اتوار، 17 مارچ، 2019

نماز کے فرائض واجبات

0 تبصرے
نماز کب فرض ہوئی

واقعہ معراج سے قبل صرف دو نمازیں تھیں، ایک سورج نکلنے سے پہلے یعنی فجر اور دوسری سورج غروب ہونے سے پہلے یعنی عصر، جبکہ معراج کے موقع پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں،اور معراج کے سلسلے میں اتنی بات پر اتفاق ہے کہ نبوت ملنے کے بعد اور ہجرت سے ایک سال پہلے ہوئی ہے، لیکن مہینے اور دن کی تعیین میں علمائے سیرت کی تحقیق مختلف ہے، معتمد قول یہ ہے کہ رجب کے مہینے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور دن کے متعلق مشہور ہے کہ 27 تاریخ کو رونما ہوا، لیکن محققین کے نزدیک 27 تاریخ کی تعیین درست نہیں ہے، خلاصہ یہ ہوا کہ راجح قول کے مطابق پانچ نمازوں کی فرضیت رجب 12 نبوی کو ہوئی۔ واللہ اعلم

کون سی نماز سب سے پہلے کس نبی نے پڑھی اور کیوں پڑھی

نماز فجر
فجر کی نماز سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے ادا کی ۔ جس وقت انہیں دنیا میں اتارا گیا اس وقت دنیا پر رات چھائی ہوئی تھی ۔ حضرت آدم علیہ السلام جنت کی روشنی سے نکل کر دنیا کے اس تاریک اور اندھیرے ماحول میں تشریف لائے تو بہت پریشان ہوگئے کہ اتنی تاریکی میں جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا زندگی کیسے گزرے گی ۔ نہ کوئی چیزنظر آتی ہے نہ کوئی جگہ سمجھ آتی ہے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے چنانچہ وہ خوفزدہ ہوگئے۔
اس کے بعد آہستہ آہستہ روشنی پھیلنے لگی اور صبح صادق ہوئی تو حضرت آدم علیہ السلام نے سورج نکلنے سے پہلے دو رکعت نماز اپنے رب کے حضور شکرانہ کے طور پرپڑھی کہ اس نے تاریکی کو ختم کیا
اللہ تعالی کو یہ دو رکعتیں اتنی پسند آئیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض فرما دی
نماز ظہر
ظہر کی نماز سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ادا کی ۔ اور اس وقت ادا فرمائی جب وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے والے امتحان میں کامیاب ہوگئے
پہلی رکعت تو اس امتحان میں کامیابی پر ادا کی ۔ دوسری رکعت اس بات پر کہ اللہ نے قربانی کے لیے جنت سے مینڈھا اتارا ، تیسری رکعت اس بات پر کہ اللہ نے ان سے براہ راست خطاب کیا ؛ ترجمہ ۔ یعنی ہم نے آواز دی ۔ اے ابراہیم بلاشبہ تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں (سورہ صفت 105 )
اور چوتھی رکعت اس بات پر پڑھی کہ اللہ نے اتنا صابر بیٹا دیا جو اس سخت امتحان میں بھی ثابت قدم رہا
اللہ کو یہ چار رکعتیں اتنی پسند آئیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض فرما دی
نماز عصر
عصر کی نماز سب سے پہلے حضرت یونس علیہ السلام نے ادا فرمائی
جب اللہ تعالی نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکالا تو انہوں نے شکرانے کے طور پر چار رکعت نماز ادا کی اور چار رکعت اس لیے کہ اللہ نے انہیں چار اندھیروں سے نجات دی تھی ۔ ایک مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ، دوسرا پانی کا اندھیرا ، تیسرا ، بادل کا اندھیرا ، چوتھا رات کی کا اندھیرا
اللہ کو یہ چار رکعتیں اتنی پسند آئیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض فرما دی
نماز مغرب
مغرب کی تین رکعتیں سب سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام نے ادا فرمائی ۔ اگرچہ انبیاء علیہ السلام سے گناہ سرزد نہیں ہوتے وہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان سے کوئی نامناسب یا خلاف ادب کام ہو جاتا ہے جس پر انہیں اللہ کی طرف سے تنبیہ کی جاتی ہے اور انکی اصلاح کی جاتی ہے ۔ اس طرح جب حضرت داؤد علیہ السلام کی کسی ایسی لغزش کے بعد جب اللہ تعالی نے انکی بخشش کا اعلان کیا تو حضرت داؤد علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر چار رکعت نماز کی نیت باندھ لی لیکن تیسری رکعت میں ہی اپنی لغزش کے احساس کا ایسا غلبہ ہوا کہ ان پر بے ساختہ گریہ طاری ہو گیا اور وہ اسکی شدت کی وجہ سے چوتھی رکعت نہ پڑھ سکے چنانچہ انہوں نے تین رکعت پر ہی اکتفا فرمایا
اللہ کو یہ تین رکعتیں اتنی پسند آئیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض فرما دی
نماز عشاء
عشاء کی نماز سب سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام نے ادا کی، جس وقت آپ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس دس سال قیام کے بعد واپس مصر تشریف لا رہے تھے تو آپ پر چار فکر طاری تھے ۔ گھر میں ولادت کا وقت تھا اس کا فکر ، اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کا فکر ، اپنے دشمن فرعون کا خوف ، اور اپنی ہونے والی اولاد کا فکر
رات بہت ٹھنڈی تھی انہوں نے کوہ طور پر آگ جلتی دیکھی تو آگ لینے کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے لیکن وہاں انکو اللہ نے نبوت عطا فرمائی تو آپ نے ان چار فکروں سے نجات اور نبوت ملنے کے شکرانے کے طور پر چار رکعتیں پڑھی
اللہ کو یہ چار رکعتیں اتنی پسند آئیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض فرما دی

