
ابلیس لعین کے شیطانی کارنامے
شیطان کے مورچے
شیطان مؤمنوں کو گمراہ کرنے کے لئے 7 مورچوں پر
بیٹھتا ہے ۔ پہلا مورچہ کفر کا ہے۔ پس اگر مؤمن کفر سے محفوظ رہا تو وہ بدعت کے
مورچے پر آکر بیٹھ جاتا ہے ۔ پھر کبائر کے مورچے پر آکر بیٹھتا ہے۔ پھر صغائر کے
مورچہ پر آتا ہے ۔ پس اگر موءمن پر ان مورچوں سے شیطان ناکام رہتا ہے تو وہ مباحات
کا مورچہ سنبھال لیتا ہے ۔ اور مؤمن کو طاعت الہٰی سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔
اگر اس مورچہ پر بھی ناکامی رہتی ہے تو مؤمن کو غیر افضل اعمال کی ترغیب دیتا ہے ۔
اس مورچہ پر اگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو وہ سب سے آخری مورچہ سنبھالتا ہے
اور وہ ہے بدکار دشمنوں کو ایذا رسانی پر لگا دینا ۔
شیطان انسان کے ساتھ
ہرکام میں شریک رہتا ہے
[احادیث کی روشنی میں
جانیئے]
جو لوگ ذکر الہٰی سے غافل رہتے ہیں شیطان انہی کے
پیچھے لگا رہتا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے__: جو شخص خدا کے ذکر سے اعراض کرتا
ہے ہم اس کے پیچھے شیطان لگا دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شیطان
تمہارے ساتھ ہر کام میں شریک رہتا ہے ۔
__شیطان لوگوں کا کھانا چرا کر کھا جاتا ہے
۔
__شیطان بھی انسان کےساتھ ہی کھاتا ہے اور رات کو
ساتھ ہی سوتا ہے ۔
__جوشخص صبح کو دیر تک سوتا ہے شیطان اس کے کان
میں پیشاب کردیتا ہے ۔
شیطان میاں بیوی کے خاص تعلق میں بھی شریک ہوتا ہے
۔ حدیث شریف میں ہے: "جب تم اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرو تو، بسم اللہ
اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان مارزقنا - پڑھ لیا کرو، اللہ تعالٰی کو اگر بچہ
پیدا کرنا منظور ہوگا تو اس کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا"۔
ہر انسان پر ایک شیطان من جانب الہٰی مسلط رہتا ہے
۔
پیدائش کے بعد بچہ کو شیطان ہاتھ لگاتا ہے جس سے
بچہ رونے لگتا ہے ہاں حضرت مریم اور اس کے بیٹے علیھم السلام کو شیطان نے نہیں
چھوا تھا قرآن میں مذکور ہے__: انی اعیذھابك وذریتھامن الشیطان الرجیم ۔
شیطان رات کو لوگوں کے ناک کے نتھنوں میں سویا
کرتا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ __: "جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اس کو وضو کرتے
ہوئے 3 بار ناک سنکنی چاہیئے کیونکہ ناک کے نتھنوں پر شیطان رات گزارتا ہے ۔
فرمایا جمائی شیطان کے اثر سے آتی ہے، جمائی آئے
تو جس قدر جلد ممکن ہو روکنے کی کوشش کرو۔
کچھ دھوپ اور کچھ چھاوں میں بیٹھنے سے نبی علیہ
السلام نے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ طریقہ شیطان کے بیٹھنے کا ہے۔
گھنٹی اور گھنگرو کے ساتھ شیطان رہتا ہے۔ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر گھنگرو کے ساتھ ایک شیطان رہتا ہے۔
تنہا یا دو آدمیوں کا سفر نبی علیہ السلام نے منع
فرمایا ہے ، اور فرمایا ، اکیلا مسافر بھی شیطان ہے، دو مسافر بھی شیطان ہیں ، تین
مسافر البتہ جماعت ہیں ۔
شیطان مرتے وقت بھی لوگوں کو ورغلاتا ہے ۔
بُرے بُرے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ، شیطان
کے شر سے خدا سے پناہ مانگواور کسی کے سامنے اس خواب کا تذکرہ نہ کرو۔
شیطان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شبیہ نہیں بن
سکتا ۔
شیطان انبیاء ، کتب سماوی، فرشتے اور بادل کی صورت
میں خواب میں نظر نہیں آتا ۔
بازار میں شیاطین کا ہجوم رہتا ہے ۔ نبی علیہ
السلام بازار میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے__:اللھم انی اعوذ بك من شرھذہ السوق
وشرما فیھا واعوذبك ان اصیب فیھا صفقة خاسرۃ و یمینا فاجرۃ -
شیطان راستوں میں بیٹھا رہتا ہے ۔
شیطان پانی پر تخت نشین ہوتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا ہے ابلیس پانی پر تخت نشین ہوکر اپنی فوج چاروں طرف منتشر
کردیتا ہے ۔ جس وقت شیطان کو اس کے لشکری اپنے اپنے کارنامے سناتے ہیں، تو وہ اُن
کارناموں سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جب کوئی کہتا ہے کہ، میں نے میاں بیوی یا گھروالوں
کے درمیان تفریق کرا دی، تو اُسے نزدیک کرتا ہے۔
سوکر اٹھنے کے بعد 3 دفعہ ہاتھ دھوئے بغیر کسی
برتن میں ڈالنے سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے ۔
سوتے وقت شیطان سے بچنے کی ہدایت کی ہے ۔
ہر شخص کے مکان کے دروازے پر شیطان بیٹھا رہتا ہے،
پس جو اللہ کا نام لے کر جائز مقصد سے گھر سے نکلتا ہے، فرشتے کے سایہ میں گھر کی
واپسی تک رہتا ہے، بصورت دیگرشیطان ساتھ رہتا ہے ۔
