ہفتہ، 25 اپریل، 2020

جنت اور اس کی نعمتیں

0 تبصرے
جنت اور اس کی نعمتیں

جنت کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان کے اچھے اچھے اعمال کا اپنے فضل و کرم سے بدلہ اور انعام دینے کے لئے آخرت میں جو شاندار مقام تیار کررکھا ہے اُس کا نام جنت ہے اور اُسی کو بہشت بھی کہتے ہیں۔

جنت میں ہر قسم کی راحت و شادمانی و فرحت کا سامان موجو د ہے۔ 
سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے لمبے چوڑے اور اُونچے اُونچے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت و نفیس خیمے لگے ہوئے ہیں۔
ہر طرف طرح طرح کے لذیذ اور دل پسند میوؤں کے گھنے، شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔ اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شرابِ طہور کی نہریں جاری ہیں۔
قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل فروٹ صاف ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار رکھے ہیں ۔
اعلیٰ درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے زیورات ، اونچے اونچے جڑاؤ تخت ، اُن پر غالیچے اورچاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔
عیش ونشاط کے لئے دنیاکی عورتیں اورجنت کی حوریں ہیں جوبے انتہاحسین وخوبصورت ہیں۔ 
خدمت کے لئے خوبصورت لڑکے چاروں طر ف دست بستہ ہر وقت حاضر ہیں الغرض جنت میں ہر قسم کی بے شمار راحتیں اور نعمتیں تیار ہیں۔ 
اور جنت کی ہر نعمت اتنی بے نظیر اور اس قدر بے مثال ہے کہ نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ (الجنه مالا عين رأت ولا اذن سمعت ولاخطر على قلب بشر)
جنّتی لوگ بِلا روک ٹوک اُن تمام نعمتوں اور لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے 
اور
ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر جنت میں سب سے بڑی یہ نعمت ملے گی کہ جنت میں جنتیوں کوخداوندقدوس عزوجل کادیدارنصیب ہوگا۔
جنت میں نہ نیندآئے گی نہ کوئی مرض ہوگانہ بڑھاپاآئے گانہ موت ہوگی۔جنتی ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ہمیشہ تندرست اور جوان ہی رہیں گے۔
اہلِ جنت خوب کھائیں پئیں گے مگرنہ ان کوپیشاب پاخانہ کی حاجت ہوگی نہ وہ تھوکیں گے نہ ان کی ناک بہے گی۔ بس ایک ڈکار آئے گی اور مُشک سے زیادہ خوشبو دار پسینہ بہے گا اور کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔ 
جنتی ہر قسم کی فکروں سے آزاد اور رنج و غم کی زحمتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ہمیشہ ہر دم اور ہر قدم پر شادمانی اور مسرت کی فضاؤں میں شادو آباد رہیں گے اور قسم قسم کی نعمتوں اور طرح طرح کی لذتوں سے لطف اندوزو محظوظ ہوتے رہیں گے۔ (خلاصہ قرآن و حدیث)

جنت کہاں ہے؟

زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ

عِنۡدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی ﴿۱۴﴾عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾ 

یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔
اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جنت کی چھت عرش پر ہے۔
(حاشیہ شرح عقائد نسفیہ،ص۸۰)

جنتیں کتنی ہیں؟

جنتوں کی تعداد آٹھ ہے جن کے نام یہ ہیں۔
(۱)دارالمقام
(۲) دارالقرار 
(۳) دارالسلام 
(۴) جنۃ عدن 
(۵)جنۃ الماویٰ 
(۶)جنۃ الخلد 
(۷)جنۃ الفردوس
(۸)جنۃ النعیم
(تفسیر روح البیان،ج۱،ص۸۲)

جنت کی منزلیں

حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان ایک سو برس کی راہ ہے۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)

اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنتی لوگ جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ زمین سے مشرق یا مغرب میں چمکنے والے تاروں کو دیکھا کرتے ہو۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۶)

جنت کے پھاٹک

حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے پھاٹک اتنے بڑے بڑے ہیں کہ اس کے دونوں بازوؤں کے درمیان چالیس برس کا راستہ ہے مگر جب جنتی جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو ان پھاٹکوں پر ہجوم کی کثرت سے تنگی محسوس ہونے لگے گی۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)

جنت کے باغات

جنت کے باغوں کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
مؤمن جب جنت میں داخل ہوگا تو وہ ستر ہزار ایسے باغات دیکھے گا کہ ہر باغ میں ستر ہزار درخت ہوں گے اور ہر درخت پر ستر ہزار پتے ہوں گے اور ہر پتے پر یہ لکھا ہوگا:
لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اُمَّۃٌ مُّذْنِبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ 
اور
ہر پتے کی چوڑائی مشرق سے مغرب تک کے برابر ہوگی۔
(روح البیان،ج۱،ص۸۲)

اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے تمام درختوں کے تنے سونے کے ہیں۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)

جنت کی عمارتیں

جنت کی عمارتوں میں ایک اینٹ سونے کی اورایک اینٹ چاندی کی ہے اوراس کاگارا نہایت ہی خوشبو دار مشک ہے اور اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی دھول زعفران ہے۔ 
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)

اور یہ بھی مروی ہے کہ بعض عمارتیں نُور کی اور بعض یاقوت سُرخ کی اور بعض زمرد کی ہیں۔
(روح البیان،ج۱،ص۸۲)

جنت کی نہریں اور حوضِ کوثر

جنت میں شیریں پانی، شہد ، دودھ اور شراب کی نہریں بہتی ہیں۔ 
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۰۰)

