ورنہ حج فرض نہیں
(٨) عورت کی ہمراہ شوہر یا کسی اور محرم کا ہونا جب کہ مکہ کی دوری بقدر مسافت سفر یعنی تین دن کی ٤٨ میل یا 78 کلومیٹرہو

مواقیت حج کی دو قسمیں ہیں

(١) زمانی
(٢) مکانی

زمانی میں حج کے مہینے شامل ہیں حج کے مہینے یہ ہیں ١(١) شوال(٢)ذوالقعدہ (٣) ذوالحجہ:(مناسک حج ذوالحجہ ٨ سے ١٢ تاریخوں تک ہی ادا کئے جاتے ہیں مواقیت مکانی جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کرنے والے کو احرام سے پہلے کیلئے متعین کیا ہے

مواقیت مکانی

(١) ذوالحلیفہ: مدینہ جانے بدن سے آنے والوں کے لئے
(٢) جحفہ: شام مصر افریقہ کوچک سے آنے والوں کے لئے
(٣) نجد: حکومت سعودی کادارالسلطنت ریاض کی طرف سے
(٤) قرن المنازل: نجد اور خلیج فارس کے ممالک سے آنے والوں کے لئے
(٥) ذات عراق: عراق سے آنے والوں کے لئے
(٦) یلملم: یمن کی طرف سے آنے والوں کے لئے
(٧) تنعیم: مکہ کی ایک مسجد جواہل مکہ کے لےہے

حج کی تین قسمیں ہیں

1:…… حج افراد : میقات سے صرف حج کا احرام باندھنا ۔ 
2:…… حج قران : حج کے مہینے میں حج اور عمرے کا ایک ساتھ ایک ہی احرام باندھنا
3:…… حج تمتع : حج کے مہینے میں پہلے عمرے کا اور پھر حج کا احرام باندھنا

حج کے فرائض تین ہیں

1:…… احرام باندھنا ۔
2:…… وقوف عرفہ کرنا۔
3:…… طواف زیارت کرنا ۔

حج کے واجبات 21 ہیں

1:…… میقات سے احرام باندھنا۔
2:…… وقوف عرفات کو غروب تک دراز کرنا ۔
3:…… یوم نحر (10 ذی الحجہ) کی فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ میں قیام کرنا۔
4:…… جمرات پرکنکری پھینکنا ۔
5:…… قارن اور متمتع کو قربانی کرنا ۔
6:…… سر منڈوانا(یا بال کٹوانا)۔
7:…… اور اس کو خاصبشکریں اور ایام نحر میں کرنا۔
8:…… رمی کو حلق سے مقدم کرنا ۔
9:…… قارن اور متمتع کا رمی اورحلق کے درمیان نحر (دم شکر ادا) کرنا۔
10:…… طواف زیارت کو ایام نحر (10 تا 12 ذی الحجہ) میں کرنا۔
11:…… صفا ، مروہ کی سعی حج کے مہینوں میں کرنا۔
12:…… اس سعی کا اعتبار طوافِ کے بعد ہونا۔
13:…… غیر معذور کے لئے چل کر سعی کرنا۔
14:…… سعی کا صفا سے شروع کرنا۔
15:…… طوافِ وداع کرنا۔
16:…… بیت اللہ کے ہر طواف کو حجر اسود سے شروع کرنا۔
17:…… تیامن یعنی داہنے ہاتھ سے شروع کرنا۔
18:…… غیر معذور کے لئے پیدل طواف کرنا۔
19:…… دونوں حدث (چھوٹی ناپاکی اور بڑی ناپاکی ) سے پاک ہونا۔
20:…… ستر چھپانا۔
21:…… ممنوعات کا ترک کرنا۔
نوٹ : ان میں سے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دم لازم ہوتا ہے اور بعض کے چھوڑنے سے دم لازم نہیں ہوتا۔

