زکوٰۃ کےاحکام ومسائل
ﷲ رب العزت نے قرآنِ مجیدمیں 82مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جس سے بدیہی طور پر یہ عیاں ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں کے درمیان انتہائی اتصال وارتباط ہے۔
تمام علمائے اسلام کا اجماع واتفاق ہے کہ زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین رکن ہے۔ جس نے اس کی فرضیت کا انکار کیا، وہ کافراور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور جس نےاسےادانہ کیا، وہ فاسق ٹھہرا اور اس سے جنگ کرنا حاکم وقت پر واجب ہے۔(فتاوی ھندیہ)
زکوٰۃ کب فرض ہوئی
ایک قول کے مطابق زکوۃ کی فرضیت مکّے میں ہوچکی تھی، چناں چہ سورۂ مزمل کی آخری آیت میں وآتوا الزکوۃ کا حکم بھی موجود ہے، مشہور اور راجح قول یہ ہے کہ زکوۃ ۲ھ میں فرض ہوئی، اسی لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر چہ سورۂ مزمل مکی ہے مگر یہ آخری آیت مدنی ہے، لیکن سورۂ مومنون ، نمل اور لقمان کی ابتدائی آیتوں میں بھی زکوۃ کا حکم موجود ہے جب کہ یہ تینوں صورتیں بھی مکی ہیں، ان آیتوں کے متعلق بھی یہی کہنا پڑے گا کہ یہ مدنی ہیں، باقی آیات مکّے میں نازل ہوئیں، اس سلسلے میں مشہور مفسر حافظ ابن کثیرؒ کی رائے قرین عقل ہے کہ شاید زکوۃ تو مکہ مکرمہ میں اوائل اسلام میں ہی فرض ہوگئی ہو مگر اس کے نصاب اور مقدار واجب کی تفصیلات مدینہ طیبہ میں ہجرت کے دوسرے سال میں بیان کی گئیں ہوں، تفسیر روح المعانی میں بھی یہی قول اختیار کیا گیا ہے، ابتدائے اسلام میں لوگ اپنے مال کی زکوۃ لا کر سرکارد ۲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک سے بے ساختہ طور پر ان کے لیے دعائیں نکلتی تھیں، چناں چہ صحابۂ کرام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں حاصل کرنے کے لیے زکوۃ پیش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، ایسے ہی حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : { وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰۃٍ الرَّسُوْلِ} (التوبۃ:۹۹) ’’اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعا لینے کا ذریعہ بنا تے ہیں‘‘ اس طرح یہ زکوۃ نادار مہاجرین صحابہ کی ضروریات زندگی کے لیے اہمیت اختیار کر گئی تھی ،مال دار صحابہؓ صدقہ وزکوۃ سے خود بھی غریب صحابہؓ کی مدد کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی پیش کردیا کرتے تھے، اس وقت تک زکوۃ کی وصولی کا کوئی باضابطہ نظام نہیں تھا یہاں تک کہ ۹ھ میں یہ آیت نازل ہوئی :خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا (التوبۃ: ۱۰۳) ’’آپ ان کے مالوں میں صدقہ لے لیجئے جس کے ذریعے سے آپ ان کو پاک وصاف کردیں گے
زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہے، جس میں درجِ ذیل پانچ شروط ہوں:
1۔مسلمان ہو کیونکہ کافر احکام اسلام کا مکلف نہیں۔ (صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ ومصنف ابن ابی شیبہ)
2۔آزاد ہو کیونکہ غلام خود کسی دوسرے کی ملکیت ہوتا ہے۔(بدایۃ المجتھد والمحلی لابن حزم)
3۔ مال مقررہ نصاب کے مطابق ہو(صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ) جس کی تفصیل آئندہ سطور میں بیان ہوگی۔