جب جنتی پانی کی نہر میں سے پئیں گے تو انہیں ایسی حیات ملے گی کہ پھر انہیں موت نہ آئے گی 
اور جب دودھ کی نہر میں سے نوش کریں گے تو ان کے بدن میں ایسی فربہی پیدا ہوگی کہ پھر کبھی لاغر نہ ہوں گے 
اور جب شہد کی نہر میں سے پی لیں گے تو انہیں ایسی صحت وتندرستی مل جائے گی کہ پھر کبھی وہ بیمار نہ ہوں گے
اور جب شراب کی نہر میں سے پلائے جائیں گے تو انہیں ایسا نشاط اور خوشی کا سرور حاصل ہوگا کہ پھر کبھی وہ غمگین نہ ہوں گے۔
(روح البیان،ج۱،ص۸۲)

یہ چاروں نہریں ایک حوض میں گررہی ہیں جس کا نام حوضِ کوثر ہے یہی حوض حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا وہ حوضِ کوثر ہے جو ابھی جنت کے اندر ہے لیکن قیامت کے دن میدانِ محشر میں لایا جائے گا،جہاں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس حوض سے اپنی اُمت کو سیراب فرمائیں گے۔
(روح البیان،ج۱،ص۸۳)

جنت کے چشمے

اِن چاروں نہروں کے علاوہ جنت میں دوسرے چشمے بھی ہیں جن کے نام یہ ہیں:
(۱)کافور 
(۲)زنجبیل 
(۳)سلسبیل 
(۴) رحیق 
(۵)تسنیم۔
(روح البیان،ج۱،ص۸۳)

اہلِ جنت کی عمریں

ہر جنتی خواہ بچپن میں مرا ہو یا بوڑھا ہو کر وفات پائی ہو، ہمیشہ جنت میں اُس کی عمر تیس ہی برس کی رہے گی اس سے زیادہ کبھی اس کی عمر نہیں بڑھے گی۔
اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی طرح جوان رہتے ہوئے آرام و راحت کی زندگی بسر کرتا رہے گا۔
(ترمذی،ج۲،ص۸۰)

جنتیوں کی بیویاں اور خُدّام

ادنیٰ درجے کے جنتی کو اسّی ۸۰ہزار خادم اور بہتّر۷۲ بیویاں ملیں گی اوراس کے لئے موتی اورزبرجدویاقوت کااِتنالمباچوڑاخیمہ گاڑاجائے گاجتناکہ جابیہ اور صنعاء کے دوشہروں کے درمیان فاصلہ ہے۔
(ترمذی،ج۲،ص۸۰)

حوروں کا جلسہ اور گانا

جنت میں حوروں کا جلسہ ہوگا جس میں حوریں اس مضمون کا گانا سنائیں گی کہ 'ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں تو ہم کبھی فنا نہ ہوں گی۔ ہم چین میں رہنے والیاں ہیں تو ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی۔ہم خوش ہونے والیاں ہیں توہم کبھی ناراض نہ ہواکریں گی۔ مبارک باد ہے ان کے لئے جوہمارے لئے ہوں اور ہم اُن کے لئے ہوں۔
(ترمذی،ج۲،ص۸۰)

جنت کے بازار

ہر جمعہ کے دن جنت میں ایک بازار لگے گا کہ اُس میں شمالی ہوا چلے گی جو جنتیوں کے چہروں اور کپڑوں پرلگے گی تو اُن کے حسن و جمال میں نکھار پیدا ہو کر وہ بہت زیادہ خوبصورت ہوجائیں گے
اور جب وہ بازار سے پلٹ کر اپنے گھر جائیں گے تو اُن کے گھر والے کہیں گے کہ تم تو خداکی قسم!حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے ہو۔ 
تو یہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے پیچھے تم لوگوں کا حسن و جمال بھی بہت بڑھ گیا ہے۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۶)

جنت میں خداعزوجل کا دیدار

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے توخدا عزوجل کاایک منادی یہ اعلان کریگاکہ
اے اہلِ جنت!ابھی تمہارے لئے اللہ عزوجل کا ایک اور وعدہ بھی ہے۔
تو اہلِ جنت کہیں گے کہ اللہ عزوجل نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاہے!کیا اللہ عزوجل نے ہم کو جہنم سے نجات دے کر جنت میں نہیں داخل کردیا ہے؟ 
تومنادی جواب دے گا کہ کیوں نہیں!پھر ایک دم خداوند قدوس عزوجل اپنے حجاب اقدس کو دور فرمادے گا (اور جنتی لوگ خدا عزوجل کا دیدار کرلیں گے)تو جنتیوں کو اس سے زیادہ جنت کی کوئی نعمت پیاری نہ ہوگی۔
(ترمذی،ج۲،ص۷۸)

اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے چودھویں رات کو چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ 
تم لوگ عنقریب (قیامت کے دن)اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے جس طرح تم لوگ چاند کو دیکھ رہے ہو۔(یعنی جس طرح چاند کو دیکھنے میں کوئی کسی کے لئے حجاب اور آڑ نہیں بنتا اِسی طرح تم لوگ اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے)تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نماز فجر و نمازعصر کبھی نہ چھوڑو۔
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۰۰)

اسی طرح حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ
اے اہلِ جنت ! کیا تم چاہتے ہو کہ کچھ اور زیادہ نعمتیں میں تم لوگوں کو عطا کروں؟ 
تو اہلِ جنت کہیں گے کہ خدا وندا!عزوجل کیا تو نے ہمارا منہ اُجالا نہیں کردیا؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا؟ اور جہنم سے نجات دیدیا۔
اِتنے میں حجاب اُٹھ جائے گا اور لوگ دیدارِ الٰہی عزوجل کر لیں گے تو اس سے زیادہ بڑھ کر انہیں جنت کیکوئی نعمت محبوب نہ ہوگی۔ اُس وقت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ
(مشکوٰۃ شریف،ج۲،ص۵۰۰)

ماخوذ از: بہشت کی کنجیاں.....

