نام: سورۂ سبا ( ایک قوم )
ترتیب کتابت:34
پارہ :22
ترتیب نزول:58
مکی/ مدنی:مکی
رکوع: 6
عددآیات:54
کلمات :833
حروف:3596
وجہ تسمیہ : آیت ۱۵ میں قوم سبا کا ذکر ہوا ہے اور اس مناسبت سے اس سورہ کا نام سبا ہے۔
تعارف : یہ سورہ مکی ہے۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کائنات میں اللہ ہی کی ذات ہے جو خوبیوں اور کمالات سے متصف ہے اس لیے شکر اور تعریف کا مستحق وہی ہے اور اللہ کے شکر کی واحد صورت یہ ہے کہ توحید اور آخرت پر ایمان لایا جائے
زمانۂ نزول
زمانہ نزول کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں البتہ انداز بیاں سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو وہ مکہ کا دور متوسط ہے یا دور اول۔ اور اگر دور متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئي تھی اور ابھی صرف تضحیک و استہزاء، افواہی جنگ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی
مضامین
عقائد توحید، نبوت اور معاد سے بحث کرتے ہوئے ان کے منکرین اور ان کے بارے میں شبہات اور اعتراضات کرنے والوں کی سزا سے متعلق گفتگو اس کے بعد ان شبہات کو دور کرنے کیلئے حکمت، موعظہ اور مجادلہ کا راستہ اختیار کرنا اور منکرین کی وہ خامت وعاقبت کے بیان پر سورت کا اختتام اس سورت میں سب سے زیادہ معاد پر تاکید ہوتی ہے اسی لئے سورت کی ابتداء اور انتہاء دونوں میں اس مسئلے سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔
اس سورت میں ان کے علاوہ بعض فرعی موضوعات پر بھی بحث ہوئی ہے جو درج ذیل ہیں:
خدا کی صفات اور کائنات میں میں خدا کی نشانیاں؛
قیامت کے دن مستضعفین اور مستکبرین کا مناظرہ؛
حضرت داؤد جیسے گذشتہ انبیاء کے بعض معجزات؛
حضرت سلیمان کی داستان کے ضمن میں شاکرین اور کافرین کا انجام؛
قوم سبأ کی داستان اور ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کے باغات میں آنے والا سیلاب(سیل عرم) جس نے سب کچھ ان سے چھین لیا
خدا کے بعض نعمتوں کا بیان
غور و فکر، ایمان اور عمل صالح کی دعوت
معاد کے بارے میں مشرکین کے تصورات اور ان کے جوابات
منکروں کی تصورات۔۔۔۔
پہلا تصور؛ آیہ ۱- ۶
قیامت ہونا محال ہے
دوسرا تصور؛ آیہ ۷ - ۲۱
مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں پیغمبر کی باتیں صحیح نہ ہونا
تیسرا تصور؛ آیہ ۲۲ - ۲۸
اللہ کے شریک، کافروں پر عذاب ہونے سے مانع ہونگے
چوتھا تصور؛ آیہ ۲۹ - ۳۰
وقت معین ہونے کی وجہ سے قیامت برپا نہ ہونا
پانچواں تصور؛ آیہ ۳۱ - ۳۳
معاد کے بارے میں قرآنی باتیں صحیح نہ ہونا
چھٹا تصور؛ آیہ ۳۴ - ۳۹
مالداروں پر عذاب نہ ہونا
ساتواں تصور؛ آیہ ۴۰ - ۴۲
فرشتوں کے ذریعے مشرکوں کی شفاعت
آٹھواں تصور؛ آیہ ۴۳ - ۵۴
معاد کے بارے میں پیغمبر کی باتیں جعلی ہیں
جواب وہ خلاصہ آیات
آیہ ۱ - ۲ : قدرت خدا برای برپایی قیامت
آیہ ۳ : قیامت پر اللہ کا علم
آیہ ۴ - ۶: قیامت میں مؤمنوں کواجراورکافروں کو سزا
آیہ ۷- ۹ : قدرت خدا بر ہلاکت کافران
آیہ ۱۰ - ۲۱ : شاکروں کو اجر اور کافروں کے سزا دینے کے لیے قیامت کی ضرورت
آیہ ۲۲ - ۲۳ : اللہ کے جعلی شریک کا دنیا کی مدیریت میں کوئی کردار نہیں
آیہ ۲۴ : تمام انسانوں کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے
آیہ ۲۵ - ۲۶ : قیامت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا صلہ ملنا
آیہ ۲۷ - ۲۸ : اللہ کے جعلی شریکوں کا عبادت کے لائق نہ ہونا
آیہ ۳۰ : قیامت اپنے وقت پر برپا ہوگی
آیہ ۳۱ - ۳۳ : قرآن سے انکار اور باطل رہبروں کی پیروی پر قیامت میں کافروں کی ندامت
آیہ ۳۴ - ۳۸ : ہر مال اللہ کے درگاہ سے تقرب کی نشانی نہیں
آیہ ۳۹ : انفاق کے ذریعے اللہ کے نزدیک ہوجاؤ
آیہ ۴۰ -۴۲ : قیامت میں فرشتوں کا مشرکوں سے برائت
آیہ ۴۳ : پیغمبر پر مشرکوں کی تہمتیں
آیہ ۴۴ - ۴۵ : کافروں کے پاس پیغمبر کی مخالفت پر کوئی دلیل نہیں
آیہ ۴۶ : پیغمبر کی ذمہ داری صرف ڈرانا ہے
آیہ ۴۷ : پیغمبر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ہے
آیہ ۴۸ - ۴۹ : پیغمبر کی ہر بات حق ہے
آیہ ۵۰ : پیغمبر وحی الہی کا تابع ہے
آیہ ۵۱ - ۵۴ : پیغمبر پر ایمان لے آؤ تاکہ عذاب سے نجات ملے
ماخوذ۔۔۔۔
(١) کمالین
(٢) صفوۃالتفاسیر
(٣) تفسیر ابن عباس
(٤) تفسیرِ مظہری
(٥) توضیح القرآن
(٦) ہدایت القرآن
(٧) تفہیم القرآن
امتیاز ندوی۔۔۔۔۔۔۔











Mash Allah
Mufassir Imtiaz nadwi
Sahab Khairiat se hai