حج کی سنتیں 60 ہیں

1:…… احرام کے لئے غسل کرنا۔
2:…… یا وضو کرنا۔
3 :…… لنگی اور  چادر پہننا جو نئے اور سفید ہوں۔
4:…… خوشبو لگانا۔
5:…… احرام کی دو رکعت پڑھنا۔
6:…… احرام کے بعد لبیک کی کثرت کرنا
7:…… تلبیہ میں آواز کو بلند کرنا جب نماز پڑھے (مرد کے لئے)
8:…… یا بلندی کی طرف چڑھے 
9:…… یا نیچے کی طرف اترے ،
10:…… یا(کسی) سوار سے ملے
11:…… اور صبح کے وقت ۔
12:…… اور جب بھی تلبیہ پڑھے بار بار پڑھے 
13:…… اورنبی پاک ﷺ پر درود پڑھنا
14:…… اور جنت ، و نیکوں کا سوال کرنا۔
15:…… اور جہنم سے پناہ مانگنا۔ 
16:…… مکہ میں داخلہ کے لئے غسل کرنا۔
17:…… دن میں باب معلی سے مکہ میں داخل ہونا۔
18:…… بیت اللہ کی زیارت کے وقت اللہ اکبر اور لا الہ ا لا اللہ پڑھنا۔
19:…… بیت اللہ کو دیکھتے ہی محبوب چیز کی دعا مانگنا ۔
20:…… طواف قدوم کرنا چاہے حج کے مہینے نہ ہو۔
21:…… اس طواف میں اضطباع و رمل کرنا جس کے بعد سعی کرنی ہو۔
22:…… مرد کے لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑنا اور باقی میں آہستہ چلنا۔
23:…… کثرت سے طواف کرنا ، آفاقی کے لئے یہ نفل نماز سے افضل ہے۔
24:…… سات ذی الحجۃ کو مکہ میں نماز ظہر کے بعد خطبہ دینا (امام کے لئے)
25:…… اور یہ ایک خطبہ ہوگا بغیر درمیان میں جلسہ کئے ہوئے۔
26:…… اس میں لوگوں کو حج کے مناسک سکھلائے جائیں۔
27:…… (۸ ؍تاریخ )کو مکہ سے منی کے لئے طلوع آفتاب کے بعد نکلنا۔
28:…… اور رات منی میں گزارنا۔
29:…… پھر یوم عرفہ(۹؍)کو منی سے عرفات کے لئے طلوع شمس کے بعد نکلنا
30:…… عرفات میں امام زوال کے بعد دو خطبے دے ۔
31:…… اور ان کے درمیان بیٹھے۔
32:…… ان دونوں مجموعوں میں تضرع ،خشوع، آنسو بہا کر رونا۔
33:…… اور اپنے لئے، والدین کے لئے اور مسلمانوں کے لئے خوب دعا کرنا۔
34:…… پھر عرفات سے غروب کے بعد وقار اور سکون سے نکلنا۔
35:…… مزدلفہ میں بطن وادی سے ہٹ کر جبل قزح کے پاس اترنا۔
36:…… اور دسویں شب مزدلفہ میں قیام کرنا۔
37:…… اور منی کے دنوں (۱۰ ؍۱۱؍۱۲) منی میں رات گذارنا۔
38:……رمی جمار کے وقت منی کو دائیں جانب اور مکہ کو بائیں جانب رکھنا۔
39:…… تما م دنوں جمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت سوار ہونا۔
40:…… اور جمرۂ اولی کے وقت پیدل چلنا ۔
41:…… اور جمرہ ٔوسطی کی رمی کے وقت پیدل چلنا۔
42:…… اور رمی کے وقت بطن وادی میں کھڑا ہونا۔
43:…… رمی کا پہلے دن طلوع شمس اور زوال کے درمیان میں ہونا۔
44:…… اور باقی دنوں میں زوال اور غروب کے درمیان ہونا۔
45:…… حجِ افراد کرنے والے کے لئے ہدی کا ذبح کرنا بھی سنت ہے۔
46:…… حج افراد کی ہدی سے اور نفل ہدی سے اور قران و تمتع کی قربانی سے کھانا۔ 
47:…… یوم نحر کو پہلے خطبہ کی طرح خطبہ کہنا سنت ہے۔
48:…… اس میں حج کے بقیہ مناسک سکھلائے جائیں۔
49:…… بارہ تاریخ کو منی سے نکلنے کا ارادہ ہو تو غروب شمس سے پہلے جلدی کرنا 
50:…… منیٰ سے نکلنے کے بعد تھوڑی دیرمقام محصب میں اترنا سنت ہے۔
51:…… اور زمزم کے پانی کو خوب سیراب ہو کر پینا۔
52:…… بیت اللہ کی طرف منھ کرکے ، اس میں دیکھتے ہوئے پینا ۔
53:…… کھڑے ہو کر پینا۔
54:…… زمزم پانی تھوڑا سا اپنے سر اور جسم پر ڈالنا۔
55:…… ملتزم سے چمٹنا اس طرح پر کہ اپنا سینہ اور منھ اس پر رکھے سنت ہے۔
56:…… تھوڑی دیر کے لئے اپنی محبوب چیز کی دعا مانگتے ہوئے غلاف کو تھامنا۔
57:…… بیت اللہ کی چوکھٹ کا بوسہ دینا۔
58:…… بیت اللہ میں ادب و عظمت سے داخل ہونا( اگر ہوسکے)
59:…… زیارت مدینہ کرنا ۔
60:…… حضور ﷺ پر درود و سلام پڑھنا۔
لغت : 
اضطباع : احرام کی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے کے اوپر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں ۔
رمل : جس طواف کے بعد سعی ہو اس کے تین پہلے تین چکر میں ذرا اکڑ کر چلنے کو رمل کہتے ہیں ، یہ سنت ہے۔

جنایت کی 4 قسمیں اور اس کا مجموعہ 38 جنایتیں ہیں

1:…… وہ جنا یت جس میں( دم) واجب ہوتا ہے وہ 14 ہیں۔
2:…… وہ جنایت جس میں آدھا صاع گیہوں صدقہ واجب ہوتا ہے وہ 13 ہیں ۔
3:……وہ جنایت جس میں آدھا صاع سے کم صدقہ واجب ہوتا ہے۔ 
4:…… وہ جنایت جس میں قیمت واجب ہوتی ہے ۔

دم یعنی بکری واجب کرنے والی جنایتیں 14ہیں

1:…… کوئی بالغ محرِم عضو پر خوشبو لگالے۔ 
2:…… اپنے سر کو مہندی سے رنگے۔
3:…… خوشبودار تیل لگائے۔
4:…… سلا ہوا کپڑا پہنے۔
5:…… پورے ایک دن سر کو چھپائے۔
6:…… چوتھائی سر منڈوالے۔
7:…… پچھنا لگانے کی جگہ کے بال کو کاٹے ۔
8:……، ایک بغل کے بال کو کاٹے۔ 
9:…… زیر ناف بال کو کاٹے ۔
10:…… گردن کے بال کو کاٹے۔
11:…… دونوں ہاتھ اور پیر کے ناخن کو ایک مجلس میں کاٹے۔ 
12:…… ایک ہاتھ یا ایک پیر کے ناخن کو کاٹ لے۔
13:…… حج کے واجبات میں سے کسی ایک واجب کو ترک کردے۔
14:……حالت جنابت میں طواف کرلے، تو ان سب صورتوں بکری لازم ہے۔

وہ جنایات جن سے آدھاصاع گیہوں واجب ہوتا ہے ،13 ہیں

1:……مکمل عضو سے کم پر خوشبو لگائے۔
2:…… ایک دن سے کم سلا ہوا کپڑا پہنے۔
3:…… ایک دن سے کم اپنا سر ڈھانپے۔
4:…… سر کے چوتھائی سے کم بال منڈوائے۔
5:…… پانچ ناخن سے کم کاٹے۔
6:…… ہر ناخن کے بدلے نصف صاع ہے۔
7:……حالت حدث(بے وضو) میں طواف قدوم یاطواف صدر کرے ۔
8:…… یا طواف صدر میں ایک چکر چھوڑ دیا۔
9:……دو تین چکر طواف چھوڑے ، تو ہرایک کے بدلے آدھا صاع۔
10:…… کسی جمرہ پر ایک کنکری چھوڑدی۔
11:…… سات کنکری سے کم چھوڑے تو ہر کنکری کے بدلے آدھا صاع۔
12:……یا اپنے علاوہ کسی(محرم یا حلال) کا سر حلق کیا۔
13:…… اگر عذر سے خوشبو لگائی ، یا سلا ہوا کپڑا پہنا ،یا حلق کیا تو اسے اختیا ر دیا جائے گا کہ ذبح کرے ،یا تین صاع چھ مساکین پر صدقہ کرے یا تین روزے رکھے ۔ 