4۔ صاحبِ ملکیت تام ہو۔ (سورہ التوبہ: 103) کیونکہ بعض اوقات آدمی مالک تو ہوتا ہے مگر یہ اس کی ملکیت تام نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے۔ جیسے کسی کو قرضہ دیا ہو تو درحقیت مالک تو یہی ہے مگر رقم اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔ تو ایسی صورت میں زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔ الاکہ واپس اس کے ہاتھ میں آجائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر مقروض نے ادا نہ کی تھی۔
5۔جب کہ مال پر مکمل ایک سال گزر چکا ہو۔ (سنن ابی داؤد/کتاب الزکاۃ)
زکوٰۃ جن چیزوں پر واجب ہے
پانچ عدد اونٹ ہوں، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ 5اونٹوں سے لے کر 42اونٹوں تک ہر پانچ پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 25سے لے کر 35اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی بطور، زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 36سے لے کر 45 اونٹوں تک دوبرس کی اونٹنی زکوٰۃ کے طور پر دینی چاہیے۔ 46سے لے کر 60اونٹ تک تین برس کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 61سے لے کر 75اونٹوں تک زکوٰۃ میں چار سال کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 76سے لے کر 90اونٹوں پر 2برس کی ایک اونٹنی کے حساب سے یا ہر 50اونٹوں پر 3سال کی ایک اونٹنی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔(صحیح البخاری /کتاب الزکاۃ)
گایوں ، بھینسوں کی تعداد جب 30ہو، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 30عدد گایوں یا بھینسوں پر ایک سال کا بچہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔ 40کی تعداد میں 2بچے، جن کی عمر 2 سال ہو، بطور زکوٰۃ دیئے جائیں گے۔ 60سے زائد کی صورت میں ہر 30پر ایک سال کے بچے کے حساب سے یا ہر 40کے اعتبار سے 2سال کا ایک بچہ ادا کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد/کتاب الزکاۃ)
جب بکریوں، بھیڑوں یا دنبوں کی تعداد 40 ہو جائے، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 40سے لے کر 120بکریوں تک ایک بکری بطورِ زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ 121سے لے کر 200تک دو بکریاں زکوٰۃ میں دی جائیں گی۔201سے لے کر 300تک تین بکریاں دی جائیں گی۔ 300 سے زائد کی صورت میں ہر 100پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ (صحیح البخاری)
نوٹ: زکوٰۃ ان مویشیوں پر واجب ہوتی ہے، جو(سال بھر میں) نصف سے زائد عرصہ قدرتی وسائل پر گزارہ کرتے ہوں، نیز وہ ایسے جانور ہوں جو کام کاج کے لئے مستعمل نہ ہوں۔
گندم، چاول، مکئی، باجرا، فروٹ اور خشک میوہ جات جب 5وسق، یعنی 20من ہوں، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، جسے شرعی اصطلاح میں عشر کہا جاتا ہے۔
عند الاحناف بلاقید ہر پیداوار پر عشر واجب ہے
بارش سے سیراب ہونے والی زمیں سے جیسے بارانی زمینیں، یا قدرتی چشموں سے جیسے پہاڑی علاقہ جات یا خودبخود نمی سے سیراب ہونے والی زمینیں تو اس میں سے پورا عشر یعنی 1/10حصہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا اور اگر یہ اجناس ذاتی اخراجات مثلاً ٹیوب ویل، نہریوں، جھلاروں کے پانی اور دیگر کھادوادویات سے کاشت کی گئی ہوں، تو اس میں سے نصف عشر، یعنی 1/20حصہ زکوٰۃ میں دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
نوٹ: اجناس میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب یہ برداشت(حاصل) کی جاتی ہیں لہٰذا اگر کوئی فصل سال میں دومرتبہ برداشت کی جاتی ہو تو اس میں زکوٰۃ یعنی عشر بھی دومرتبہ ادا کیا جائے گا۔ (سورۃ الانعام:141)
