جمعرات، 10 اکتوبر، 2019

سورہ لقمان کا مختصر تعارف

1 تبصرے
سورہ لقمان کا مختصر تعارف

نام : سورہ لقمان ( ایک صالح بزرگ کا نام)
پارہ نمبر : 21
سورہ نمر 31
عدد آیات : 34
رکوع : 4 
کلمات : 748
حروف : 2110

وجہ تسمیہ :

ترتیبی اعتبار سے قرآن پاک کی اکتیسویں(31) سورت ہے، جب کہ اس کا نزولی نمبر57 ہے، یہ مکی سورت ہے۔۔۔۔۔
”لقمان“ ایک بزرگ حکیم کا نام ہے۔ آیت 12 میں حضرت حکیم لقمان کو حکمت عطاء کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ سورہ مبارکہ میں اُن نصیحتوں کا ذکر ہے جو لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو کیں تھیں،  اسی مناسبت سے یہ سورہ لقمان کہلاتی ہے۔
سورہ لقمان میں بتایا گیا ہے کہ اللہ بھی حکیم ہے اور اس کی کتاب قرآن بھی حکیم ہے۔ حضرت لقمان کو بھی حکمت عطاء کی گئی تھی کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں آزمائشیں اور آخرت میں جزاء وسزا کا نظام بھی حکمت پر مَبنی ہے۔

حکیم لقمان کا ذکر
آیات 1 تا 5
کتاب سے فائدہ اٹھانے والوں کی صفات بیان کی گئی ہیں
نماز پڑھتے ہیں
فکر آخرت رکھتے ہیں
اللہ کی راہ میں خرچ کرتےہیں
آیات 6 تا 7
دو قسم کے لوگوں کا بیان ۔ ایک کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایک کلام اللہ کے بجائے
لھو الحدیث میں گم ہو جاتے ہیں
(1) لھو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غافل کردے
(2) حضرت لقمان علیہ السلام کا ذکر
(3) حضرت لقمان کی بیٹے کو نصیحت
(4) شرک نہ کرو
(5) والدین کے حقوق ادا کرو
(6) اللہ سے ڈرو
(7) نماز قائم کرو
(8) نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو
(9) مصیبت میں صبر کرو
(10) تکبر نہ کرو
(11) لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو
(12) اللہ کی نعمتیں پا کر کچھ لوگ نافرمانی کرتے ہیں اور کچھ فرمانبرداری 
(13) کائنات کی نشانیوں کا بیان
آیت 33
(14) نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کےدنیا کی زندگی اور شیطان دھوکے میں نہ ڈالے

اس سورہ میں بتایا گیا ہے کہ دین کے معاملہ میں آدمی اپنے باپ دادا کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرے جو اللہ کے الٰہ واحد ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے کے بجائے وحی الٰہی کی روشنی قبول کر لے جو اس کی زندگی کو سنوارنے والی اور اسے کامیابی کی منزل کو پہنچانے والی ہے۔
اس سورہ مبارکہ میں آباء پرستی کی مذمت، شرک کی نامعقولیت اور توحید کی صداقت کو سمجھانے کے لئے لقمان حکیم کی نصیحتوں کو پیش کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ ہمیشہ سے سلیم الفطرت اور معقول انسان شرک سے بیزار اور توحید کی صداقتوں کے قائل رہے ہیں۔ نومسلم نوجوانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ انہیں اپنے مشرک والدین کے ساتھ حسنِ سلوک تو لازماً کرنا چاہیے، لیکن شرک کے مسئلے میں اُن کی اطاعت جائز نہیں۔
اگر سارے درخت قلم بن جائیں، سمندر دوات بن جائیں، سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ختم نہ ہوں گیں۔(27)

قرآن ہدایت و رحمت:

’’سورہ لقمان‘‘ کے شروع میں بتایا گیا کہ قرآن پاک ہدایت و رحمت ہے، ان لوگوں کے لئے جوکہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے لوگ قیامت میں سرخرو ہوں گے۔

گمراہی اختیار کرنے والے:
پھر ان لوگوں کا تذکرہ ہے، جنہوں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے گمراہی اختیار کی، اور ہدایت کا مذاق اڑایا اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، تو تکبر سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں، گویا سنا ہی نہیں، ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں ذلت آمیز عذاب ہے۔
حکیم لقمان اور ان کی نصیحتیں:
حضرت حکیم لقمان اللہ تعالیٰ کے بہت نیک اور برگزیدہ بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں علم و معرفت، حکمت و دانائی، دیانتداری، اور راست بازی جیسے اوصاف سے نوازا تھا، باپ اپنے بیٹے کا سب سے بڑا خیرخواہ ہوتا ہے، حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کیں وہ اتنی پیاری اور اہم تھیں کہ قرآن پاک نے اس کو اپنا حصہ بنا لیا۔ 
(1) اے میرے پیارے بیٹے، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ 
(2) ماں باپ کی شکرگزاری اور اطاعت فرض ہے مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کہیں تو اطاعت جائز نہیں۔ 
(3) اے میرے پیارے بیٹے اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی بے سوراخ پتھر یا آسمان و زمین میں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ اسے ضرور لے آئے گا۔ 
(4) اے میرے پیارے بیٹے، نماز قائم کر۔ 
(5) نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو کہ یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ 
(6) زمین پر اکڑ کر مت چلو، اللہ تعالیٰ کسی متکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ 
(7) اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو۔ 
(8) اپنی آواز کو دھیما رکھو کہ سب سے بدترین آواز گدھے کی ہے۔
اللہ کے کلمات:
اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان و شوکت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات اور صفات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
شرک کی مذمت:
مشرک جب سمندر میں پھنس جاتے ہیں، تو اللہ کو پکارتے ہیں، مگر جب خشکی پر پہنچ جاتے ہیں تو شرک کرنے لگتے ہیں۔
غیب کی چابیاں:

پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، 

(1) قیامت کب آئے گی 
(2) بارش کہاں اور کتنی برسے گی 
(3) شکم مادر میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے 
(4) انسان کل کیا کرے گا 
(5) موت کب اور کس جگہ آئے گی۔

ماخوذ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن عباس۔
ھدایت القرآن۔
بیان القرآن
صفوۃ التفاسیر
جلالین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔

1 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