وہ جنایت نصف صاع سے کم واجب کرتی ہے ایک ہے

1:……جوں یا ٹڈی کو مارے تو جو چاہے صدقہ کرے۔

وہ جناتیں جو قیمت کو واجب کرتی ہیں 10 ہیں

1……اگرمحرم نے شکار کو قتل کیا پوری قیمت لازم ہوگی۔
2:……شکار کا ایسا عضو کاٹا کہ بھاگ نہیں سکتا تو پوری قیمت لازم ہوگی ۔
3:……پرندے کا ایسا پر اکھاڑا کہ اڑ نہیں سکتا تو پوری قیمت لازم ہوگی۔
4:……پرندے کا ایسا پر کاٹا کہ وہ اڑ سکتا ہو تو جو قیمت کم ہوئی وہ لازم ہوگی۔
5:……پرندے کا ایسا پر نوچا کہ وہ اڑ سکتا ہو تو جو قیمت کم ہوئی وہ لازم ہوگی۔
6:…… جانورکا ایسا عضو کاٹا کہ بھاگ سکتاہو تو جو قیمت کم ہوئی وہ لازم ہوگی۔ 
7:…… یا انڈے کو توڑنے سے انڈے قیمت واجب ہوگی ۔
8:…… اور درندے کے قتل پر بکری کی قیمت سے تجاوز نہ ہوگا۔
9:……حلال حرم کاشکار مارے تو پوری قیمت ہے۔ 
10:……حرم کی گھاس اور خود رو درخت کے کاٹنے سے اس کی قیمت ہے۔

ان جانوروں کے قتل سے کچھ واجب نہیں ہوتا وہ 14 ہیں

1:……کوا
2:…… چیل
3:…… بچھو
4:…… چوہا
5:……سانپ 
6:……پاگل کتا
7:…… مچھر 
8:……چیونٹی 
9:……پسو 
10:……چیچڑی
11:…… کچھوا
12:……اور جس کا شکار نہ ہوتا ہو اسکے مارنے سے کچھ واجب نہیں۔ 
13:…… اگر (درندہ )حملہ کرے تو اس کے قتل پر کچھ بھی واجب نہیں ۔ 
14:…… پالتو جانور کے قتل کرنے سے کچھ واجب نہیں ہوتا ۔

جن جانورں کا گوشت ذبح کرنے والا کھا سکتا ہے 4 ہیں

1……دم تمتع
2……دم قران 
3……نفلی ہدی 
4……قربانی کا گوشت خود کھا سکتا ہے

جن جانور ں کا گوشت ذبح کرنے والا نہیں کھا سکتا ہے 6 ہیں

1……جنایات کا دم 
2……کفارات کا دم 
3……شکار کا بدلہ 
4…… بیماری کی وجہ سے ہدی کو راستے میں ذبح کر نا پڑا ہو 
5……احصار کا دم 
6……نذر کا دم 

جن جانورں کو حرم میں ذبح کر نا ضروری ہے 5 ہیں

1……دم تمتع
2:…… دم قران 
3……نفلی ہدی 
4……دم احصار
5……شکار کا بدلہ

جس جانورکوحرم میں ذبح کرناضروری نہیں وہ 1ہے

1……ہدی بیمار ہو گئی ہو تو جہاں چا ہے ذبح کرے

جن جانورں کو ایام النحر میں  ذبح کر نا ضروری ہے،وہ 3 ہیں

1……دم تمتع 
2……دم قران 
3……بہتر ہے کہ نفلی ہدی کو بھی یوم النحر میں ذبح کرے ۔

لغت : 
حرم : مکہ مکرمہ کے چاروں طرف حرم کے حدود ہیں اس میں بعض ہدی کو ذبح کرنا ضروری ہوتا ہے ۔یوم النحر ، ۱۰ ؍ ۱۱؍۱۲؍ ذی الحجہ کو ایام نحر کہتے ہیں ۔

جن جانورں کو یوم النحرمیں ذبح کر نا ضروری نہیں ہے وہ 5 ہیں

1……کفارات کادم
2……نذر کا دم 
3……احصار کا دم 
4……شکار کا بدلہ 
5……جنایات کا دم 

عمرہ کا بیان

عمرہ میں 3 چیزیں فرض ہیں

1……میقات سے احرام باندھے۔ 
2……سات چکر طواف کرے۔ 
3……اس کے بعد سعی کرے ۔
0……بال کٹوا کر حلال ہوجائے ۔
0……باقی تمام چیزیں وہی ہیں جو حج میں ہیں۔ 

قبولیت  دعا کے مقامات 15 ہیں جہاں دعا قبول ہوتی ہے

1:……حالت طواف میں۔
2:……ملتزم کے پاس۔
3:……میزاب(رحمت) کے نیچے ۔
4 :…… بیت اللہ کے اندر۔
5:……زمزم کے پاس۔
6:…… مقام ابراہیم کے پیچھے ۔
7:……صفا پر ۔
۸:……مروہ پر۔
9:…… حالت سعی میں۔
10:……عرفات میں۔
11:…… منی میں۔
12:……جمرۂ اولی۔
13:…… جمرۂ ثانیہ۔
14:…… جمرۂ ثالثہ کے پاس (رمی کے وقت)
15:……چوتھے دن کی رمی کے وقت۔
     