وہ شہد، جو قدرتی وسائل سے حاصل ہوا ہو اس کا نصاب 75کلو گرام ہے۔ اس میں سے بطور زکوٰۃ عشر، یعنی 1/10حصہ ہی ادا کیا جائے گا۔ (سنن الترمذی)
معدنیات کے نصاب اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت میں شدید فقہی اختلاف پایا جاتا ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ ان کو عروضِ تجاریہ ( تجارتی سامان) میں شامل کرتے ہوئے اس کی آمدنی پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزرجائے ۔ (سنن ابی داؤد)
دفینہ جات میں راجح بات یہ ہے کہ یہ جتنے بھی اور جب بھی حاصل ہوں، ان کا پانچواں حصہ 1/5 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری )
سونا جب 20دینار ہو جو کہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے سات تولے یعنی 87گرام بنتا ہے۔ تو اس کا نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ پس اس کا چالیسواں حصہ 1/40بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(سنن أبی داؤد)
چاندی جب 200درہم ہو جوکہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے باون تولے ، یعنی 612 گرام بنتی ہے، تو اس کا نصاب مکمل ہوگا اور اس میں سے چالیسواں حصہ 1/40 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری)
نوٹ: اس میں وہ سونا اور چاندی بھی شامل ہے جو خواتین بطور زیورات استعمال کرتی ہیں بشرطیکہ وہ نصابِ زکوٰۃ کے مطابق ہو جیسا کہ یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور سلف صالحین کا بھی یہی موقف ہے۔
ہرقسم کی کرنسی(ڈالر، پاؤنڈ، یور، دینار، ریال) کیونکہ یہ کرنسی دراصل سونے چاندی کا ہی بدل ہوتی ہے۔ لہٰذا نصاب پورا ہونے کی صورت میں اور سال گزرنے پر اس میں سے اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے۔
عروضِ تجاریہ(تجارتی سامان وغیرہ)
عروضِ تجاریہ سے مراد وہ کاروباری سامان ہے، جو خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو۔ مثلاً ہر قسم کے کپڑے، جوتے، برتن، ادویات، معدنیات، سونا، چاندی، آلات، مشینری، سامان لکڑی، گاڑیاں، پلاٹ، دوکانیں، مکانات الغرض جو بھی سامان خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو وہ عروضِ تجاریہ ہی کہلاتا ہے۔ حتیٰ کہ کمپنی حصص (شیئر) بھی اگر تجارتی مقصد کے لئے خریدے گئے ہوں تو اسے بھی تجارتی سامان ہی تصور کیا جائے گا۔ (الواعدالنورانیۃ الفقھیۃ لابن تیمیۃ) اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہو، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔(سنن ابی داؤد) چنانچہ اس میں سے بھی زکوٰۃ کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔
ترجمہ: ’’پس رسول اللہ کریمؐ ہمیں اس مال سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے جسے ہم خرید و فروخت (تجارت ) کے لئے رکھا کرتے تھے۔ (سنن أبی داؤد)
ہر سال جتنا تجارتی مال دکان یا مکان یا گودام وغیرہ میں ہو، اس کی قیمت کا اندازہ لگا لیا جائے۔ علاوہ ازیں جتنی رقم گردش میں ہو اورجو رقم موجود ہو، اسے بھی اس میں شامل کر لیا جائے۔
(الف) نقدرقم،(ب) کاروبار میں لگا ہوا سرمایہ ، یعنی زیرِ گردش رقم، (ج) سامانِ تجارت کی تخمیناً قیمت سب کو ملا کر ٹوٹل جتنی رقم بنے ، اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔
ناقابلِ زکاة اثاثے:
(۱) رہائشی مکان، ایک ہو یا زیادہ۔
(۲) دوکان ؛ البتہ دوکان کا مال مالِ زکاة ہوتا ہے۔ (۳) فیکٹری کی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت سے نہ لی گئی ہو۔
(۴)دوکان، گھر، فیکٹری کا فرنیچر۔
(۵) زرعی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت نہ ہو۔(۶) کرایہ پر دیا ہوا مکان ، دوکان یا فلیٹ۔
(۷) مکان ، دوکان، اسکول یا فیکٹری بنانے کے لیے خریدا ہوا پلاٹ۔
(۸) کرایہ پر چلانے کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑی، مثلاً: ٹیکسی ، رکشہ یا بس وغیرہ۔
ہاں ان کی آمدنی پر زکوٰۃ ضرور ادا کی جائے گی، اگر سال گزر جائے اور نصاب بھی مکمل ہو جائے۔
زکوٰۃکے مستحقین
1۔فقراء، جن کے پاس گزراوقات کے لئے کچھ نہ ہو ۔
2۔ مساکین(وہ لوگ، جن کی حالت فقرا سے قدرے بہتر ہوتی ہے، لیکن پھر بھی تنگ دست ہوتے ہیں اور زندگی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری نہیں کر سکتے)۔
3۔ عاملینِ زکوٰۃ (وہ لوگ، جن کے ذمے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم ہوتی ہے یا وہ زکوٰۃ کی حفاظت وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں)۔
4۔ تالیفِ قلب ( ان لوگوں کو زکوٰۃ دینا ، جو کافرہوں، اس امید پر کہ وہ مسلمان ہو جائین یا کسی نو مسلم کو دینا ، تاکہ وہ راسخ الایمان ہو جائے)۔
5۔غلاموں اور قیدیوں کی آزادی کے لئے۔
6۔ مقروض لوگو ں کے لئے تاکہ انہیں قرضے کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔
7۔ مجاہدین (جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلے ہوں۔ خواہ وہ مالدار ہوں)۔
8۔ مسافرین ، یعنی اسیے لوگ ، جو زادِراہ کے محتاج ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیتِ مبارکہ میں درج بلا تمام مستحقین کا تذکرہ فرمایا ہے:(انما الصدقات للفقراء والمساکین)،(سورۃ التوبہ مع التفسیر: 60)
جنہیں زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی
1۔ کافر و مرتد کو زکوٰۃ دینا حرام ہے(صحیح البخاری) مگر وہ کفار جنہیں تالیفِ قلب کے لئے زکوٰۃ دینی جائز ہے ، وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ (تفسیر سورۃ التوبہ: 60)
2۔ آل رسولؐ ( بنو ہاشم و بنومطلب)کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ ( صحیح مسلم)۔
3۔ والدین، اولاد اور بیوی کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ (القرآن الکریم وسنن ابن ماجہ)کیونکہ اولادکا مال درحقیقت والدین کا ہی مال ہے جبکہ بیوی کا نان و نفقہ خاوند پر اور اولاد کاباپ پر واجب ہے۔
4۔ جمہور علما کے نزدیک مسجد پر بھی زکوٰۃ استعمال نہیں کی جاسکتی ۔(مجموع الفتاوی/لابن باز 14/294)
علامہ یوسف القرضاوی کتاب ’’ فقہ الزکوٰۃ ‘‘ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: ’’ اگر کوئی شخص علم نافع کی طلب میں لگا ہوا ہے اور حصولِ علم کے ساتھ وہ کسبِ حلال نہ کر سکتا ہو، تو اسے بقدرِ ضرورت زکوٰۃ دی جا سکتی ہے اور اس کے فریضہ حصول علم کی تکمیل کے لئے اور کتابوں کے لئے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اس لئے کہ طلبِ علم دیں فرضِ کفایہ ہے اور اس کے علم کا فائدہ خود اس کی ذات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام امت کے لئے ہے اور یہ اس کا حق بنتا ہے کہ مالِ زکوٰۃ میں سے اس کی مدد کی جائے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف کے دو پہلو ہیں کہ یا تو مسلمانوں میں جو محتاج ہو، اسے دی جائے یا جس سے مسلمانوں کی ضرورت وابستہ ہو، اسے دی جائے اور یہاں (طالب علم میں) دونوں باتیں جمع ہیں‘‘۔(فقہ الزکاۃ: 2/560۔561)