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

زندگی میں آنے والے مسائل میں چھپے پوشیدہ اسباق

0 تبصرے
زندگی میں آنے والے مسائل میں چھپے پوشیدہ اسباق

آج کون ہے جو زندگی کی الجھنوں سے پریشان نہیں؟ کیا قدرت نے انسان کو محض تکلیفیں اٹھانے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اس کی رعنائیاں تو اپنی جگہ، اس کی پریشانیوں میں بھی اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں جو اپنے اور دوسروں کے کام آتے ہیں۔

زندگی کے حُسن سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کی واحد شرط یہ ہے کہ انسان مضبوط اعصاب کا مالک ہو، شعور کی دولت سے مالامال ہو اور بنیادی اخلاقی اصولوں سے روگردانی نہ کرے۔ ایسے ہی چند اصول قارئین کے شعور میں اضافے کی خاطر پیش خدمت ہیں۔

مسکن اور مسافر

یہ دنیا تمہارا مستقل مسکن ہے تم نے تو ہمیشہ یہاں رہنا ہے لیکن میں حالتِ سفر میں ہوں یہ دنیا راستے میں پڑتی تھی اس لیے رُک گیا ہوں، مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ چند دن سکون سے ٹھہرنے دو مسافر سمجھ کر کہ میں نے تو آگے چلے جانا ہے پھر تم نے ہی ہمیشہ یہاں رہنا ہے اپنے مستقل مسکن میں اس دنیا میں۔


اختلافات اور مشترکہ مقاصد

نفرت کا بھرپور اظہار

باہمی اختلافات کے انبار

تند و تیز لہجوں کی مار

24 گھنٹے باہم بیزار

دھمکیاں اور بے جا تکرار

ہر وقت باہم برسرِ پیکار

بدترین باہمی الرجی برقرار

آر پار کرنے کو ہمہ وقت تیار

طعن و تشنیع و چیخ و پکار

ترجیحات میں تفاوت بے شمار

ہونے کے باوجود ہر بار بغض و کینہ سے پاک صلح کر لینے اور ایک مشترکہ مقصد کی خاطر طویل المدتی جدوجہد جاری رکھنے کا فن میاں بیوی سے سیکھنا چاہیے۔

اوقات

اپنی اوقات دیکھ کر چلیں تو اپنی اوقات دکھانے کی نوبت نہیں آتی۔

بھرم، اوقات اور بلیاں

ہر کوئی صرف اپنا بھرم لیے پھرتا ہے ورنہ اپنی اوقات سے کون واقف نہیں ہوتا؟ لہٰذا کبھی

کسی کی عزت نہ اچھالنا

کسی پر کیچڑ نہ اچھالنا

کسی کے عیب نہ اچھالنا

ایسا نہ ہو کہ ایک دن اچانک تمہارے اپنے کرتوتوں کی بلی اچھل کر تمہارے بھرم کے تھیلے سے باہر نکل جائے۔ پھر کہاں اسے پکڑتے پھرو گے؟

میں نے اپنی زندگی میں سیکڑوں لوگوں کو اپنی مفرور بلیوں کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے دیکھا ہے، لیکن یہ بلیاں ایک بار فرار ہوجائیں تو پھر کبھی ہاتھ نہیں آتیں۔

سوچو! ایک بار پھر سے سوچو! اس پہلو پر مسلسل سوچو!

بول کا تول

بول کر تولنا تول کر بولنے سے کہیں مشکل ہوتا ہے کیونکہ تول کر بولنے کے لیے تو محض عقل درکار ہوتی ہے جبکہ بول کر تولنے کے لیے حوصلہ، اعلیٰ ظرفی اور خود احتسابی تینوں کی ضرورت پڑتی ہے۔


واضح رہے کہ تول کر بولنے والے پر بھی بول کر دوبارہ تولنا واجب ہوتا ہے، یعنی

تول کے چاہے بول نہ بول

بول کے پھر سے ضرور تول

رہ گیا ہو اگر کہیں جھول

تو مت کر ناحق ٹال مٹول

مان لے اپنا اول فول

ورنہ کہلائے گا بغلول

انسانیت کا جوہر

2 آنکھیں، 2 کان، کھانے کے لیے ایک عدد منہ، ایک مناسب درجے کی ناک، 2 ہاتھ، 2 بازو، نظام انہضام کا پورا انتظام، 2 پاؤں اور 2 ٹانگیں رکھنے والی ہر مخلوق انسان کہلانے کے لائق نہیں ہوتی۔

انسان تو ایک اندھا، گونگا، بہرا، لُولا اور لنگڑا بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ اس میں انسانیت کا جوہر موجود ہو۔

اناؤں کی جنگ

اناؤں کی جنگ سے آج تک کوئی غازی بن کر نہیں لوٹا۔ ایسی جنگوں سے ہمیشہ ظالم مرداروں کے بدبودار لاشے اور بے گناہ شہیدوں کی مہک اٹھتی دیکھی ہے، اور جو یہاں اگلے محاذوں پر لڑتے ہیں ان کے تو ٹکڑے تک نہیں ملتے۔

میں جانتا ہوں، تم پیدائشی جنگجو ہو لیکن ہمیشہ اصولوں کی جنگ لڑا کرو صرف اصولوں کی۔

تائید اور اختلاف

بنی آدم اختلاف سے اتنا کمزور نہیں پڑتا جتنا کہ دستیاب تائید سے طاقت پکڑ لیتا ہے۔ اس لیے

غلط سوچ، غلط بات یا غلط عمل کی تائید اس اختلاف سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے جو کسی درست سوچ، درست بات یا درست عمل سے کیا جائے۔ لہٰذا اختلافی آوازوں کی نسبت تائیدی الفاظ اور رویے کہیں زیادہ احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں۔

یاد رکھنا! اختلاف کے سامنے حق پر ڈٹے رہنا نسبتاً آسان ہوتا ہے جبکہ تائید کی موجودگی میں ناحق سے ہٹنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اختلافِ رائے اور اختلافات