 مراجع 

(١) قرآن
(٢) حدیث
(٣) ثمرةالفقه
(٤) مظاہرحق

طالب دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امتیاز ندوی

بدھ، 20 مارچ، 2019

روزے کے احکام ومسائل

1 تبصرے
روزے کے احکام ومسائل:
رمضان المبارک کا روزہ فرض اور دین اسلام کا چوتھا رکن ہے ۔ اس کی فرضیت قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے ۔ روزے کو عربی میں صوم یا صیام کہتے ہیں ۔ صوم کے لغوی معنی کسی چیز سے رکنا اور کسی امر سے باز رہنے کے ہیں ۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صوم یا صیام سے مراد یہ ہے کہ آدمی صبح صادق سے غرب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی خواہشات پوری کرنے سے باز رہے ۔
روزے کا حکم :
۲ھ ؁ میں رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے اس آیت میں یہ حکم موجود ہے : یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام (اے مومنو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔)
روزے کی اہمیت وفضیلت :
روزہ تمام آسمانی شریعتوں میں فرض رہا ہے اور ہر امت کے نظام عبادت میں یہ ایک لازمی جز کی حیثیت میں شامل رہاہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کما کتب علی الذ ین من قبلکم (جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیاگیاتھا۔)
روزے کا مقصد :
روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی میں اﷲ کا تقویٰ پیدا ہو جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : لعلکم تتقون تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔تقویٰ دراصل اس اخلاقی جوہر کا نام ہے محبت الہی اور خوف سے پیدا ہوتا۔ اﷲ کی ذات پر پختہ یقین اور اس کی صفت رحمت واحسان کے حقیقی شعور سے آدمی میں جذبہ محبت ابھرتا ہے اور اس کی صفت قہروغضب سے اس کا خوف پیدا ہوتاہے ۔ اس جذبۂ محبت وخوف کی قلبی کیفیت کا نام تقویٰ ہے ۔تقویٰ تمام اعمال خیر کا سر چشمہ اور تمام اعمال بد سے محفوظ رہنے کا یقینی ذریعہ ہے ۔ متقی انسان اندرونی جذبے کے تحت نیکی کی طرف لپکتااور برائیوں سے بچتاہے وہ نیکی سے سکون پاتا ہے اور برائیوں سے کڑھتاہے ۔روزہ اسی کیفیت کے پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے روزے کی حالت میں اپنی مرغوب اور حلال چیز کو صرف اﷲ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں چھوڑتا ہے ۔اس کے قہر وغضب سے ڈرتے ہوئے اس کے قریب نہیں جاتا اور جب اس کو افطار کا حکم دیاجاتاہے تو اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے روزہ افطار کرتاہے اپنی خواہش نفس کو قابو میں رکھتاہے اور بندہ نفس کے بجائے بندہ رب ہونے کا اظہار کرتا ہے اور یہی مقصود ’’روزہ‘‘ ہے ۔
روزہ فرض ہونے کے لئے سات شرطیں ہیں

(١) مسلمان ہونا
(٢) عاقل ہونا
(٣) بالغ ہونا
(٤) مکلف ہونا
(٥) روزہ رکھنے پرقادر ہونا
(٦) مقیم ہونا
(٧) ان میں کوئي مانع نہ پایا جائے

روزے کی پانچ قسمیں ہیں

(١) فرض
(٢) واجب
(٣) سنت
(٤) مکروہ
(٥) حرام

(١) فرض : صرف ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں ۔
(٢) واجب : نذر اور منت کے روزے اور قضاءاورکفارے کے روزے واجب ہیں ۔

(٣) مسنون : محرم کی 9اور10تاریخ کے دوروزے ۔
یوم عرفہ یعنی ذی الحجہ کی 9تاریخ کا روزہ۔
ایام بیض یعنی ہر اسلامی مہینے کی 13,14,15تاریخ کے روزے ۔یہ روزے سنت غیر مؤکدہ ہیں ان کے رکھنے میں بڑا اجر وثواب اور نہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ۔

نفل : فرض، واجب اور سنت روزوں کے ماسوا تمام روزے مستحب ہیں جن کے رکھنے میں اجرو ثواب ہے اور نہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔لیکن بعض متعین نفلی روزے ایسے ہیں جن کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہےاوران کےرکھنے میں بڑااجروثواب ہے ۔
ماہ شوال کے 6روزے۔
پیر اور جمعرات کا روزہ۔
ذی الحجہ کے ابتدائی عشرے کے 8روزے۔

(٤) مکروہ : صرف ہفتہ اور اتوار کا روزہ ۔
صرف یوم عاشورہ کا روزہ ۔
صوم وصال یعنی درمیان میں ناغہ کئے بغیر مسلسل روزے رکھنا۔

مسئلہ : صرف جمعہ کو اس کی فضیلت سمجھتے ہوئے روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن اگر کسی شخص کو صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے کا موقع ملتاہو تو پھر مکروہ نہیں ہے 

(٥) حرام :  سال میں پانچ دن ایسے ہیں جس میں روزہ رکھنا حرام ہے:
یکم شوال یعنی عیدالفطر کے دن کا روزہ ۔
ماہ ذی الحجہ کی۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ تاریخوں کے چار روزے۔
علاوہ ازیں حدیث میں رمضان سے ایک دو روز قبل (استقبال رمضان) روزہ رکھنے کو منع کیاگیاہے ۔

روزے کے فرائض:

روزے میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک تین باتوں سے رکا رہنا فرض ہے ۔
(١) کھانے سے
(٢) پینے سے
(٣) نفسانی خواہشات سے

روزے کے سنن اور مستحبات :

(١) سحری کھانا سنت ہے اگرچہ وہ چند گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔
(٢) سحری میں کھجور کھانا مستقل سنت ہے ۔
(٣) سحری اخیر وقت یعنی صبح صادق سے ذرا پہلے کھانا سنت ہے ۔
(٤) افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے جب غروب آفتاب کا یقین ہوجائے تو پھر دیر کرنا ہرگز صحیح نہیں ۔
کھجور ، چھوارہ اگر مہیا ہوں تو ان سے افطار کرنا مستحب ہے ۔ پانی سے بھی مستحب ہے۔ روزے کی نیت رات ہی سے کرلینا مستحب ہے ۔
غیبت، چغلی، شورہنگامہ ، لڑائی جھگڑا، سخت کلامی اور غصہ وغیرہ سے روزے میں بچنے کااہتمام کرنا مسنون ہے۔ مومن کو یوں بھی ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔لیکن روزے میں اور زیادہ شعور کے ساتھ ان سے بچے رہنے کا اہتمام کرنا مسنون ہے ۔

روزہ توڑنے والی چیزیں:

(1)جماع
(2)کھانا - پینا 
(3)شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا 
(4)جان بوجھ کر قے کرنا 
(5)حیض و نفاس کے خون کا جاری ہونا 
(6) کان اور ناک میں دوا ڈالنا 
(7) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا 
(8) ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی، جیسے لکڑی یا لوہے کا ٹکڑا، کچے گیہوں یا چاول کا دانہ وغیرہ 
(9) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا 
(10) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا 
(11) یہ سمجھ کر کہ ابھی رات باقی ہے، صبح صادق کے بعد سحری کھالی 
(12) دن باقی تھا مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا تو ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا

روزے کے متفرق مسائل :