صدقه کی اقسام اور اس کے مستحقین
صدقہ کی تعریف اور اقسام:
جو مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو دیا جاتا ہے یا خیر کے کسی کام میں خرچ کیا جاتا ہے، اسے “صدقہ” کہتے ہیں، صدقہ کی تین قسمیں ہیں: 1:فرض، جیسے زکوٰة۔
2:واجب، جیسے نذر، صدقہٴ فطر اور قربانی وغیرہ۔
3:نفلی صدقات، جیسے عام خیر خیرات۔
زکوٰة، عشر، صدقہٴ فطر، قربانی، نذر، کفارہ یہ تو فرض یا واجب ہیں، ان کے علاوہ کوئی صدقہ لازم نہیں۔
ہاں! کوئی شخص بہت ہی ضرورت مند ہو اور آپ کے پاس گنجائش ہو تو اس کی اعانت لازم ہے، عام طور سے نفلی صدقہ مصائب اور مشکلات کے رفع کرنے کے لئے دیا جاتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صدقہ مصیبت کو ٹالتا ہے۔
صدقہ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے خیر کے کاموں میں مال خرچ کرنا، صدقہ کی قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں بڑی فضیلت اور ترغیب آئی ہے، مصائب اور تکالیف کے رفع کرنے میں صدقہ بہت موٴثر چیز ہے۔
اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو مال بھی خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے، وہ کسی محتاج کو نقد روپیہ پیسے دے یا کھانا کھلادے یا کپڑے دے دے یا کوئی اور چیز دے دے۔
صدقہ کی ایک قسم صدقہٴ جاریہ ہے، جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، مثلاً کسی جگہ پانی کی قلت تھی، وہاں کنواں کھدوادیا، مسافروں کے لئے مسافرخانہ بنوادیا، کوئی مسجد بنوادی یا مسجد میں حصہ ڈال دیا، یا کوئی دینی مدرسہ بنادیا یا کسی دینی مدرسہ میں پڑھنے والوں کی خوراک پوشاک اور کتابوں وغیرہ کا انتظام کردیا، یا کسی مدرسہ کے بچوں کو قرآن مجید کے نسخے خرید کر دئیے یا اہلِ علم کو ان کی ضروریات کی دینی کتابیں لے کر دے دیں، وغیرہ۔ جب تک ان چیزوں کا فیض جاری رہے گا، اس شخص کو مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔
2: خیرات، صدقہ اور نذر میں فرق
صدقہ و خیرات تو ایک ہی چیز ہے، یعنی جو مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کسی خیر کے کام میں خرچ کیا جائے وہ صدقہ و خیرات کہلاتا ہے، اور کسی کام کے ہونے پر کچھ صدقہ کرنے کی یا کسی عبادت کے بجا لانے کی منّت مانی جائے تو اس کو “نذر” کہتے ہیں۔ نذر کا حکم زکوٰة کا حکم ہے، اس کو صرف غریب غرباء کھاسکتے ہیں، غنی نہیں کھاسکتے، نیاز کے معنی بھی نذر ہی کے ہیں۔
نذر اور منّت اپنے ذمہ کسی چیز کے لازم کرنے کا نام ہے، مثلاً: کوئی شخص منّت مان لے کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں اتنا صدقہ کروں گا، کام ہونے پر منّت مانی ہوئی چیز واجب ہوجاتی ہے۔ اور کوئی آدمی بغیر لازم کئے اللہ کے راستے میں خیر خیرات کرے تو اس کو صدقہ کہتے ہیں، گویا منّت بھی صدقہ ہی ہے، مگر وہ صدقہٴ واجبہ ہے، جبکہ عام صدقات واجب نہیں ہوتے۔
نذر کے معنی ہیں کسی شرط پر کوئی عبادت اپنے ذمہ لے لینا، مثلاً: اگر فلاں کام ہوجائے تو میں اتنے نفل پڑھوں گا، اتنے روزے رکھوں گا، بیت اللہ کا حج کروں گا، یا اتنی رقم فقراء کو دوں گا وغیرہ، اسی کو منّت بھی کہا جاتا ہے۔