اور ایک دوسری جگہ نمازوں کے مطالق دوسری روایت موجود ہے.

امام حلبی، امام رافعی کی شرح مسند شافعی کے حوالے سے لکھتے ہیں حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے صبح کی نماز پڑھی، حضرت داؤد علیہ السلام نے ظہر کی نماز پڑھی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی، حضرت یعقوب علیہ السلام نے مغرب کی نماز پڑھی اور حضرت یونس علیہ السلام نے عشاء کی نماز پڑھی۔

حوالہ:
(طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الصلاة، باب الصلاة الوسطی اي الصلوات، 1 : 226، رقم : 1014)

نماز کے  فرائض ،واجبات،  سنن ومستحبات  اور  مکروہات

ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ سات ﺷﺮﻃﯿﮟ ﮨﯿﮟ (باہر کی)

(۱) ﻃﮩﺎﺭﺕ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯﯼ کے ﺑﺪﻥ کا پاک ہونا
(٢) ﮐﭙﮍﮮ کا ﭘﺎﮎ ﮨﻮنا۔
(٣) ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ کا ﭘﺎﮎ ﮨﻮنا۔
(٤) ﺳﺘﺮِ ﻋﻮﺭﺕ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺪﻥ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺣﺼﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﭼﮭﭙﺎﻧﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﻭﮦ
ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ۔ ﻣﺮﺩﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺘﺮ ﻧﺎﻑ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﭩﻨﮯ ﺗﮏ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ، ﭘﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﺪﻥ
ﺳﺘﺮ ﮨﮯ۔
(٥) ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝِ ﻗﺒﻠﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮧ ﻗﺒﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻮ۔
(٦) ﻭﻗﺖ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(٧) ﻧﯿﺖ ﮐﺮﻧﺎ . ﺩﻝ ﮐﮯ ﭘﮑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ
ﮐﮩﻨﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﺷﺮﻃﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻭﺭﻧﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ .

ﻓﺮﺍﺋﺾِ ﻧﻤﺎﺯ
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮨﯿﮟ (اندر کے) :
(۱) ﺗﮑﺒﯿﺮِ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﺍَﷲُ ﺍَﮐْﺒَﺮُ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۲) ﻗﯿﺎﻡ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔ﻓﺮﺽ، ﻭﺗﺮ، ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻭﺭ
ﺳﻨﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ، ﺑﻼﻋﺬﺭِ ﺻﺤﯿﺢ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺑﯿﭩﮫ
ﮐﺮ ﭘﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ . ﻧﻔﻞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﻓﺮﺽ
ﻧﮩﯿﮟ۔
(۳) ﻗﺮﺁﺕ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻄﻠﻘﺎًﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔ ﻓﺮﺽ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺖ ﻭﺗﺮ ﻭ ﻧﻮﺍﻓﻞ ﮐﯽ ﮨﺮﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ
ﻣﻘﺘﺪﯼ ﮐﺴﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔
(۴) ﺭﮐﻮﻉ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۵) ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۶) ﻗﻌﺪﺋﮧ ﺍﺧﯿﺮﮦ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﺧﺮﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ۔
(۷) ﺧﺮﻭﺝ ﺑﺼﻨﻌِﮧِ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮﻧﺎ۔
ﺍِﻥ ﻓﺮﺿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺳﺠﺪﺋﮧ ﺳﮩﻮ بھی ﮐرلیا ﺟﺎﺋﮯ۔

ﻭﺍﺟﺒﺎﺕِ ﻧﻤﺎﺯ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﭼﻮﺩﮦ ﺍﻣﻮﺭ ﻭﺍﺟﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ :
(۱) ﻓﺮﺽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁ ﺕ ﮐﺮﻧﺎ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻨﮩﺎ
ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﺎ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍِﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ‏) .
(۲) ﻓﺮﺽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ
ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۳) ﻓﺮﺽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺟﺐ، ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ
ﻧﻔﻞ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ
ﺳﻮﺭﺕ ﯾﺎ ﺑﮍﯼ ﺁﯾﺖ ﯾﺎ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۴) ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۵) ﻗﺮﺁ ﺕ، ﺭﮐﻮﻉ، ﺳﺠﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۶) ﻗﻮﻣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﮐﻮﻉ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﻧﺎ۔
(۷) ﺟﻠﺴﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﻧﺎ۔
(۸) ﺗﻌﺪﯾﻞِ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﮐﻮﻉ، ﺳﺠﺪﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﻮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ
ﻃﺮﺡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۹) قعدہ ﺍُﻭﻟﻲٰ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﯿﻦ، ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺸﮩﺪ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ۔
(۱۰) ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻗﻌﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﮩﺪ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۱) ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎ ﻧﻤﺎﺯِ ﻓﺠﺮ، ﻣﻐﺮﺏ، ﻋﺸﺎﺀ، ﻋﯿﺪﯾﻦ، ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﺍﻭﺭ ﺭﻣﻀﺎﻥ
ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﻭﺗﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﻗﺮﺁ ﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻇﮩﺮ ﻭ
ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۲) ﺍَﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﮑُﻢْ ﻭَﺭَﺣْﻤَۃُ ﺍﷲِ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۱۳) ﻧﻤﺎﺯِ ﻭﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﻨﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﮯ ﻗﻨﻮﺕ
ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۴) ﻋﯿﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﻨﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻭﺍﺟﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺟﺐ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ
ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺠﺪﺋﮧ ﺳﮩﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ .
ﺳﺠﺪﺋﮧ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺼﺪﺍً ﺗﺮ ﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ
ﻟﻮﭨﺎﻧﺎ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ۔