اختلافِ رائے کی بنیاد پر دوسروں کی ذات کی نفی وہی شخص کرتا ہے جو خود سے اختلاف کو اپنی ذات کی نفی سمجھتا ہو۔ اختلاف کرنے والے سے نفرت کرنے لگ جانا ذات کی نفی کرنے سے اگلا درجہ ہے اور لوگوں کی اکثریت اسی درجے پر فائز ہوتی ہے۔


جو تم سے ایک معاملے پر اختلافِ رائے رکھتا ہے، عین ممکن ہے کسی اور معاملے میں وہ تم سے اتفاقِ رائے رکھتا ہو۔ ممکن ہے اختلافِ رائے ہونے کے باوجود وہ تم سے محبت کرتا ہو، پیٹھ پیچھے تمہاری عزت اور مفادات کا تحفظ کرتا ہو، مشکل وقت میں کبھی تمہارے کام آیا ہو یا آئندہ کبھی کام آجائے۔

پس اختلافِ رائے کو کبھی اختلافات کا باعث نہ بنانا کہ یہ بڑی کم ظرفی کی بات ہے اور اختلافات کے ڈر سے کبھی اختلافِ رائے نہ چھوڑنا کہ اس سے انسانی سوچ کا ارتقائی عمل رُک جاتا ہے۔

اختلافِ رائے سنو اور محبت کرو اختلافِ رائے کرو اور احترام کرو

لیکن جہاں اختلافِ رائے احترام سے کیا نہ جائے اور محبت سے سنا نہ جائے، وہاں صرف محبت اور احترام کرو، وہاں اختلافِ رائے کبھی نہ کرو۔

طاقت

ڈرے ہوؤں کو مارنا طاقت کی اخلاقیات نہیں اور اکڑے ہوؤں کو بخشنا طاقت کی نفسیات نہیں۔ طاقت کی نفسیات تو خودبخود بروئے کار آجاتی ہے لیکن طاقت کی اخلاقیات دکھانا خالصتاً ایک شعوری عمل ہے۔

تم اپنی طاقت کا استعمال ضرور کرنا لیکن طاقتوروں کو طاقتیں بخشنے والے سب سے عظیم طاقتور سے ہمیشہ ڈرتے رہنا، کیونکہ وہ طاقت کی اخلاقیات توڑنے والوں کی طاقت سلب کرلیتا ہے اور پھر اس کی جانب سے طاقت کی نفسیات کا وہ اظہار ہوتا ہے جو بڑے سے بڑے طاقتور کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔

بدھ، 8 اپریل، 2020

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

0 تبصرے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

اللہ پاک تو رحمن ورحیم ہے

تو مالک یوم دین ہے 

تیری شان عظیم ہے 

تو یکتا و لاشریک ہے 

اپنے حبیب کریمﷺ کی امتی بنایا 

یہ تیرا احسان عظیم ہے 

جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے 

تو رحمتہ للعالمینﷺ کے صدقے 

ہم پر رحم فرما کرم فرما

اللہ پاک ہم سب کو عطا فرمادے

وہ زبان جس میں حلاوت ہو 

وہ آنکھ جسمیں حیاء ہو 

وہ سینہ جسمیں قرآن ہو 

وہ قبر جسمیں سکون ہو 

وہ ایمان جسمیں لذت ہو 

وہ چال جسمیں عاجزی ہو 

وہ دل جسمیں اللہ کا ڈر ہو 

وہ زندگی جسمیں اسلام ہو 

اور جنت میں وہ مکان جو رسول اللہ ﷺ کے پڑوس میں ہو۔

 

اے اللہ! مجھے تو صرف تیری خوشی چاہیے

درد کیسا بھی ہو بندگی چاہیے

دنیا کی کوئی خواہش نہیں ہے یارب

آخِرَت کی بس زندگی چاہیے

صرف تیرے ہی آگے ہاتھ پھیلائوں

ایسی مجھے بےبسی چاہیے

تو ہو جائے راضی سنور جاؤں میں

میرے مالک تیری رضا کی آگہی چاہیے

میں جھکوں اور بس جھکا ہی رہوں

عبادت میں بس ایسی عاجزی چاہیے

میں بھٹک جاؤں اگر تو سہارا مجھے نا دے 

ایسی مجھے تیری رہبری چاہیے آمین

 

الهي عبدك العاصي اتاك

مقرّا بالذنوب وقد دعاك

فان تغفر فانت لذاك اهْل

فان تطرد فمن يرحم سواك

 

الہی تیرا گنہگار بندہ تیرے در پہ حاضر ہے

اے اللہ!گناہوں کا اقرار کرتا ہوں اور آپ سے فریاد کرتا ہوں

اللہ اگر آپ معاف کردے یہ بات آپ کو سجتی ہے

اللہ اگر آپ بھی دھتکار دیں تو کون ہے ہم پر رحم کرنے والا اور کون ہے سینے سے لگانے والا.....

 

غم حیات کے سائے محیط نہ کرنا 

کسی غریب کو دل کا غریب نہ کرنا 

میں امتحان کےقابل نہیں میرےمولا 

مجھے گناہ کا موقع نصیب نہ کرنا

آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔

پیر، 6 اپریل، 2020

❶شب براءت میں ثابت تین کام

0 تبصرے

شب براءت میں ثابت تین کام


رات میں جاگ کر عبادت کرنا

15تاریخ کاروزہ,

قبرستان جانا,


شب براءت میں جاگ کر عبادت کرنا اس کے متعلق حدیث میں بہت ترغیب آئی ہے آپﷺ نے فرمایا اللّٰه تعالی اس رات قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی گنتی سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں (ترمذی, ابن ماج

اس رات میں دس قسم کے لوگ اللّٰه کی رحمت ومغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں مختلف احادیث میں جنکی تفصیل آئی ہے بہرحال اس رات جاگ کرصرف عبادت کی جائے,

