نماز پڑھنے کا طریقہ
تکبیر
تحریمہ نمازی کو چاہئے کہ پاک صاف ہو کر تمام ترتقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے
اچھی طرح وضو کرکے مصلی پر کھڑا ہو اور پھر نماز کی نیت مثلا ظہر کی نماز پڑھنے
لگا ہو تو یوں کہے : ’’چار رکعت نماز فرض ظہر یا سنت، بندگی اللہ تعالی کی، منہ
طرف قبلہ شریف‘‘ (اگر جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہو رہا ہو تو پھر یوں کہے پیچھے
اس امام کے) اللہ اکبر۔ یوں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے
کانوں کی لوؤں سے لگائے اور پھر ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھے کہ بایاں
ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہو اور اس طرح پکڑے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی
انگلی کے ساتھ بائیں ہاتھ کی کلائی کے اردگرد حلقہ بنائے۔ دیگر ارکان نماز کو حسب
ذیل طریقے سے ادا کرے۔
2۔
ثناء
سُبْحَانَکَ
اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا اِلٰهَ
غَيْرُکْ.
پاک
ہے تو اے اللہ اور تو ہی حمد کے لائق ہے۔ تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بہت
بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
جماعت
کی صورت میں اس کے بعد مقتدی خاموش کھڑا ہو جائے۔ جبکہ اکیلے نماز پڑھنے کی صورت
میں نمازی اور جماعت کرواتے ہوئے امام ثناء کے بعد پہلے تعوذ و تسمیہ اور پھر
فاتحہ پڑھے۔
3۔
تعوذ :
اَعُوْذُ
بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
’’میں
اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے‘‘
4۔
تسمیہ :
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
’’اللہ
کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔‘‘
5۔
فاتحہ :
الْحَمْدُ
لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ
نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ
عَلَيْهِمْO غَيْرِ
الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO آمِيْن
سب
خوبیاں اللّٰہ کو جو مالک سارے جہان والوں کابہت مہربان رحمت والا روزِ جزاء کا مالک ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی
سے مدد چاہیں ہم کو سیدھا راستہ
چلا راستہ ان کا جن پر
تو نے احسان کیا نہ ان کا جن پر
غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا
فاتحہ
کے بعد امام اور مقتدی دونوں آہستہ آہستہ آواز سے ’’آمین‘‘ کہیں جس کا معنی ہے
’’الٰہی قبول فرما۔‘‘
6۔
سورۃ کا ملانا
کم
از کم تین آیات یا تین کے برابر ایک آیت کا تلاوت کرنا واجب ہے۔ سورہ فاتحہ کے بعد
قرآن مجید کی کوئی سورت جو آپ کو اچھی طرح یاد ہے تلاوت کریں۔ جیسے سورہ
وَالْعَصْرِ
( 1 )
عصر
کی قسم
إِنَّ
الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ( 2 )
کہ
انسان نقصان میں ہے
إِلَّا
الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ
وَتَوَاصَوْا
بِالصَّبْرِ ( 3 )
مگر
وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور
آپس
میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
یا
سورہ اخلاص وغیرہ
قُلْ
هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ( 1 )
کہو
کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
اللَّهُ
الصَّمَدُ ( 2 )
معبود
برحق جو بےنیاز ہے
لَمْ
يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ( 3 )
نہ
کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
وَلَمْ
يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ( 4 )
اور
کوئی اس کا ہمسر نہیں
7۔
رکوع :
تلاوت
کے بعد رکوع کرے جس میں تسبیح ’’سبحان ربی العظیم ‘‘ (پاک ہے وہ رب بڑی عظمت والا)
تین مرتبہ پڑھے۔
8۔
قومہ :
رکوع
کے بعد کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں۔
رکوع
میں تسبیح پڑھنے کے بعد سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه (اللہ نے اس کی سن لی جس نے
اس کی تعریف کی) کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کے بعد
اللّٰهُ اَکْبَرُ کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے۔
9۔
سجدہ :
سجدہ
کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ
زمین پر رکھے پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر رکھے اور خوب جمائے۔ چہرہ دونوں
ہاتھوں کے درمیان رکھے اس طرح کہ مرد دونوں بازؤوں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں
سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے اور اس کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کے رخ زمین
پر لگی ہوئی ہوں اور کہنیاں زمین پر لگی ہوئی نہ ہوں اور کم ازکم تین بار یہ تسبیح
پڑھے۔
سُبْحَانَ
رَبِّيَ الاَعْلٰی
(پاک
ہے میرا پروردگار بہت بلند)
10۔
جلسہ :
پھر
اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے سے اس طرح اٹھے کہ پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ
زمین پر سے اٹھائے اور دایاں قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر اس پر بیٹھے یوں کہ
دائیں پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف ہوں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر گھٹنوں کے
قریب اس طرح رکھے کہ ان کی انگلیوں کا رخ بھی قبلہ کی طرف ہو اور دونوں سجدوں کے درمیان
قدرے وقفہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کہے اور دوسرے سجدہ میں چلا جائے۔ (دوسرے سجدے سے
اُٹھ کر اُسی طرح دوسری رکعت ادا کرے، دُوسری رکعت مکمل کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔)
11۔
قعدہ :
اگر
تین یا چار رکعت والی نماز ہو تو دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اطمینان
سے بیٹھ کر تشہد پڑھے۔
12۔
تشہد :
اَلتَّحِيَّاتُ
ﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِیُّ
وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰهِ
الصَّالِحِيْنَO
اَشْهَدُ
اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ
وَرَسُوْلُه.