ﺳﻨﻦِ ﻧﻤﺎﺯ
ﺟﻮ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ
ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﻓﺮﺽ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ
ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﻦ ﮐﮩﻼﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﺳﻨﻦ ﮨﯿﮟ :
(۱) ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ۔
(۲) ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ
ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۳) ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﺮ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﮑﺎﻧﺎ۔
(۴) ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﮐﻦ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﮐﻦ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۵) ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﻧﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ۔
(۶) ﺛﻨﺎﺀ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۷) ﺗﻌﻮﺫ ﯾﻌﻨﯽ ﺍَﻋُﻮْﺫُ ﺑِﺎﷲِ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥِ ﺍﻟﺮَّﺟِﻴْﻢِ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۸) ﺗﺴﻤﯿﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﺑِﺴْﻢِ ﺍﷲِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴْﻢِ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۹) ﻓﺮﺽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺳﻮﺭﮦ
ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۰) ﺁﻣﯿﻦ ﮐﮩﻨﺎ
(۱۱) ﺛﻨﺎ، ﺗﻌﻮﺫ، ﺗﺴﻤﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﻣﯿﻦ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۲) ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺁﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﻗﺮﺁﻥِ
ﻣﺠﯿﺪ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۳) ﺭﮐﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۴) ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﻠﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﻨﺎ۔
(۱۵) ﻗﻮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎ ﺗﺴﻤﯿﻊ ﯾﻌﻨﯽ ﺳَﻤِﻊَ ﺍﷲُ ﻟِﻤَﻦْ ﺣَﻤِﺪَﮦُ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﺪﯼ
ﮐﺎ ﺗﺤﻤﯿﺪ ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻟَﮏَ ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﮐﺎ ﺗﺴﻤﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻤﯿﺪ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۱۶) ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮔﮭﭩﻨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ،
ﭘﮭﺮ ﻧﺎﮎ، ﭘﮭﺮ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ
ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ، ﭘﮭﺮ ﻧﺎﮎ، ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﮔﮭﭩﻨﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ۔
(۱۷) ﺟﻠﺴﮧ ﺍﻭﺭ ﻗﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﯾﺎﮞ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ
ﺳﯿﺪﮬﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ
ﺳﺮﮮ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐ

ﮭﻨﺎ۔
(۱۸) ﺗﺸﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍَﺷْﮭَﺪُ ﺍَﻥْ ﻟَّﺎ ﺍِﻟٰﮧَ ﭘﺮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮦ
ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﷲُ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﻨﺎ۔
(۱۹) ﻗﻌﺪۂ ﺍﺧﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﮩﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺭﻭﺩِ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻤﯽ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۰) ﺩﺭﻭﺩ ﺍِﺑﺮﺍﮨﯿﻤﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۱) ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮﻧﺎ۔
ﺍﻥ ﺳﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﺖ ﺳﮩﻮﺍً ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﻗﺼﺪﺍً
ﺗﺮﮎ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﺠﺪۂ ﺳﮩﻮ
ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺼﺪﺍً ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﺴﺘﺤﺒﺎﺕِ ﻧﻤﺎﺯ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﺍُﻣﻮﺭﺑﺠﺎ ﻻﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ :
(۱) ﻗﯿﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۲) ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۳) ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮎ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۴) ﻗﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۵) ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ
ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۶) ﺟﻤﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ، ﻧﮧ ﺭﮐﮯ ﺗﻮ ﺣﺎﻟﺖِ ﻗﯿﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ
ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﮈﮬﺎﻧﮏ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ
ﭘﯿﭩﮫ ﺳﮯ۔
(۷) ﻣﺮﺩ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔
(۸) ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۹) ﺣَﻲَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻔَﻠَﺎﺡِ ﭘﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﻭ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﮐﺎ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﺎ۔
(۱۰) ﺣﺎﻟﺖِ ﻗﯿﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ
ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﻮ۔

ﻣﻔﺴﺪﺍﺕِ ﻧﻤﺎﺯ
ﺑﻌﺾ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎﻧﺎ
ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻔﺴﺪﺍﺕِ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ
ﻓﺎﺳﺪ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
(۱) ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۲) ﺳﻼﻡ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۳) ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ۔
(۴) ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﮦ ﻭ ﺑﮑﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﺎ ﺍُﻑ ﮐﮩﻨﺎ ‏( ﻟﯿﮑﻦ
ﺟﻨﺖ ﻭ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺎﺳﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ‏) .
(۵) ﭼﮭﯿﻨﮏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﺍَﻟْﺤَﻤْﺪُِﷲِ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۶) ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﮭﯿﻨﮏ ﭘﺮ ﻳَﺮْﺣَﻤُﮏَ ﺍﷲُ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﻳَﮭْﺪِﻳْﮑُﻢُ ﺍﷲُ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۷) ﺑﺮﯼ ﺧﺒﺮ ﭘﺮ ﺍِﻧَّﺎِﷲِ ﻭَﺍِﻧَّﺎ ﺍِﻟَﻴْﮧِ ﺭَﺍﺟِﻌُﻮْﻥَ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۸) ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺒﺮ ﭘﺮ ﺍَﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﮧِ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۹) ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۰) ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ۔
(۱۱) ﻋﻤﻞِ ﮐﺜﯿﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﯾﮧ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﺮﮮ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
(۱۲) ﻧﻤﺎﺯﯼ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﻟﻘﻤﮧ ﺩﯾﻨﺎ۔
(۱۳) ﻗﮩﻘﮩﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻨﺴﻨﺎ۔