روزہ کے متعلق صرف ایک حدیث آئی ہے جسکے متعلق محدثین کرام نے فرمایا کہ یہ ضعیف ہے اور اسی وجہ سے علماء امت نے فرمایا کہ اس دن کاروزہ سنت سمجھ کررکھنا بدعت ہے اور آپﷺ نے جس طرح عشرة ذی الحج عاشورہ شش عید وغیرہ کے روزوں کی ترغیب دی اور فضیلت بیان فرمائی اس دن کے روزہ نہیں فرمائی لہذا خاص اس دن کاروزہ رکھنا اور اسے سنت سمجھنابدعت ہے,

قبرستان جانابھی آپﷺ سے صرف ایک دفعہ ثابت ہے پوری زندگی میں شب براءت کوصرف ایک مرتبہ گئے وہ بھی ایسے قبرستان میں جہاں نہ لائٹ تھی نہ چراغ اور وہاں جاکر صرف تمام مردوں کیلئے دعاء فرمائی اسکے علاوہ کچھ نہیں کیا آج کل جوکچھ قبرستانوں میں ہوتاہے یہ سب بدعت اور ناجائز بلکہ حرام ہے اور اس رات نئے کپڑے کہیں ثابت نہیں یہ فضول خرچی اور ایک غلط کام ہے

 

۞آج_کل_کےمروج_گناہ۞

 

آتش بازی یعنی پٹاخے پھوڑنا جوکہ اس رات کی توہین کی وجہ سے ایمان خطرہ میں پڑنے کااندیشہ ہے اگر باپ نے پیسے دئے توبروز قیامت وہ بھی پکڑا جائے گا باپ یابڑے بھائی نے منع نہ کیاتوبھی پوچھ ہوگی ایذائے مسلم حرام ہے پیسہ ضائع کرنے کاالگ گن

رات کوکرکٹ وغیرہ کھیلنا ٹی وی پر پروگرام دیکھنا یہ سب ناجائز ہیں اس رات جاگنا مقصود نہیں بلکہ عبادت مقصود ہے اگر کوئ عبادت نہیں کرسکتاتووہ سوجائے یہ زیادہ بہتر ہے,

قضاء عمری سے متعلق جو نماز مشہور ومروج ہے چار رکعت والی خاص طریقہ سےاسکا حدیث میں کہیں ثبوت نہیں نمازیں جتنی قضاء ہیں پوری پڑھنی لازم ہے,

صلوٰة التسبیح کی جماعت بدعت ہے البتہ انفرادی طور پر اس رات پڑھنا بہتر ہے لیکن واضح رہے کہ یہ اس رات کی سنت نہیں,

اس رات کوئ عبادت خاص نہیں جو چاہے کریں البتہ انفرادی عبادت کی جائے اجتماعی پروگراموں سے بچیں.

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شب براءت میں رشتہ داروں اور پیاروں کی روحیں گھر میں آتی ہیں اور اسی وجہ سے فاتحہ خوانی کرواتے ہیں تو یہ بالکل غلط اور بے سند بات ہے قرآن وحدیث کے خلاف ہے قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب انسان مرتاہے تو نیکوں کی روح علیین میں اور کافروں گناہ گاروں کی سجین میں چلی جاتی ہیں اس لئے یہ سمجھنا کہ روحیں آتی ہیں غلط بات ہے اور اس بنیاد پرفاتحہ خوانی بدعت اور غلط ہے اس سے بچنا لازم ہے,

اللّٰه تعالی ہماری اس رات مغفرت فرمائے


۞نصف_شعبان_میں_مغفرت_عامہ۞


حدیث شریف میں آتاہے کہ اللّٰه تعالی اس رات آسمان دنیاپر نزول فرماتا(یعنی خاص رحمت نازل ہوتی)ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں(جوکہ ہزاروں کی تعداد میں ہوتی تھیں) کے بالوں کی گنتی سے زیادہ لوگوں کی بخشش فرمادیتاہے(ترمذی, ابن ماج

شب برأت میں عام مغفرت ہوتی ہے لیکن بعض گناہ ایسے ہیں جنکی نحوست سےمغفرت جیسی عظیم نعمت سے محرومی ہوجاتی ہے ایسے افراد کی نشاندھی مختلف احادیث میں کی گئ ہے وہ یہاں جمع کی جاتی ہیں

۞وہ_گناہ_یہ_ہیں۞

مشرک

جس کے دل میں کینہ ہو

جماعت حق سے الگ ہونے والابدعت

ظلم سےمحصول(بھتہ) لینےوالا

جادوگر

غیب کی خبریں بتانے والا جیساکہ آج کل کے فال حضرات اور عملیات والے کرتے ہیں

ہاتھوں کے خطوط یادیگر آثار دیکھ کر بتانے والا

جوحاکم کوناجائزمحصول (ٹیکس)کےطریقے بتائے

طبل یانردوالا, (موسیقی کے آلات رکھنے والا

قطع رحمی کرنے والا

پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکانے وال

والدین کوستانے والا

ہمیشہ شراب پینے والا,

 

۞شب_برأت_میں_کیاہوتاہے

حدیث شریف میں آتاہے کہ اس سال میں جتنے

پیداہونے والے ہیں

جتنےمرنےوالےہیں, وہ سب بھی اس رات میں لکھ لئے جاتے ہیں

اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں

اور اسی رات میں لوگوں کی(مقررہ)روزی اترتی ہے(بیہقی

گویایہ مہینہ اللّٰه کےآفاقی نظام میں بجٹ کامہینہ ہے جس میں سال بھر کے تمام اہم امور طے پاتے ہیں