بیضاوی نام کا شیطان اولیائے واصلین کو روشنی کی
صورت ظاہر ہوکر گمراہ کرتا ہے ۔ جسے دیکھ کر وہ دھوکہ سے نورالہٰی سمجھ بیٹھتا ہے،
حالانکہ درحقیقت وہ نور شیطانی ہوتا ہے ۔
وسوسہ دل میں آتے ہی استعاذہ پڑھنا چاہیئے ۔ اگر
وسوسہ حق کی تکذیب یا شر سے متعلق ہو تو اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پھر3 دفعہ
بائیں طرف دھتکار کر اور سورۃ اخلاص پڑھنا چاہیئے، اور اگر وسوسہ فرشتے کی طرف سے
حق کی اطاعت اور نیکی سے متعلق ہو، تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔
__شیطان وضو کرتے وقت وسوسے ڈالتا ہے ۔
__شیطان نماز میں خلل انداز ہوتا ہے ۔
__فرشتے وسواس پر مطلع ہوجاتے ہیں ۔
__شیطان خون کی طرح انسانی جسم میں دوڑتا ہے ۔
شیطان اذان کی آواز سُن کر بھاگ جاتا ہے ۔ وجہ یہ
ہے کہ قیامت کے دن گواہی نہ دینی پڑے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
قیامت کے دن 'جن' ، انسان، اور زمین کی ہر وہ چیز جو اذان سنے گی، گواہی
دےگی۔
عرفہ کی شب ابلیس ماتم ہوتا ہے، کیونکہ محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی دعائیں اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی تھیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش میں شیطان
لعین نے بوڑھے آدمی کی شکل میں متشکل ہو کر قتل کا مشورہ اور تدبیر بتائی تھی
۔
غزوہ احد میں شیطان لعین نے اعلان کیا تھا قُتِلَ
مُحَمّد یعنی محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] قتل ہوگئے ۔
شیطان 4 مرتبہ خوب کوکیں مار کر رویا تھا ، [1]جس
وقت اس کے گلے میں لعنت کا طوق پڑا تھا [2]جس وقت زمین پر اتارا گیا
[3]جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے
[4]جس وقت سورۃ فاتحہ نازل ہوئی۔
جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ،
اس وقت شیطان اس قدر رویا کہ اس کی فوج جمع ہوگئی ۔ شیطان نے اپنی فوج سے کہا، اب
تم ناامید ہو جاو، محمد کی امت مرتد نہیں ہوسکتی، ہاں ان کو دین کی باتوں میں فتنہ
میں ڈالو، شعر گوئی اور نوحہ کو رواج دو۔
شیطان عالم کی موت سے بہت خوش ہوتا ہے۔
شیاطین 3 باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں،
[1]اُس مسلمان سےجس نےکسی مسلمان کاقتل کردیاہو
[2]جس شخص کا خاتمہ کفر پر ہو
[3]اُس دل سے جسے فقرو افلاس کا خوف ہو۔
کن کن مواقع میں شیطان سے پناہ مانگنی چاہیئے،
[1]قراءت قرآن کے وقت
[2]جس وقت مسلسل وسوسے آرہے ہوں
[3]غصہ کے وقتح
[4]پیشاب، وغیرہ کے وقت ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ جب بنی
آدم سجدہ کی آیت پڑھ کر خدا کو سجدہ کرتا ہے تو شیطان اس سے روتا ہوا جدا ہوجاتا
ہے اور کہتا ہے، ہائے ہائے بنی آدم کو سجدہ کا حکم ملا، اس نے کرلیا، جنتی ہوگیا،
مجھے خدا نےسجدہ کا حکم دیا، میں نے انکارکردیا، دوزخی بن گیا۔
شیطان حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اتنا ڈرتا
تھا کہ جہاں عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوتے وہاں سے یہ بھاگ جاتا تھا، کئی موقعوں
پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ منظر دیکھ کر متبسم بھی ہوئے ہیں۔
ایک روز مؤمن کے شیطان اور کافر کے شیطان کی آپس مین
ملاقات ہوئی ۔ مومن کا شیطان دبلا پتلا تھا اور کافر کا شیطان موٹا تازہ ۔ تو کافر
کے شیطان نے پوچھا کہ کیا بات تو اتنا دبلا پتلا کیوں ہے ۔ موءمن کے شیطان نے جواب
دیا، کیا کروں وہ گھر میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہے ، کھانا بسم اللہ پڑھ کر
کھا تا ہے، پانی بسم اللہ پڑھ کر پیتا ہے۔ کافر کے شیطان نے کہا، کہ میں اپنے
انسان کے ساتھ خوب کھاتا پیتا ہوں ۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ ایک سفر میں مجھ پر گرمی کی وجہ سے پیاس کا غلبہ ہوا ۔ آسمان پر ایک کالے
رنگ کا بادل چھا گیا ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی ، اتنے میں آواز آئی:
"یا عبد القادر انا ربك"
تو میں نے جواب دیا:
انت اللہ الذی لا اله الا ھوا
اس کے بعد آواز آئی:
"یاعبدالقادراناربك وقداحللت لك ما حرمت
علیك"
تو میں نے جواب دیا:
کذبت بل انت شیطان
یہ سنتے ہی وہ بادل چھٹ گیا ۔ میرے پیچھے سے آواز
آئی، اے عبدالقادر آج تم اپنی خدا داد سمجھ سے نجات پاگئے، تم سے پہلے میں 70
آدمیوں کو اس طرح گمراہ کرچکا ہوں۔
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
{قرآن و حدیث کی روشنی میں} جنات اورسحروطلسمات کے
پراسرار حالات کے متعلق ہے-










0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