عورتوں کوایام ماہواری اور نفاس کے علاوہ جو خون آئے وہ استحاضہ کہلاتا ہے اس صورت میں نماز اور روزہ معاف نہیں ہے لہٰذا استحاضہ کے دوران نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا لازم ہے ۔
امتحان یا کسی مشقت والے کام کی وجہ سے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔
دوسرے کی طرف سے روزہ نماز ادا نہیں ہوسکتا۔
عرب ممالک سے آنے والے ہندوستان میں رمضان کے روزے رکھتے رہیں گے ۔ تیس سے زائد روزے نفل شمار ہوں گے جبکہ ہندوستان سے عرب ممالک جانے والے وہاں کے 
مطابق عید کریں گے اور جو روزہ رہ گیا وہ بعد میں اس کی قضاء کریں ۔
جمعۃ الوداع کےروزےکی اپنی کوئی فضیلت نہیں ہے ۔

نیت مسائل :

دل کے ارادے کو نیت کہتے ہیں، چاہے زبان سے کچھ کہا جائے یا نہ کہا جائے ، سحری میں اٹھنا اورسحری کرنا بھی نیت میں شمار ہوتاہے ۔
روزے کے لئے نیت شرط ہے ۔ نیت عربی میں ضروری نہیں، اپنی زبان میں بھی کرسکتے ہیں ۔ عربی میں نیت کےالفاظ یہ ہیں(بصوم غدٍ نویت من شہررمضان)
(میں رمضان کے کل کے روزے کی نیت کرتاہوں )
روزہ خواہ فرض ہو یا نفل، قضاء ہو یا نذر نیت کے بغیر صحیح نہیں ہے ۔ بغیر نیت کے تمام دنکچھ کھائے پئے بغیر گزار دینا روزہ نہیں کہلائے گا۔
ماہ رمضان میں صرف رمضان کا روزہ شمار ہوتاہے اگرچہ نیت کسی اور روزے کی کی ہو۔
رمضان کے ہر روزے کی علیحدہ نیت ضروری ہے ۔ سارےمہینےکےروزوں کی ایک مرتبہ نیت کافی نہیں ہے ۔
صبح صادق سے قبل کسی روزے کی نیت کرلی تو جب تک صبح صادق نہ ہوجائے کھانا پینا جائز ہے ۔
رمضان کے روزے میں اگر رات کو نیت کرکے توڑدی اور دن کو کھاپی لیا تو صرف قضاءلازم ہوگااور اگر دن میں نیت توڑ کر کھاپی لیا تو کفارہ بھی لازم آئے گا اور اگر غیر رمضان میں رات کو نیت توڑ دی تو قضاء ہے نہ کفارہ اور اگر دن میں نیت ختم کرکے کھاپی لیا تو صرف قضاء لازم ہوگا۔ جن روزوں میں ان کا وقت متعین ہے اس میں بلاعذرنیت توڑنا جائز نہیں اور غیر معین میں توڑنا بغیر عذر کے بھی جائز ہے ۔

سحری کا وقت:

روزے دار کو رات کے آخری حصے میں صبح صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون ہے اور باعث برکت وثواب ہے ۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی سحری کرلے سنت ادا ہوجائے گی ۔
اگر مؤذن نے صبح کی آذان وقت سے پہلے دے دی تو سحری کی ممانعت نہیں جب تک صبح صادق نہ ہوجائے سحری کرسکتے ہیں ۔
سحری میں جہاں تک ہوسکے دیر کرکے کھانا مسنون ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑجائے ۔
صبح صادق کے بعد کھنا پینا درست نہیں خواہ آزان ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
صبح صادق کے بعد کسی نے کھاپی لیا تو روزہ نہیں ہوگا۔

جن چیزوں سے روزہ نہ ٹوٹتاہے نہ مکروہ ہوتاہے :

(١) مسواک کرنا
(٢) کان میں پانی ڈالنا یا بلا ارادہ چلے جانا 
(٣) آنکھ میں دوا یا سرمہ لگانا اگرچہ اس کا اثر حلق میں محسوس ہو۔ 
(٤) دانتوں سے خون نکلے اور حلق میں نہ جائے
(٥) سوتے میں احتلام ہوجانا ۔ 
(٦) خودبخود قے آجانا 
(٧) حلق میں بلا اختیار دھواں گردو غبار یا مکھی چلے جانا 
(٨) کسی قسم کا ٹیکہ یا انجکشن لگوانا البتہ طاقت کا انجکشن لگوانا مناسب نہیں 
(٩) گرمی یا پیاس کی وجہ سے غسل کرنا یا کپڑا لپیٹنا ۔ 
(١٠) بدن پر تیل ملنا ۔
(١١) ناک کوروزے کی حالت میں اتنی زور سے سڑک لیا کہ حلق میں چلی گئی
(١٢) بلغم یا تھوک کے نگلنے سے۔ 
(١٣) دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہواتھا وہ کھالیااگرچنے کی مقدارسے کم تھا۔
(١٤) کھارے پانی سے وضو کرنا۔
(١٥) خود بخود الٹی ہوجائے تو اگرچنے کی مقدار تک اس کو نہ نگلا ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا
(١٦) قصداً قے کرنا مگر مقدار منہ بھرکرنہ ہو۔ 
(١٦) حالت جنابت میں روزہ شروع ہو۔
(١٧) پھول سونگھنے سے ۔ 
(١٨) بھول کر کھانے پینے سے ۔
(١٩) بچے کو دودھ پلانے سے۔
(٢٠) بے ہوش ہوجانے سے۔
(٢١) ضرورت کے وقت اپنے منہ سے چبا کر چھوٹے بچے کو کوئی چیز کھلانا جائز ہے اور بلاضرورت مکروہ ہے ۔

جن چیزوں سے روزہ مکروہ ہوجاتاہے :

(١) ٹوتھ پیسٹ ، منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بشرطیکہ یہ چیزیں حلق میں بالکل نہ جائیں ۔
(٢) منہ میں تھوک جمع کرکے قصداً نگل لینا ۔
(٣) ایسا کام یا محنت کرنا جس سے اس قدر کمزوری کا اندیشہ ہو کہ طاقت نہ رہے ۔
(٤) بلاضرورت کوئی چیز چبا کر یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا ۔
(٥) کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے میں ضرورت سے زیادہ اہتمام کرنا۔
(٦) غیبت ، گالی گلوچ ، شوروہنگامہ کرنا کسی کو ستانا اور جبروزیادتی کرنا ۔

جن چیزوں سےروزہ ٹوٹ جاتاہےاورصرف قضاواجب ہوتی ہے :