مناجات شعبانیہ۔۔۔۔۔

اے معبود! محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور جب میں تجھ سے دعا کروں تو میری دعا سن جب میں تجھے پکاروں تو میری پکار کو سن جب میں تجھ سے مناجات کروں تو میری پر توجہ فرما کہ تیرے ہاں تیزی سے آیا ہوں میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اپنی بے چارگی بے و سہارگی تجھ پر ظاہر کر رہا ہوں تیرے سامنے نالہ و فریاد کرتا ہوں اپنے اس ثواب کی امید میں جو تیرے ہاں ہے اور تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے تو میری حاجت سے آگاہ ہے اور تو میرے باطن سے باخبر ہے دنیا اور آخرت میں میری حالت تجھ پرمخفی نہیں اور جس کا میں ارادہ کرتا ہوں کہ زبان پر لاؤں اور اسے بیان کروں اور اپنی حاجت ظاہر کروں اور اپنی عافیت میں ا س کی امید رکھوں تو یقینا تیرے مقدرات مجھ پر جاری ہوئے اے میرے سردار جو میں آخر عمر تک عمل کروں گا میرے پوشیدہ اور ظاہرا کاموں میں سےاور میری کمی بیشی اور نفع و نقصان تیرے ہاتھ میں ہے نہ کہ تیرے غیر کے ہاتھ میں میرے معبود! اگر تو نے مجھے محروم کیا تو پھر کون ہے جو مجھے رزق دے گا اور اگر تو نے مجھے رسو کیا تو پھر کون ہے جو میری مدد کرے گا میرے معبود! میں تیرے غضب اور تیراعذاب نازل ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں میرے معبود: اگر میں تیری رحمت کے لائق نہیں پس تو اس چیز کا اہل ہے کہ مجھ پر اپنے عظیم تر فضل سے عطا و عنایت فرمائے میرے معبود! گویا میں خود تیرے سامنے کھڑا ہوں اور تجھ پر میرے حسن اعتماد اور توکل کا سایہ پڑرہا ہے پس تو نے وہی کچھ کیا جو تیری شان کے لائق ہے اور تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں لے لیا میرے معبود: اگر تو مجھے معاف کرے تو کون ہے جو اس کا تجھ سے زیادہ اہل ہو اور اگر میری موت قریب آگئی ہے اور میرا کردار مجھے تیرے قریب کرنے والا نہیں تو میں نے اپنے گناہ کے اقرار کو تیری جناب میں اپنا وسیلہ قرار دے لیا ہے میرے معبود! میں نے اپنے نفس کی تدبیر میں اس پر ظلم کیا اگر تو اسے بخشے تو یہ ہلاکت وبربادی ہے میرے معبود ایام زندگی میں تیرا احسان ہمیشہ مجھ پر ہوتا رہا پس بوقت موت اسے مجھ سے قطع نہ فرما میرے معبود! میں مرنے کے بعد تیرے عمدہ التفات سے کیونکر مایوس ہوں گا جبکہ میں نے اپنی زندگی میں تیری طرف سے سوائے نیکی کے کچھ اور نہیں دیکھا میرے معبود! میرے امور کا اس طرح ذمہ دار بن جو تیرے شایاں ہے اور مجھ گنہگار پر اپنے فضل سے توجہ فرما جسے نادانی نے گھیر رکھا ہے میرے معبود! تو نے دنیا میں میرے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائی جبکہ میں آخرت میں اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کا زیادہ محتاج ہوں میرے معبود! یہ تیرا احسان ہے کہ تو نے میرے گناہ اپنے نیک بندوں میں سے کسی پرظاہر نہیں کیے پس روز قیامت بھی مجھے لوگوں کے سامنے رسوا و ذلیل نہ فرما میرے معبود! تیری عطا میری امید پر چھائی ہوئی ہے اور تیرا عفو میرے عمل سے برتر ہے میرے معبود! اپنی ملاقات سے مجھے شاد فرما جس روز تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرے گا میرے معبود! تیرے حضور میری عذر خواہی اس شخص کی طرح ہے جو قبول عذر سے بے نیاز نہیں پس میرا عذر قبول فرما اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے کہ جس کے سامنے گنہگار عذر خواہی کرتے ہیں میرے مولا میری حاجت رد نہ فرما میری طمع میں مجھے ناامید نہ کر اور میں تجھ سے جو امید و آرزورکھتا ہوں اسے قطع نہ کرمیرے معبود اگر تو میری خواری چاہتا ہے تو میری رہنمائی نہ فرماتا اور اگر تو میری رسوائی چاہتا تو میری پردہ پوشی نہ کرتا، میرے معبود!میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تو میری وہ حاجت پوری نہ کرے گا جو میں عمر بھر تجھ سے طلب کرتا رہاہوں، میرے معبود! حمد بس تیرے ہی لیے ہے ہمیشہ ہمیشہ پے در پے اور بے انتہا جو بڑھتی جاتی ہے اور کم نہیں ہوتی جو تجھے پسند ہے اور تجھے بھلی لگتی ہے، میرے معبود! اگر تو مجھے جرم پر پکڑے گا تو میں تیری بخشش کا دامن تھام لوں گا اگر مجھے گناہ پر پکڑے گا تو میں تیری پردہ پوشی کا سہارا لوں گا اور اگرتو مجھے جہنم میں ڈالے گا تو میں اہل جہنم کو بتاؤں گا کہ میں تیرا چاہنے والا ہوں میرے خدا! اگر تیری اطاعت کے سلسلے میں میرا عمل کمتر ہے تو بھی تجھ سے بخشش کی امید رکھنے میں میری آرزو بہت بڑی ہے، میرے خدا! کس طرح میں تیری درگاہ سے مایوسی میں خالی ہاتھ پلٹ جاوں جبکہ میں تیری عطا سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ تو مجھےرحمت و بخشش کے