’’تمام
زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کیلئے ہیں۔ سلام ہو تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک
بندوں پر گواہی دیتا ہوں میں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ گواہی دیتا
ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے عبد خاص اور رسول ہیں۔‘‘
آخری
رکعت میں تشہد کے بعد درود ابراہیمی بھی پڑھا جائے گا۔
درود
شریف
اَللّٰهُمَّ
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی
اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ
بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی
اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ.
’’اے
اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
رحمتیں نازل کر جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر
رحمتیں نازل کیں۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔
اے
اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما اور آل محمد صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل
ابراہیم علیہ السلام پر برکتیں نازل کیں بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا
ہے۔‘‘
دعائے
ماثورہ
درود
شریف کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اللَّهُمَّ
إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ
فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّك أَنْتَ الْغَفُورُ
الرَّحِيمُ"
(یا
اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اور گناہوں کو توں ہی بخشنے والا ہے،
توں میرے گناہوں کو اپنی طرف سے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے
والا، اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔
یا
یہ پڑھیں
رَبِّ
اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا
رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ
الْحِسَابِ.
’’اے
اللہ! مجھے نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو۔ اے ہمارے رب! ہماری دعا قبول
فرما، اے ہمارے رب! مجھ کو بخش دے اور میرے والدین اور تمام اہل ایمان کو بخش دے
اس روز جب عملوں کا حساب ہونے لگے۔‘‘
13۔
سلام
نماز
سے نکلنے کے لئے دعائے ماثورہ کے بعد پہلے دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے السلام
علیکم ورحمۃ اللہ پھر بائیں جانب چہرہ کرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے
اس
طرح نماز مکمل ہو جائے گی۔
صلوۃ
الوتر
نماز
عشاء کے فرضوں کے بعد سنن و نوافل ادا کرنے کے بعد تین رکعت وتر واجب ادا کرے۔
نماز
وتر کی نیت بھی عام نمازوں کی طرح کی جاتی ہے اور جس طرح دیگر نمازیں ادا کی جاتی
ہیں اسی طرح سے وتر بھی ادا کرے گا لیکن وتروں اور دیگر نمازوں میں فرق یہ ہے کہ
وتروں کی نماز میں پہلی دو رکعت حسب قاعدہ ادا کرنے کے بعد تشہد پڑھ کر تیسری رکعت
کے لئے کھڑا ہو جائے اور قیام میں فاتحہ و سورۃ پڑھنے کے بعد رکوع جانے سے پہلے
تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے اور پھر دعائے
قنوت پڑھے۔
دعائے
قنوت
اَللّٰهُمَّ
اِنَّا نَسْتَعِيْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُومِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَيْکَ
وَنُثْنِی عَلَيْکَ الْخَيْرَ وَنَشْکُرُکَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ
مَنْ يَّفْجُرُک اَللّٰهُمَّ اِياکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ
وَاِلَيْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ
عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ.
’’اے
اللہ! ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے
ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور تیرے نافرمان سے علیحدگی
اختیار کرتے ہیں
۔
اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لئے نماز پڑھتے ہیں اور تجھے سجدے
کرتے ہیں اور تیری طرف کوشش کرتے ہیں اور ہم حاضری دیتے ہیں اور تیری رحمت کے
امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا
ہے۔‘‘
دعائے
قنوت پڑھنے کے بعد رکوع کرے اور پھر حسب سابق التحیات اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔
جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو اسے چاہئے کہ وہ دعا کو یاد کرے اور جب تک دعا یاد نہ ہو
اس کی جگہ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً
وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. پڑھ لیا کرے یا پھر تین مرتبہ اَللّٰهُمَّ
اغْفِرْلَنَا ’’اے اللہ مجھے بخش دے پڑھ لیا کرے۔
قُنُوتِ نَازِلہ
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، الّٰهُمَّ اَعِزّ الِاسْلَامَ والمُسْلِمِيْنَ واَذِّل الشِرْكَ والمُشْرِكِيْنَ واَهْلِكِ الكَفَرَةَ والمُبْتَدِعَ واليَهُودَ والنَّصَارٰى والمُنَافِقِينَ والمُشْرِكِيْنَ،وَقَاتِل اَعْداَءك اَعدَاءَ الدِّين، الَّذِیْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ،ویُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ.
اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ،وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَمَزِّق جَمْعَھُمْ وفُلَّ حَدّهم وَنَكِّسْ اَعْلَامَهُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ،وَالجُبُنَ،الّٰهُمّ خُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ وصَلَّى الله تَعَالىٰ عَلَى النَبِيّ الكَرِيْم
قنوت نازلہ ثانی
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَالْحِکْمَۃَ،وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِکَ، وَأَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوْا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ؛ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَۃَ وَالْمُشْرِکِیْنََ وَمَنْ حَذَا حَذْوَھُمْ مِنَ الْأَحْزَابِ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ مِنَ الطُّلَّابِ وَالْعُلَمَآء وَالْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
ترجمہ: یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائیں، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے۔ اے ہمارے رب! آپ بابرکت ہیںاور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں۔ اے اللہ! ہمارے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرما دے، اور اُن کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرمادے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے، اور اُن کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے، اور ان کو اپنے رسول ا کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے اُنہیں کہ شکر کریں تیری اس نعمت کا جو تو نے اُنہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرے اس عہد کو جو تو نے ان سے لیا ہے،اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما، اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیںاور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں،اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علمائ، طلبہ اور عامۃ المسلمین کو۔ اے اللہ ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کر دے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے،اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے ، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے، جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔
قُنُوتِ نَازِلہ
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، الّٰهُمَّ اَعِزّ الِاسْلَامَ والمُسْلِمِيْنَ واَذِّل الشِرْكَ والمُشْرِكِيْنَ واَهْلِكِ الكَفَرَةَ والمُبْتَدِعَ واليَهُودَ والنَّصَارٰى والمُنَافِقِينَ والمُشْرِكِيْنَ،وَقَاتِل اَعْداَءك اَعدَاءَ الدِّين، الَّذِیْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ،ویُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ.
اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ،وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَمَزِّق جَمْعَھُمْ وفُلَّ حَدّهم وَنَكِّسْ اَعْلَامَهُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ،وَالجُبُنَ،الّٰهُمّ خُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ وصَلَّى الله تَعَالىٰ عَلَى النَبِيّ الكَرِيْم
قنوت نازلہ ثانی
اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَالْحِکْمَۃَ،وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِکَ، وَأَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوْا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ؛ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَۃَ وَالْمُشْرِکِیْنََ وَمَنْ حَذَا حَذْوَھُمْ مِنَ الْأَحْزَابِ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ مِنَ الطُّلَّابِ وَالْعُلَمَآء وَالْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھُمْ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
ترجمہ: یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائیں، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے۔ اے ہمارے رب! آپ بابرکت ہیںاور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں۔ اے اللہ! ہمارے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرما دے، اور اُن کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرمادے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے، اور اُن کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے، اور ان کو اپنے رسول ا کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے اُنہیں کہ شکر کریں تیری اس نعمت کا جو تو نے اُنہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرے اس عہد کو جو تو نے ان سے لیا ہے،اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما، اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیںاور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں،اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علمائ، طلبہ اور عامۃ المسلمین کو۔ اے اللہ ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کر دے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے،اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے ، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے، جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔
نمازکی
اکیاون سنتیں مدلل
قیام
کی 11 سنتیں
1)
تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سر کو پست نہ کرنا(طحاوی علی المراقی
ج1ص302)
2)
دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف
رکھنا(طحاوی علی المراقی ج1ص357,شامی باب صفة الصلاة ص205ج2)
تنبیہ:-
بعض فقہاءنےچار انگل کے فاصلہ کومستحب لکھاہے لیکن فقہ میں مستحب کااطلاق سنت
پراور سنت کااطلاق مستحب پرہوتاہےـ
{کذافی
الشامی تجویز اطلاق اسم المستحب علی السنة وعکسه(ج3ص48)
3)
مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہونا.