منّت اور نذر کا گوشت نہ خود استعمال کرسکتا ہے، نہ کسی غنی کو دے سکتا ہے، بلکہ اس کا گوشت فقراء پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔
صدقہ غریبوں، محتاجوں کو دیا جاتا ہے، سیّد کو صدقہ نہیں دینا چاہئے، بلکہ ہدیہ اور تحفہ کی نیت سے ان کی مدد کرنی چاہئے، تاہم ان کو نفلی صدقہ دینا جائز ہے، زکوٰة اور صدقہٴ فطر نہیں دے سکتے، اسی طرح علماء و صلحاء کو بھی صدقہ کی نیت سے نہیں بلکہ ہدیہ کی نیت سے دینا چاہئے۔
(آپ کے مسائل اور انکا حل)
زکاة ادا نہ کرنے کے نقصانات اور وعیدیں:
فریضہ زکاة کی ادائیگی پر جہاں من جانب اللہ انعامات و فوائد ہیں، وہاں اس فریضہ کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے کے لیے قرآن ِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ، اور دنیا و آخرت میں ایسے شخص کے اوپر آنے والے وبال کا ذکر بکثرت کیا گیا ہے، ذیل میں ان میں سے کچھ ذکر کیے جاتے ہیں:
(۱) جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔(سورة توبہ:۳۴،۳۵)
(۲) ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(سورة آل عمران:۱۸۰)
(۳) ایسا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ (سورة البقرة:۲۵۴)
(۴)زکاة کا ادا نہ کرنا جہنم والے اعمال کا ذریعہ بنتا ہے۔(سورة اللیل:۵ تا۱۱)
(۵)ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔(صحیح البخاري ، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة،رقم الحدیث:۱۴۰۳،۲/۱۱۰،دارطوق النجاة)
(۶) مرتے وقت ایسا شخص زکاة ادا کرنے کی تمنا کرے گا؛ لیکن اس کے لیے سوائے حسرت کے اور کچھ نہ ہو گا۔(سورة المنافقون:۱۰، صحیح البخاری، کتاب الزکاة، باب فضل صدقة الشحیح الصحیح، رقم الحدیث:۱۴۱۹،۲/۱۱۰، دارطوق النجاة)
(۷)ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة)
(۸) ایسے افرادکوجہنم میں ضریع، زقوم، گرم پتھر، اور کانٹے دار و بدبو دار درخت کھانے پڑیں گے۔(دلائل النبوة للبیہقي، باب الإسراء ،رقم الحدیث:۶۷۹)
(۹) ایسے افراد سے قیامت کے دن حساب کتاب لینے میں بہت زیادہ سختی کی جائے گی۔ (مجمع الزوائد، کتاب الزکاة، باب فرض الزکاة:۳/۶۲)
(۱۰) جب لوگ زکاة روک لیتے ہیں تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ان سے بارشیں روک لیتے ہیں۔ (المستدرک للحاکم، رقم الحدیث:۲۵۷۷)
(۱۱) جب کوئی قوم زکاة روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قحط سالی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ (المعجم الأوسط للطبراني، تحت من اسمہ عبدان، رقم الحدیث:۴۵۷۷)
ادائے زکوۃ کے فوائد
(١)حکم الہی کی تعمیل
(٢)اجرا عظیم کا حصول
(٣)مال کی پاکیزگی
(٤)آفات و بلیات سے بری
(٥)امراض قلبی وجسمانی سےحفاظت
(٦)عمر میں برکت
(٧)عوام الناس سے محبت
(٨)عنداللہ محبوب و مقبول
(٩)مال و دولت میں برکت
اللہم اعط منفقاخلفاواعط ممسکاتلفا
مراجع
(١) قرآن
(٢) احادیث
(٣) تفاسیر
(٤) فتاوی عالمگیری
(٥) آپ کےمسائل اوران کاحل
(٦) مظاہر حق
(٧) فقہ الزکوۃ
طالب دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔امتیاز ندوی











Masha Allah bahut khubsurat madarsa ham account number Le lie hain ham zarur iski madad karainge Aap mere lie dua kar dijiaga Allah hafiz
Masha Allah bahut khubsurat madarsa ham account number Le lie hain ham zarur iski madad karainge Aap mere lie dua kar dijiaga Allah hafiz