ساتھ پلٹائے گا، میرے خدا ہوا یہ کہ میں نے تجھے فراموش کرکے اپنی زندگی برائی میں گزاری اور میں نے اپنی جوانی تجھ سے دوری اور غفلت میں گنوائی میرے خدا؛ تیرے مقابل جرأت کرنے کے دوران میں ہوش میں نہ آیا اور تیری ناخوشی کے راستے پر چلتا گیا پھر بھی اے معبود؛ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلہ بنا کر تیری بارگاہ میں آکر کھڑا ہوں، میرے خدا! میں وہ بندہ ہوں جو خود کو تیری طرف کھینچ لایا ہے جبکہ میں تیری نگاہوں کا حیا نہ کرتے ہوئے تیرے مقابل اکڑا ہوا تھا میں تجھ سے معافی مانگتاہوں کیونکہ معاف کردینا تیرے لطف و کرم کا خاصہ ہے میرے خدا! میں جنبش نہیں کرسکتا تا کہ تیری نافرمانی کی حالت سے نکل آؤں مگر اس وقت جب تو مجھے اپنی محبت کی طرف متوجہ کرے کہ جیسا تو چاہے میں ویساہی بن سکتا ہوں پس میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے مجھے اپنی مہربانی میں داخل کیا اور میں تجھ سے جو غفلت کرتا رہاہوں میرے دل کو اس سے پاک کردیا میرے خدا! مجھ پر وہ نظر کر جو تو تجھے پکارنے والے پر کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہے پھر اس کی یوں مدد کرتا ہے گویا وہ تیرا فرمانبردار تھا اے قریب کہ جو نافرمان سے دوری اختیار نہیں کرتا اور اے بہت دینے والے جو ثواب کے امیدوار کے کیے کمی نہیں کرتا، میرے خدا! مجھے وہ دل دے جس میں تیرے قرب کاشوق ہو۔ وہ زبان عطا فرما جو تیرے حضور سچی رہے اور وہ نظر دے جس کی حق بینی مجھے تیرے قریب کرے، میرے خدا! بے شک جسے تو جان لے وہ نامعلوم نہیں رہتا جو تیری محبت میں آجائے وہ بے کس نہیں ہوتا اور جس پر تیری نگاہ کرم ہو وہ کسی کا غلام نہیں ہوتا، میرے خدا! بے شک جو تیری طرف بڑھے اسے نور ملتا ہے اور جو تجھ سے وابستہ ہو وہ پناہ یافتہ ہے، ہاں میں تیری پناہ لیتا ہوں اے خدا؛ مجھے اپنے دوستوں میں قرار دے جن کا مقام یہ ہے کہ وہ تیری محبت کی بہت امید رکھتے ہیں، میرے خدا! مجھے اپنے ذکر کے ذریعے اپنے ذکر کا شوق اور ذوق دے اور مجھے اپنے اسماء حسنیٰ سے مسرور ہونے اور اپنے پاکیزہ مقام سے دلی سکون حاصل کرنیکی ہمت دے میرے خدا تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے کہ مجھے اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے اور اپنی خوشنودی کے مقام تک پہنچادے کیونکہ میں نہ اپنا بچاؤ کرسکتا ہوں اورنہ اپنے آپ کو کچھ فائدہ پہنچاسکتاہوں ،میرے خدا؛ میں تیرا ایک کمزور و گنہگار بندہ اور تجھ سے معافی کا طلب گار غلام ہوں پس مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن سے تو نے توجہ ہٹالی اور جن کی بھول نے انہیں تیرے عفو سے غافل کر رکھا ہے میرے خدا مجھے توفیق دے کہ میں تیری بارگاہ کا ہوجاؤں اور ہمارے اورہمارے دلوں کی آنکھیں جب تیری طرف نظر کریں تو انہیں نورانی بنادے تا کہ یہ دیدہ ہائے دل حجابات نور کو پار کرکے تیری عظمت و بزرگی کے مرکز سے جاملیں اور ہماری روحیں تیری پاکیزہ بلندیوں پر آویزاں ہوجائیں میرے خدا؛ مجھے ان لوگوں میں رکھ جن کو تو نے پکارا تو انہوں نے جواب دیا تو نے ان پر توجہ فرمائی تو انہوں نے تیرے جلال کا نعرہ لگایا ہاں تو نے انہیں باطن میں پکارا اور انہوں نے تیرے لیے ظاہر میں عمل کیا ، میرے خدا؛ میں نے اپنے حسن ظن پر ناامیدی کو مسلط نہیں کیا اور تیرے لطف و کرم کی توقع قطع نہیں ہونے دی ہے، میرے خدا؛ اگر تیرے نزدیک میری خطائیں نظر انداز کردی گئی ہیں تو میری جو توکل تجھ پر ہے اس کے پیش نظر میری پردہ پوشی فرمادے، میرے خدا؛ اگر گناہوں نے مجھے تیرے کرم کی برکتوں سے دور کردیا ہے تو بھی یقین نے مجھے تیری عنایت و مہربانی سے آگاہ کر رکھا ہے میرے خدا؛ اگر میں نے خواب غفلت میں پڑکر تیری بارگاہ میں حاضری کی تیاری نہیں کی تو بے شک معرفت نے مجھے تیری مہربانیوں سے باخبر کردیا ہے، میرے خدا؛ اگر تیری سخت سزا مجھے جہنم کی طرف بلارہی ہے تو بھی تیرا بہت زیادہ ثواب مجھے جنت کی سمت لیے جاتا ہے، میرے خدا؛ میں بس تیرا سوالی ہوں تیرے آگے زاری کرتا ہوں تیرے پاس آیا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ مجھے ایسا قرار دے جو ہمیشہ تیرا ذکر کرتا رہا، جس نے تیری نافرمانی نہیں کی، جو تیرا شکر ادا کرنے سے غافل نہیں ہوا اور جس نے تیرے فرمان کو سبک نہیں سمجھا، میرے خدا؛ مجھے اپنی روشن تر عزت کو نور تک پہنچادے تا کہ میں تجھے پہچان لوں، تیرے غیر کو چھوڑدوں اور تجھ سیڈرتے ہوئے تیری جانب متوجہ رہوں اے سب مرتبوں اور عزتوں کے مالک اور اللہ اپنے رسول محمد مصطفی پررحمت نازل فرمائے اور ان کی پاکیزہ آل(ع) پر اور سلام بھیجے کہ جو سلام بھیجنے کاحق ہے۔