(١) جان بوجھ کر منہ بھر کرقے کرنا۔
(٢) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کرلی۔
(٣) بھول کر کھاپی لیا اور یہ سمجھ کرکہ اب تو (٤)روزہ ٹوٹ گیا ہے پھر قصداً کھاپی لینا ۔
(٥) نزلہ میں وکس(Vicks)اور دوسری ایسی دوا (٦)سونگھنا جس کی تیزی دماغ تک پہنچتی ہو۔
(٧) سحری میں پان کھایا مگر منہ صاف نہ کیاپان کے اجزاء صبح صادق کے بعد تھوک کے ساتھ نگل لئے تو روزہ فاسد ہوگیا۔ البتہ منہ اچھی طرح صاف کرلیاتھا صرف سرخی باقی تھی تو روزہ برقرار رہے گا۔
(٨) قبل از غروب غلطی سے یہ سمجھ کر سورج غروب ہوگیا روزہ افطار کرلیا۔
کلی کرتے وقت یا ناک میں پانی ڈالتے وقت اگر بلا (٩)ارادہ حلق میں پانی چلاگیا اور روزہ بھی یاد تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اگر روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(١٠) بیوی کو چھونے اس کا بوسہ لینے سے انزال ہوجائے ۔
(١١) لوبان ، اگر بتی عودوغیرہ کا دھواں قصداً ناک وحلق میں پہنچانا۔
(١٢) روزے کی حالت میں عورت کو ایام آگئے یا نفاس شروع ہوجائے ۔ 
(١٣) دانت یا داڑھ سے خون نکلایا دوائی اس میں لگائی تھی وہ حلق میں چلاگیا۔
(١٤) پان، سگریٹ ، نسوار ، حقہ کےاستعمال کرنے سے۔اگر اس کو نافع نہ سمجھتاہو۔
(١٥) کوئی ایسی چیز کھالے جو نہ دوا ہوا اور نہ غذا۔ مثلاً لوہے یا لکڑی کا ٹکڑایا کنکر وغیرہ ۔

جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا اور کفارہ دونو ں لازم ہوتے ہیں بشرطیہ کہ رمضان کا ادا روزہ ہو:

(١) روزہ رکھ کر قصداً کھا ،پی لینا یا کوئی دوائی قصدًاکھا لینا ۔
(٢) قصداً ہم بستری کرلینا اگر چہ مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کی ہو۔
(٣) قصداً حقہ ، بیڑی یا سگریٹ پی لینا ۔

روزہ کا کفارہ :