فائدہ
:- مقتدی کی تکبیرتحریمہ اگر امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے ختم ہوگئ تو اقتداء
صحیح نہ ہوگی ـ(طحطاوی علی المراقی
ج1ص350)
4)
تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا(ابوداؤد باب رفع الیدین ج1ص105)
5)ہتھیلیوں
کوقبلہ کی طرف رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص1ج350,شامی باب صفة الصلاة ص202,203ج1)
6)
انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھنا یعنی زیادہ نہ کھلی رکھنا اور نہ زیادہ بند(مراقی
مع الطحطاوی ص349ج1,شامی باب صفةالصلاة ص171ج2)
7)
داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھنا(طحطاوی علی المراقی
ص351ـ352ج1)
8)
چھنگلیا اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر گٹے کو پکڑنا(طحطاوی فصل فی بیان سننھاص352ج1)
9)درمیانی
تین انگلیوں کوکلائ پررکھنا(طحطاوی ص352ج1)
10)
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا(شامی باب صفة الصلاة ص187ج2)
11)
ثناء پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص351ج1)
قراءت کی سات سنتیں
1)
تعوذ یعنی اعوذ باللّٰه پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص353ج1)
2)
تسمیہ یعنی ہررکعت کے شروع میں بسم اللّٰه پڑھنا(ایضا)
3)
چُپکے سے آمین کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ج1)
4)
فجر اور ظہر میں طوالِ مفصل یعنی سورہ حجرات سے بروج تک ،عصر وعشاء اوساط مفصل
یعنی سورہ بروج سے لم یکن تک اور مغرب میں قصار مفصل یعنی سورہ لم یکن سے سورہ ناس
تک کی سورتیں پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ج1ص357,358)
5)
فجر کی پہلی رکعت کو طویل کرنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
6)
ثناء, تعوذ, تسمیہ اورآمین کوآہستہ کہنا(طحطاوی علی المراقی ص355ـ356 ج1)
7)
فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا(طحطاوی علی المراقی ص368ج1)
رکوع کی آٹھ سنتیں
1)
رکوع کی تکبیر کہنا(طحطاوی علی المراقی ص360ج1)
2)
رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا(طحطاوی علی المراقی ص361ج1)
3)گھٹنوں
کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص362ج1)
4)
پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا(شامی 197ج2)
5)
پیٹھ کو بچھا دینا(شامی ص196ج2)
6)
سر اور سُرین کو برابر رکھنا(شامی ص196ـ197ج2)
7)
رکوع میں کم از کم تین بار سبحان ربی العظیم کہنا(طحطاوی ص144)
8)
رکوع سے اٹھنے میں امام کو (سمیع اللّٰه لمن حمدہ) بآوازبلندکہنااور مقتدی کو
(ربنا لک الحمد) اور منفرد کو دونوں کہنا(آہستہ سے)اوررکوع کےبعداطمینان
سےسیدھاکھڑاہونا(شامی ص201ج2)
سجدہ کی بارہ سنتیں
1)
سجدہ کی تکبیر کہنا(شامی ص202ج2)
2)
سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
3)
پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا(طحطاوی علی المراقی )
4)
پھر ناک رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی363ج1)
5)
پھر پیشانی رکھنا(شامی ص203ج2,طحطاوی ص363ج1)
6)
دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کرنا(طحطاوی علی المراقی )
7)
سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
8)
پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
9)
کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا(طحطاوی علی المراقی ص365ج1)
10)
سجدہ میں کم از کم تین بار سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنا(ہدایہ جلدنمبر1صفحہ109 )
11)
سجدہ سے اٹھنے کی تکبیر کہنا( شامی ص210,211ج2 )
12)
سجدہ سے اٹھنے سے پہلے ، پیشانی ، پھر ناک ، پھر ہاتھوں کو، پھر گھٹنوں کو اٹھانا
اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا(طحطاوی علی المراقی ص366ج1)
قعدہ کی 13 سنتیں
1)
دائیں پیر کو کھڑارکھنااور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھنا اور پیر کی انگلیوں
کو قبلہ کی طرف رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
2)دونوں
ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا.(طحطاوی علی المراقی ص366 ج 1)
3)
تشہد میں (ان لا الٰه) پر شہادت کی انگلی کو اٹھانا اور *الا اللّٰه* پر جھکا
دینا.(طحطاوی علی المراقی ص367 ج1 )
4)
قعدہ آخیرہ میں درود شریف پڑھنا. (طحطاوی علی المراقی ص369 ج1 )
5)
درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن اور حدیث کے مشابہ ہوں
پرھنا.(طحطاوی علی المراقی ص371 ج1 )
6)
دونوں طرف سلام پڑھنا (طحطاوی علی المراقی ص 373ج1 )
7)
سلام کی داہنی طرف سے ابتداء کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص373 ج1 )
8)
امام کو مقتدیوں ، فر شتوں اور صالح جنات کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص
373-374ج 1)
9)
مقتدی کو امام وفر شتوں اور صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت
کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
10)
منفرد کو صرف فر شتوں کی نیت کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1 )
11)
مقتدی کو امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج 1)
12)
دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1
)
مسبوق
کو امام کے فارغ ہو نے کا انتظار کرنا.(طحطاوی علی المراقی ص375 ج1)
از:پیارے
نبی ﷺ کی پیاری سنتیں
مصنف:عارف
بالله حضرت مولاناشاہ حکیم محمداختر صاحب نورالله مرقدہ











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