بدھ، 1 اپریل، 2020

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

0 تبصرے

نداء الى اصحاب الخير .........
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
كما انكم على علم جم ان العالم اليوم تفشي فيه فيروس كورونا وباء عالمية و في الهند ايضا انه تسبب وفاة الآف الاشخاص وصار بلاد الهند سجنا لسكّانها يطوف الشرط في الطرقات كلها والناس محبوسون في منازلهم وضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا الّا ملجا من الله الا اليه وسبيل الاكتساب والقوت كله منقطع فاذاقهم الله لباس الجوع والخوف بما كانوا يصنعون ولعل هذه آية من عذاب الله وحده لا شريك له ليس له دواء ولا نجاة الا ما شاء الله ولكن تعقبت المسالة قبلا وارسلت الطلاب القريبىن الى منازلهم على الفور بعد العطلة ولكن طلاب البعيدين الذين اقرب 200 اضطروا الى السفر بالقطار ليس لهم سبيل من الذهاب الى منازلهم حتى الظروف سارة كماكانت وليس هذا يمكن الا بعد شهرين او ثلاثة اشهر فآويتهم في المدرسة و توفر لهم جميع التسهيلات و وجبات الطعام والقيام من قبل المدرسة حينما فشلت ميزانية المدرسة قبل الشهرين في هذه السنة ايضا كالسنوات الثلاث الماضيه وسفراءالمدرسة لم يستطيعوا السفر في هذه السنه وليس هنا في هذه المدرسة اسباب و وسائل تفي بحاجات طلبتها ورواتب المدرسين والموظفين فيها ومع ذلك في جوار المدرسة بعض الناس من الطبقة العاملة اكثرهم فقراء الذين لا تعتمد حياتهم الا على الأجور عاجزون ايضا وجديرا بالذكر انني بأمس حاجة الى عنايتكم اليها ومساعدة اصحاب الجود والكر امثالكم عاملا بقوله تعالى تعاونوا على البر والتقوى ولست بقانط من رحمة الله انه الخالق والرازق والمدبر كل الامور فجزاكم الله احسن الجزاء.

يمكنك ان تدعمها وتساعدها عن طرق آتية

(١) ان تدعو الله لرقيها وتقدمها وثباتها
(٢) ان توفر راتب الاستاذ شهريا او سنويا
(٣) ان تعطيها تبرعا كل الشهري
(٤) ان تؤديها رسم وجبات الطعام للطلاب الفقراء
(٥) ان تتحمل نفقات طالب بقسم تحفيظ القران الكريم
(٦) ان تهيئ الكتب الدراسيه للطلاب المساكين
(٧) ان توفر الكتب للمكتبه
(٨) ان تعاون سفرائها على جمع التبرعات
(٩) ان تساهم في اعمالها البنائيه يجرى اليوم بناء المكتبه و المطبخ الجديده وقاعة المطالعه و الغرف الجديده بيت الضيافه وغرفة الموظفين وهلم جرا

تفاصيل البنوك وعنوانها

Bank Details
State Bank of India Banda_16807
IFSC. Code. SBIN0016807
A/C.  30595913123

Bank of Baroda.
A/C 24920100004269
IFSC code.BARB0BANDXX

عنوان الاتصال ورقم الجوال

سماحه الشيخ السيد عبد التواب الندوى الهند
رقم الواتساب :   ٩٤٥٢٤٦٣٦٦٩
فضيله الشيخ السيد عبيد الرحمن الندوي الهند
رقم الواتساب:    ٧٣٨٨٥٤٨٧١٣
الجامعة العربية تجويد القرآن مسونى كالنجر بانده اترابراديس الهند
بريد الكترونى: centerhelp72@gmail.com
موقع ويب:  imtiaznadwi.blogspot.com


Appeal to the eligible gentlemen

From Jamia Arabia Tajwidul Quran Masuni Kalinjar Banda (U.P. ) Pin No. 210129

You are also well aware that the world today has a global epidemic of corona virus, and in India, too, it has caused the death of thousands of people, and the country of India has become a prison for its inhabitants, The police & force are roaming on all the roads, and people are locked in their homes The land was narrowed upon them by what they welcomed, and they themselves narrowed, and they thought that there is no refuge from God but to Him The Way of acquisition and sustenance is all cut off, so God tasted them the clothing of hunger and fear as they were making. Perhaps this is a Sign of God’s punishment alone that has no partner and there are no medication or salvation except what God wills. But I tracked down the issue before and sent the nearby students home immediately after the holiday But distance students are less than 200 who had to travel by train have no way of going to their homes until the conditions are as pleasant as they used to be and this is not possible until after two or three months so I accommodated them in Madarsa and provide them with all the facilities and meals and do by the Madarsa when the Madarsa’s budget failed two months ago this year also as years The past three and Madarsa's ambassadors were unable to travel this year, and there here are no revenue or resources to meet the needs of their students and the salaries of teachers and employees here. as will as in the vicinity of the Madarsa are some people from the working class, most of whom are poor, whose lives depend only on wages, also incapable and it is worth noting that i am In dire need of attention to it and help the owners of goodness, generosity, helpful, well wisher like yourselves,in action on saying the Almighty: help one another in righteousness and piety, and I am not hopeless of God's mercy that the Creator, Provider and the mastermind of all things۔ 
God bless you and keep you colourful.

Address
Director of Madarsa Maulana Abdul-Twab Nadwi Jamia Arabia Tajweed-ul Quran Masuni Kalinjar Banda U.P. 210129
What'sapp No. 0094 52 463669

Bank Details
(1) State Bank of India Banda_16807
IFSC. Code. SBIN0016807
A/C.  30595913123

(2)Bank of Baroda.
A/C 24920100004269
IFSC code.BARB0BANDXX