بدھ، 16 اکتوبر، 2019

سورہ سجدہ کا مختصر تعارف

0 تبصرے

سورہ سجدہ کا مختصر تعارف

ترتیب سورہ : 32
نام : سورۂ سجدہ  ( جھکنا، سجدہ کرنا)
ترتیب نزول : 75
سورت : مکی
رکوع : 3
عدد آیات : 30
کلمات : 330
حروف : 1518
وجہ تسمیہ : آیت ۱۵ میں اہل ایمان کا یہ وصف بیان ہوا ہے جب انہیں اللہ کی آیتوں کے ذریعے تذکیر کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں اگر پڑتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام السجدہ ہے۔

تعارف : یہ سورہ مکی ہے۔اس میں توحید اور آخرت کا مضمون ایسے اسلوب میں بیان ہوا ہے جو شبہات کو دور کر کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے۔ سورہ لقمان میں عقل و دانش سے اپیل تھی تو اس سورہ میں وجدان و قلب سے اپیل ہے

ربط: سورۃ سابقہ میں توحید و معاد کے مضامین تھے اس سورت کے شروع میں اثبات حقیقت قرآن سے اثبات رسالت ہے جس کا تناسب توحید ومعاد سے ظاہر ہے پھر (اللہ الذی خلق) سے توحیدہے اور (قالو اذاضللنا) سے معاد کا ذکرہے اور پہلا مضمون دوسرے پر بھی من وجہ مشتمل ہے پھر (ولقد اتینا موسی) سے تائید مسئلہ رسالت کی اورتسلیہ صاحب رسالت کا معاملہ مکذبین میں ہے اوراولم یھدسے آخر تک مکذبین کی توبیخ اور ان کے بعض اقوال کا جواب۔

فضیلت

حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم سجدہ ) اوردو سری رکعت میں (ھل اتی علی الانسان) سورۃ دھر پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری و مسلم کتاب الجمعہ باب ما یقرأ فی صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ) اسی طرح یہ بھی صحیح سند سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل سورہ الم سجدہ اور سورہ ملک پڑھاکرتےتھے ترمذی نمبر892 /مسند احمد جلد 3 صفحہ340

منکروں کو انتباہ

پہلا گفتار؛ آیہ ۴-۱۴
قیامت کا ثبوت اور کافروں پر عذاب حتمی ہونا

دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۲۲
مؤمنوں اور فاسقوں کا انجام قرآنی آیات کی روشنی میں

تیسرا گفتار؛ آیہ ۲۳-۳۰
قیامت میں کافروں کو سزا کے بارے میں قرآنی تعلیمات کی حقانیت

 آیہ ١_٣ : کفر کے انجام کے بارے میں قرآنی انتباہ
 آیہ ۴: دنیا کی خلقت اور تدبیر اللہ کے ہاتھ
 آیہ ۵-۶: دنیا کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے
 آیہ ۷-۹: اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنا انسان کی ذمہ داری ہے
 آیہ ۱۰-۱۱: معاد کے بارے میں کافروں کے شبہے کا جواب
 آیہ ۱۲-۱۴: اللہ دوزخ کو مجرموں سے بھر دے گا
 آیہ ۱۵-۱۷: اہلِ ایمان کی خصوصیات
 آیہ ۱۸-۱۹: بہشت میں مؤمنوں کا اجر
 آیہ ۲۰-۲۲: جہنم میں کافروں کی سزا
 آیہ ۲۳-۲۵: معاد کے بارے میں قرآنی معارف کی تورات میں تأیید
 آیہ ۲۶-۲۷: قیامت برپا کرنے اور کافروں کو سزا دینے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں
 آیہ ۲۸-۳۰: قیامت کے دن کافروں پر عذاب کا حتمی‌ ہونا

مفاہیم حکیم الامت

حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
 سورہ سجدہ کا اصلی ہدف مبدأ و معاد پر استدلال اور ان سے مربوط شبہات کا ازالہ قرار دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن، نبوت، آیات الہی پر ایمان لانے والے مؤمنین اور خدا کی عبودیت سے خارج ہونے والے فاسقین کا فرق نیز مومین کو ان کی تصور سےماوراء ثواب اور فاسقین کودنیااور آخرت میں عذاب کی بشارت ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں گفتگو ہوتی ہے۔
تفسیر نمونہ میں سورہ سجدہ کا مقصد مبدا و معاد پرایمان کی تقویت اور تقوا اور پرہیزگاری کی طرف حرکت میں نشاط پیدا کرنا اور سرکشی اور طغیان سے دوری اختیار کرتے ہوئے انسان کی حقیقی مقام و مرتبے کی طرف دھیان دینا قرار دیتے ہیں اور اس کے مباحث کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

قرآن کی عظمت اور خدا کی طرف سے اس کا نازل ہونا؛

زمین و آسمان میں خدا کی نشانیاں اور اس کائنات کی تدبیر؛

انسان کی خلقت میں مادی اور معنوی پہلو اور اسے بے انتہاء علم و دانش کے اوزار (حواس خمسہ) سے نوازنا؛

موت اور اس کے بعد کا عالم؛

مومنین کو جنہ الماوی اور فاسقین کو جہنم کے عذاب کی بشارت؛

بنی‌اسرائیل اور گذشتہ امتوں کی مختصر تاریخ؛

توحید اور لجوج دشمنوں کی تہدید۔

خلاصہ 

سورہ سجدہ مکی ہے، 30 آیات اور 3 رکوع ہیں، ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 75 ہے۔اکیسویں پارہ کے چودھویں رکوع سے شروع ہو کر سولہویں رکوع تک ہے آیت 15 میں سجدہ کے مضمون کی مناسبت سے ہی نام قرار دیاگیا۔یہ قیام مکہ کے متوسط دور میں نازل ہوئی جب ابھی ظلم و جبر میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔سورت کا موضوع، توحید، آخرت اور رسالت کے متعلق شبہات کو رفع کرنا اور تینوں حقیقتوں کی دعوت دینا ہے۔

منکرین سبق حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دی گئیں اور وہ ان لوگوں کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں۔اللہ ہی بارش کرتا ہے۔کھیتی کو سیراب کر کے تیار کرتا ہے ،تو اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیں کہ اس دن نہ تو تمہارا عقیدہ کام دیگا اور نہ تمہیں کوئی مہلت ملے گی۔آپ ایسے لوگوں سے منہ پھیرلیں۔انہیں پتہ چل جائیگا کہ عذاب کب آتا ہے

ماخوذ
تفسیر ابن عباس
بیان القرآن
ہدایت القرآن
صفوۃ التفاسیر
کمالین

امتیاز ندوی۔۔۔

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