ﻣﮑﺮﻭﮨﺎﺕِ ﻧﻤﺎﺯ
ﺑﻌﺾ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﺎﻗﺺ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯﯼ
ﺍَﺻﻞ ﺍَﺟﺮ ﻭ ﺛﻮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﮑﺮﻭﮨﺎﺕ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍِﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻣﻮﺭ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
(۱) ﮨﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﷲ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭩﺎ ﺩﮮ
ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
(۲) ﺩﺍﮌﮬﯽ، ﺑﺪﻥ ﯾﺎ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ۔
(۳) ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ۔
(۴) ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ۔
(۵) ﮐﻤﺮ ﯾﺎ ﮐﻮﻟﮩﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۶) ﮐﭙﮍﺍ ﺳﻤﯿﭩﻨﺎ۔
(۷) ﺳَﺪْﻝِ ﺛﻮﺏ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﭙﮍﺍ ﻟﭩﮑﺎﻧﺎ ﻣﺜﻼً ﺳﺮ ﯾﺎ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻟﭩﮑﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔
(۸) ﺁﺳﺘﯿﻦ ﺁﺩﮬﯽ ﮐﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
(۹) ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭼﭩﺨﺎﻧﺎ۔
(۱۰) ﺑﻮﻝ ﻭ ﺑﺮﺍﺯ ‏( ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ / ﭘﯿﺸﺎﺏ‏) ﯾﺎ ﮨَﻮﺍ (ریح) ﮐﮯ ﻏﻠﺒﮯ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ۔ اور ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺭﺍﻥِ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ۔
(۱۱) ﻗﻌﺪﮦ ﯾﺎ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻠﺴﮧ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻧﺎ۔
(۱۲) ﺑﻼﻭﺟﮧ کھنکھاﺭﻧﺎ۔
(۱۳) ﻧﺎﮎ ﻭ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﺎ۔
(۱۴) ﺟﺲ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۵) ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۶) ﭘﮕﮍﯼ ﯾﺎ ﻋﻤﺎﻣﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺮ ﻧﻨﮕﺎ ﮨﻮ۔
(۱۷) ﮐﺴﯽ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺜﻼً ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ،
ﻗﻮﻣﮧ ﯾﺎ ﺟﻠﺴﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﻮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔
(۱۸) ﻗﯿﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻗﺮﺁﻥِ ﺣﮑﯿﻢ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۱۹) ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁ ﺕ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۲۰) ﺻﺮﻑ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﯾﺎ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۱) ﺍﻣﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺭﮐﻮﻉ ﻭ ﺳﺠﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﺎ ﺍﭨﮭﻨﺎ۔
(۲۲) ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮩﻨﺎ۔
(۲۳) ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻭﺟﮧ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮﻧﺎ۔
(۲۴) ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۵) ﻏﺼﺐ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﻣﯿﻦ یا ﻣﮑﺎﻥ یا ﮐﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۶) ﺍﻟﭩﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻦ یا ﺍﻭﮌﮪ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ۔
(۲۷) ﺍﭼﮑﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﯿﭽﮯ ﻗﻤﯿﺺ ﻧﮧ ﮨﻮ۔

ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺬﺭ
ﺑﻼﻋﺬﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﭼﻨﺪ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﻣﺜﻼً ﻣﺎﻝ ﮐﮯ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﻣﺒﺎﺡ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ، ﺧﻮﺍﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﮨﻮ۔ 
فائدہ: ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔


مراجع و مأخذً: 
نور الايضاح
قدوري
هداية
فتاوي محمودیہ
فتاوي رشيديه
البحر
النحر
جصاص

طالب دعا۔۔۔۔۔امتیاز ندوی

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