رمضان المبارک کا روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دومہینے چاند کے حساب سے لگاتار روزے رکھے یہ دو مہینے ایسے ہوں گے جن کے درمیان رمضان وعیدین اور ایام تشریق نہ آئیں ۔ اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہوتو 60مسکینوں کو صبح وشام پیٹ بھرکر کھانا کھلا دے اگر یہ مشکل ہوتو احتیاطاً دو کلو خالص گندم یا آٹا یا اس کی قیمت 60مسکینوں میں سے ہر ایک کو دے دیں۔ کفارہ صرف اسی وقت آتاہے جب رمضان کا روزہ رمضان ہی کے مہینے میں جان بوجھ کر توڑ دیا جائے اور اگر رمضان کے مہینے کے علاوہ اور دنوں کا روزہ ہو یا رمضان کے قضاء کا روزہ ہی کیوں نہ ہو اس کو توڑدیا جائے تو صرف قضاء واجب ہوگی کفارہ نہیں ہوگا۔ اور یہ روزہ ایسی چیز کے استعمال سے توڑا گیا ہو جس کی جانب طبیعت راغب ہو، پیٹ کی طلب پوری کی جائے اگرچہ وہ بہت ہی کم مقدار میں ہوحتیٰ کہ ایک تل کے برابر ہی کیوں نہ ہو، دوم یہ کہ اس مقصود خواہش نفسانی کو پورا کرنا ہو۔
کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لئے کھاپی رہا ہے ۔ اس پر کفارہ واجب نہیں کفارہ جب ہی ہے کہ نیت کرکے روزہ توڑدے ۔
ازدواجی تعلق کے علاوہ کسی اور سبب سے کفارہ واجب ہوا ہو اور ابھی کفارہ نہیں دیا تھا کہ دوسرا واجب ہوجائے تو ان دونوں کے لئے ایک ہی کفارہ کافی ہے اگرچہ دونوں کفارے دو رمضانوں کے ہو ۔ البتہ ازدواجی تعلق کے سبب سے جتنے روزے فاسد ہوئے ہوں تو اگر وہ ایک ہی رمضان کے روزے ہیں تو ایک ہی کفارہ کافی ہے اور اگر دو رمضان کے ہیں تو ہر ایک رمضان کا کفارہ الگ الگ دینا ہوگا اگر چہ پہلا کفارہ نہ ادا کیاہو۔
کفارہ میں اوّلا ساٹھ روزے رکھنا واجب ہے اگر ساٹھ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں ہے تو پھر مسکینوں کو صبح وشام کھانا کھلایا جائے گا۔
روزے رکھنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اوّل قضاء روزے رکھے جائیں پھر کفارے کے روزے رکھے جائیں اگر کسی نے پہلے کفارے کے روزے رکھے پھر قضاء روزےرکھتاہے تو یہ بھی جائز ہے ۔
کفارے کے روزے مسلسل رکھنا واجب ہے درمیان میں ناغہ نہ ہونے پائے کفارے کے روزوں کے درمیان رمضان آگیا یا عیدالاضحی وایام تشریق آگئے یا بیمار ہوگیا یا بچے کی ولادت ہوگئی تو ان تمام صورتوں میں ازسرنوکفارے کے روزے رکھنا واجب ہے ۔البتہ ایام ماہواری آجائیں تو ان دنوں میں روزہ نہ رکھے اس کی وجہ سے تسلسل نہیں ٹوٹے 
گا یہ معاف ہے ۔ ایام ماہواری کے بعد بقیہ روزے مکمل کرلے۔
اگر کفارے کے روزے قمری مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع کئے تو چاند کے حساب سے دو ماہ پورے کرے خواہ ساٹھ دن ہوں یا انسٹھ دن ہوں یا اٹھاون دن اور اگر قمری مہینے کے درمیان سے شروع کئے گئے تو اس مہینے کو پورا کرکے اگلے پورے ماہ کے روزہ رکھنا اور پھر تیسرے مہینے میں اتنے روزے رکھنا چاہئے کہ پہلے مہینے کے دن ملا کر پورے تیس 
ہوجائیں ۔
اگر روزے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ میں کھانا کھلائے تو اس میں ساٹھ روز ایسے محتاجوں کو کھلانا واجب ہے ۔ جوکفارہ دینے والے کے اپنے خاندان کے لوگ نہ ہوں اور خاندان سے مراد یہ ہے کہ جس کا نفقہ اس پر واجب ہے ۔ مثلاً والدین ، دادا ،بیٹے ، پوتے اور بیوی وغیرہ
کھانا کھلانے کی صورت میں تسلسل کی ضرورت نہیں متفرق ایام میں کھلانے سے بھی کفارہ ادا ہوجاتاہے ۔
کھانا ان مسکینوں کو کھلایا جائے جو خالی پیٹ یعنی بھوکے ہوں ار اتنا کھلایا جائے کہ بھوکے نہ رہیں شکم سیر ہوکر کھائیں ۔
ساٹھ محتاجوں کو دو وقت پیٹ بھر کھلانا واجب ہے اس طرح چاۂے تو انہیں ایک ہی دن دو وقت یعنی صبح وشام کھلادے چاہے دو دن صبح کے وقت یا دو دن شام کے وقت کھلا دے مگر شرط یہ ہے کہ جن محتاجوں کو کھانا کھلایا جائے دوسرے وقت بھی انہیں محتاجوں کو کھانا کھلانا ہوگاچنانچہ اگر کسی نے ایک وقت ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلادیا اور پھر دوسرے وقت ان کے علاوہ دوسرے ساٹھ محتاجوں کو کھلایا تو یہ کافی نہ ہوگا بلکہ کفارہ اسی وقت ادا ہوگا جب ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت کو پھر دوبارہ ایک وقت اور کھنا کھلائے اور اگر ساٹھ روز تک روزانہ نئے محتاج کو صبح شام کھانا کھلائے یا ایک ہی مسکین کو ساٹھ روز تک صبح وشام کھاناکھلائے تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔ اگر ان مسکینوں میں بعض بچے قریب البلوغ نہ ہو تو ان کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا بلکہ ان بچوں کی تعداد کی مقدار اور مسکینوں کو کھانا کھلائے البتہ اگر ان کو کفارے کی مقدار گندم یا اس کی قیمت ہر ایک بچہ کی ملک کردی جائے تو درست ہے ۔
اگر کھانا کھلانے کے بجائے اناج یا اس کی قیمت دینا چاہے تو ایک مسکین کو صدقہ فطر کے مقداراناج یا اس کی قیمت دی جائے ۔
کفارے میں ایک مسکین کو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن کا فدیہ ادا ہوگا اب اگر ایک مسکین کو زیادہ مقدار دے دیا تو وہ ایک ہی دن کا ہوگا، زیادہ شمار نہ ہوگا۔البتہ شیخ فانی( وہ بوڑھاجس کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو) رمضان کے پورے روزوں کا فدیہ ایک ہی محتاج کو دینا چاہے یا ایک ا یک محتاج کو کئی کئی روز کا فدیہ دے تو یہ جائز ہے ۔ روزے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا یا اناج یا اس کی قیمت دینا یا ایک مسکین کو ساٹھ دن دینا ضروری ہے ایک مسکین کو ایک دن سے زیادہ دینے میں ایک دن کا ہی ادا ہوگا غرض کفارہ میں تعداد فقراء یا تعداد ایام کا ہونا ضروری ہے اور فدیہ میں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔
اگر کسی نے دوسرے سے کہہ دیا کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کردو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھانا کھلا یا یا اناج دے دیا یا اس کی قیمت دے دی تو کفارہ ادا ہوجائے گااور اگر بغیر اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔
کفارے میں اپنی جگہ کسی کو وکیل بناکر اس کے ذریعہ مسکینوں کو کھانا یا اس کی قیمت دے سکتاہے ۔
بیوی کے کفارے کو ادا کرنا شوہر پر لازم نہیں ہے ۔
کفارے کی رقم مسجد میں نہیں لگاسکتے۔
وہ عذر جن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے :
اگر ایسا بیمار ہے کہ روزہ نقصان کرتاہے اور یہ ڈر ہے روزہ رکھے گا تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھا ہوگا ، یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھا ،ہوجائے تو اس کی قضا کرلے ۔ لیکن صرف دل سے ایسا خیال کرلینے سے روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے بلکہ جب کوئی مسلمان دین دار حکیم ، طبیب یا ڈاکٹر کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑ نا چاہئے ۔
مسافر شرعی جو اپنے شہر کی آخری حدود سے کم ازکم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت سے گھر سے نکلا ہو اس کے لئے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے البتہ اگر سفر میں تکلیف اور مشقت نہ ہوتو روزہ رکھ لینا افضل ہے ۔
سفر کے دوران کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت سے ٹھہرا تو رمضان کا روزہ رکھنا ضروری ہے ۔
جوعورت حمل سے ہو اور روزہ رکھنے سے بچے کو یا اپنی جان کو خطرہ ہوتو روزہ ہرگز نہ رکھےبعد میں قضا کرلے۔
عورتوں کے مخصوص ایام اور نفاس کے دوران روزہ رکھنا حرام ہے ۔
جس عورت کے متعلق کسی بچے کا دودھ پلانا ہو خواہ بچہ اسی کا ہو یا کسی دوسرے کا اجرت پر پلاتی ہو یا مفت ۔ البتہ مفت پلانے کی صورت میں تفصیل ہے کہ اگر کوئی دوسری دودھ پلانے والی مل جائے اور وہ بچہ بھی اس سے پینے سے راضی ہوجائے تو ایسی حالت میں اس کو روزہ نہ رکھنا جائز نہیں ۔
عورتوں کا نفلی روزہ بغیر اجازت شوہر منع ہے ۔ شوہر اس کے توڑنے کا حکم کرسکتاہے ۔ توڑدیا تو صرف قضاء لازم ہے ۔
بچہ جب روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کو حکم دیا جائے گااور اگر روزہ نہ رکھا تو بھی قضاء نہیں ہے ۔ دس سال کے بچے کے حق میں روزہ بمنزلہ نماز ہے ۔
روزہ رکھنے کے بعد توڑنے کی اجازت :
روزہ رکھنے کے بعد ایسا شدید حادثہ آجائے یا بیمار ہوجائے کہ اس میں دوایا غذانہ ملنے کی صورت میں جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہویا مرض میں غیر معمولی شدت پیدا ہونے کا خطرہ ہوتو روزہ توڑنا جائز ہے بعد میں صرف قضاء لازم ہے ۔رمضان میں اگر کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں سارے دن روزے دار کی طرح رہنا واجب ہے ۔
روزے کی قضاء سے متعلق مسائل
جو مریض صحت یات ہوجائے یا عورت کے مخصوص ایام ختم ہوجانے یا نفاس ختم ہوجائے تو ان کو قضاء روزے رکھنا لازم ہے فدیہ سے روزہ معاف نہ ہوگا۔
اگر کسی عذرکی وجہ سے روزہ قضاء ہوگیا تو عذر ختم ہونے کے بعد جلدازجلد ادا کرلینا چاہئے کیونکہ زندگی اور طاقت کا کوئی بھروسہ نہیں ۔
روزوں کی قضا کرنے میں اختیار ہے لگاتاررکھے یا ایک ایک دو دو کرکے رکھے۔
روزے کی قضاء میں دن تاریخ مقرر کرکے قضاء کی نیت کرنا فلاں دن تاریخ کے روزے رکھتاہوں یہ ضروری نہیں ہے بلکہ جتنے روزے قضاء ہوں اتنے ہی روزے رکھ لینا چاہئے البتہ اگر د ورمضان کے کچھ روزے قضاء ہوگئے اور دونوں سال کے روزوں کی قضاء کرنی ہے تو سال کا مقرر کرنا ضروری ہے یعنی اس طرح سے نیت کرے کہ فلاں سال کے روزوں کی قضاء رکھتاہوں ۔
ابھی گذشتہ رمضان کے قضاء روزے نہیں رکھے گئے تھے کہ دوسرا رمضان آگیا تو اب اس رمضان کے ادا روزے رکھے، عید کے بعدقضاء رکھے لیکن اتنی دیر کرنا بری بات ہے۔
قضاء روزوں میں نیت صبح صادق سے پہلے کرے اگر اس کے بعد کیا تو یہ نفلی روزہ شمار ہوگا۔ قضاء روزہ پھر رکھنا ہوگا۔
اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد اور مریض تندرست ہونے کے بعد وقت نہ پائے کہ جس میں قضاشدہ روزے رکھ سکتا تو اس کے ذمہ ان روزوں کی قضا لازم نہیں اور نہ ہی ان کی فدیہ کی وصیت لازم ہے ۔
نابالغ بچہ اگر روزہ توڑدے تو اس کے ذمہ اس کی قضاء نہیں
جس کے ذمہ قضاء روزے باقی ہوں تو پہلے قضاء روزے رکھے پھر نفل روزے رکھے ۔ اگر نفل روزے پہلے رکھتا ہے اور پھر قضاء رکھتاہے تو بھی جائز ہے لیکن بہتر اوّل ہے ۔
مسنون اور مستحب ایّام میں قضاء روزے رکھے تو وہ قضاء کے روزے شمار ہوں گے ۔
رمضان کے قضاء روزوں کو اگلے رمضان سے قبل رکھ لینا چاہئے ۔
مریض کے احکام: 
مریض نے روزہ رکھ کر توڑ دیا تو صرف قضاء ہے ۔
خوف شدت مرض ہو تو روزہ توڑ سکتاہے صرف قضاء ہے ۔
مریض اگر صحت یاب نہ ہواتوا س کا فدیہ واجب نہیں ہے ورثاء دیدیں تو بہتر ہے ۔
شیخ فانی رمضان کے ہر روزے کے بدلے میں ایک فدیہ دے گا۔ فدیہ رمضان سے قبل نہیں دے سکتا رمضان شروع ہوجائے تو دے سکتاہے ۔
ایک فدیہ کی مقدار ایک صدقہ فطرے کے برابر ہے ۔ چاہے غلہ دے دے یا اس کی قیمت دے دے ۔
سفر کے احکام:
دن میں سفر کا ارادہ ہے تو صبح صادق کو نیت روزہ کرے بعد میں سفر شروع ہوجائے تو پورا کرنا لازم ہے لیکن اگر توڑ دیا تو صرف قضاء لازم ہے ۔
روزے کا فدیہ:
اگر کوئی ایسا بوڑھا ہوگیا کہ سردی، گرمی کسی موسم میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہے یاکوئی ایسی مہلک بیماری میں مبتلاہو کہ اب نہ تندرست ہونے کی امید ہے اور نہ ہی روزہ کی طاقت تو ان کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس کے بدلے میں فدیہ دینا واجب ہے ۔
فدیہ دینے کے بعد اگر طاقت آگئی یا تندرست ہوگیا تو روزے کی قضاء واجب ہے اور جو فدیہ دیا اس کا ثواب الگ سے ملے گا۔
ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو صبح وشام پیٹ بھر کے کھانا کھلانے یا صدقہ فطر کی مقدار ایک کلو662گرام (پونے دو کلوتقریباً یااحتیاط پورے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ) دینے کو فدیہ کہتے ہیں ۔اگر کوئی اتنا غریب ہے کہ فدیہ بھی نہیں دے سکتا تو وہ استغفار کرتارہے اور دل میں نیت رکھے کہ جب بھی وسعت ہوگی فدیہ ادا کروں گا۔ 
فدیہ کے مصارف زکوٰۃ والے ہیں 
فدیہ کی رقم متعدد مساکین کو بھی دے سکتے ہیں اور ایک کو بھی دے سکتے ہیں ۔
گزشتہ سالوں کا فدیہ موجودہ وقت کی قیمت کے مطابق ادا کیاجائے۔
شش عید کے روزے :
متفرق رکھنا بہتر ہے مسلسل رکھنا مکروہ نہیں ۔
افطار کی دعا:
افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : 
الّٰھُمَّ لَکَ صُمتُ وعلیٰ رِزقکَ اَفطَرتُ!
(اے اﷲ ! میں نے آپ ہی کے لئے روزہ رکھا اور آپ ہی کے دیئے ہوئے رزق سے افطار کیا)

مراجع :

(١) قرآن
(٢) حدیث
(٣) مظاہرحق
(٤) مسائل روزہ
(٥) نورالایضاح
(٦) تعلیم الاسلام

طالب دعا...........امتیاز ندوی